اقوامِ متحدہ نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ ایران اسرائیل جنگ کو مشرقِ وسطیٰ میں مہاجرین کے ایک نئے بحران کا باعث نہیں بننے دیا جانا چاہیے کیونکہ ایک بار لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں تو ان کی واپسی فوری ممکن نہیں ہوتی۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان حملوں کی شدت نے پہلے ہی بعض علاقوں میں آبادی کی نقل مکانی کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تہران اور ایران کے دیگر حصوں سے لوگوں کی نقل مکانی کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اور کچھ افراد پڑوسی ممالک کی سرحدیں عبور کر چکے ہیں۔

اسرائیل پر حملوں کے باعث شہریوں نے ملک کے دیگر علاقوں اور بعض صورتوں میں بیرونِ ملک پناہ لینا شروع کر دی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین فلپو گرانڈی نے کہا کہیہ خطہ پہلے ہی جنگ، نقصان اور نقل مکانی کا بوجھ بارہا اٹھا چکا ہے۔ ہم مہاجرین کے کسی نئے بحران کو جنم لینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

ان کا کہنا تھا کہ کشیدگی میں کمی لانے کا یہی وقت ہے۔ جب لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو جائیں تو واپسی آسان نہیں ہوتی، اور اکثر اس کے نتائج نسلوں تک برقرار رہتے ہیں۔

ادھر اسرائیل نے ہفتے کے روز اعلان کیا ہے کہ اس نے ایران کے وسطی علاقوں میں میزائل ذخیرہ گاہوں اور لانچنگ سائٹس پر تازہ فضائی حملے کیے ہیں۔

ایران نے جوابی حملے کیے جن میں اسرائیلی حکام کے مطابق کم از کم 25 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کے مطابق ایران پہلے ہی دنیا میں سب سے زیادہ مہاجرین کی میزبانی کرنے والا ملک ہے، تقریباً 35 لاکھ افراد، جن میں اکثریت افغان مہاجرین کی ہے۔

ادارے نے خبردار کیا کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو ایران میں موجود یہ مہاجرین بھی نئی غیر یقینی صورتِ حال اور مزید مشکلات سے دوچار ہو سکتی ہے۔

یو این ایچ سی آر نے فوری طور پر جنگ بندی اور کشیدگی کے خاتمے کی اپیل کی ہے اور علاقائی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لوگوں کے تحفظ اور پناہ کی تلاش کے حق کا احترام کریں۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت کا کہنا ہے کہ ایران پر 13 جون سے شروع کئے گئے غیر معمولی حملوں کی لہر کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے، ایک الزام جس کی تہران سختی سے تردید کرتا ہے۔

اسرائیل نے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کے بارے میں ہمیشہ ابہام برقرار رکھا ہے، نہ کبھی اس کی موجودگی کی تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔ تاہم اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کے مطابق اسرائیل کے پاس 90 جوہری وار ہیڈز موجود ہیں۔