اداریہ

خیبر پختونخوا بجٹ

شائع June 20, 2025 اپ ڈیٹ June 20, 2025 11:51am

خیبرپختونخوا (کے پی کے) نے آئندہ مالی سال کیلئے 2119 ارب روپے کے بجٹ کا اعلان کیا ہے جس میں 157 ارب روپے کا متوقع سرپلس دکھایا گیا ہے — یہ رقم وفاق کی جانب سے صوبوں کے مجموعی 1217 ارب روپے کے فاضل بجٹ میں کے پی کے کے حصے (جو کہ 14.62 فیصد بنتا ہے) کے مطابق طے کی گئی رقم سے 15.8 ارب روپے کم ہے۔

چونکہ سندھ حکومت نے وفاقی حکومت کی جانب سے بجٹ میں دکھائے گئے 298 ارب روپے کے فاضل بجٹ کے برعکس 38 ارب روپے کے خسارے کا بجٹ پیش کیا ہے— جب کہ وہ وفاق میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی اہم اتحادی بھی ہے—تو ایسے میں کے پی کے حکومت کی جانب سے فاضل بجٹ پیش کرنا وفاقی حکومت کے لیے یقیناً ایک خوشگوار حیرت کا باعث بنا ہوگا۔

اس تناظر میں یہ بات خاص طور پر قابلِ توجہ ہے کہ سندھ حکومت نے وفاقی بجٹ میں وعدہ کی گئی مالی منتقلیوں کے حوالے سے سنگین تحفظات کا اظہار کیا ہے، کیونکہ عموماً وفاقی بجٹ میں ٹیکس اہداف غیر حقیقی ہوتے ہیں — جیسا کہ رواں مالی سال میں محصولات میں ایک کھرب روپے کی ممکنہ کمی کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

تاہم کے پی کے بجٹ مرتب کرنے والوں نے ایک مؤثر اور قابلِ تحسین اقدام اٹھاتے ہوئے ’فِسکل رسک اسٹیٹمنٹ‘ کے عنوان سے ایک دستاویز جاری کی، جس میں اُن مختلف عوامل کی تفصیل دی گئی ہے جو بجٹ کی آمدنی اور اخراجات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس فہرست میں شامل نکات درج ذیل ہیں:(i) عمومی معاشی خدشات جو جغرافیائی سیاسی کشیدگیوں سے وابستہ ہیں، بشمول ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات، جو تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ میں ممکنہ رکاوٹ کا سبب بن سکتے ہیں، اور یوں معاشی استحکام اور ترقی کے لیے خطرہ پیدا کرتے ہیں؛(ii) مخصوص مالی خطرات جو ایف بی آر کی جانب سے بجٹ میں طے کردہ ہدف سے کم ٹیکس وصولیوں سے متعلق ہیں، جس کے نتیجے میں خیبرپختونخوا کو ہونے والی وفاقی منتقلیاں بھی مقررہ بجٹ سے کم رہتی ہیں؛ یہ فرق مالی سال 2021-22 اور 2022-23 میں منفی 4 فیصد رہا جو 2023-24 میں بڑھ کر منفی 19 فیصد تک پہنچ گیا اور 2024-25 میں منفی 8.79 فیصد کی سطح پر ریکارڈ کیا گیا؛اور (iii) ساختی یا ادارہ جاتی خطرات۔

کے پی کے کا بقایا قرضہ پورٹ فولیو 6.41 فیصد بڑھ گیا جس کی وجوہات میں ایک جانب خالص وصولیوں (یعنی ادائیگی شدہ اصل زر کو نکال کر کی گئی وصولیاں) میں اضافہ شامل ہے اور دوسری جانب غیر ملکی زرمبادلہ کی شرح میں کمی جو 285 سے کم ہوکر 280 ہوگئی۔ اس تبدیلی کا مجموعی اوسط اثر منفی 1.75 فیصد رہا۔

تاہم یہ بجا طور پر نشاندہی کی گئی کہ صوبے کے غیر ملکی قرضے کے پورٹ فولیو کا ایک حصہ متغیر بین الاقوامی شرحِ سود کے انڈیکیٹرز سے منسلک ہے، جیسے کہ سیکیورڈ اوور نائٹ فنانسنگ ریٹ (ایس او ایف آر)، جاپانی ین ٹوکیو اوور نائٹ ایوریج ریٹ (ٹی او این اے)، اور یورو انٹربینک آفرڈ ریٹ، اگرچہ حالیہ رجحانات عالمی سطح پر شرحِ سود میں اضافے کی رفتار میں کمی یا وقفے کی نشاندہی کرتے ہیں تاہم مستقبل میں بڑے مرکزی بینکوں کی جانب سے مالیاتی سختی کی کسی بھی ممکنہ لہر سے قرضوں کی ادائیگی کی لاگت میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

بجٹ سے متعلق دو مزید مشاہدات قابلِ ذکر ہیں۔ اول آئندہ مالی سال کے لیے زرعی آمدن پر ٹیکس کی مد میں 130 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے جوکہ مالی سال 2024-25 کی نظرثانی شدہ تخمینوں کے مطابق حاصل شدہ رقم کے برابر ہے (جب کہ گزشتہ مالی سال کے بجٹ میں اس مد میں 114 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا تھا)۔ اس سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی شرط کے تحت یکم جولائی 2025 سے مؤثر اور یکم جنوری 2025 سے نافذ العمل قرار دیے گئے زرعی آمدن پر قانون سازی شدہ ٹیکس کے نفاذ کی عملی صورت کیا ہوگی؟

اور دوم پاکستان تحریکِ انصاف کے نمایاں منصوبے، انصاف صحت کارڈ پلس پروگرام کے لیے آئندہ مالی سال میں 41 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جب کہ اس کے تحت طبی سہولتوں کی فہرست میں بھی توسیع کی گئی ہے، جس میں جگر، گردے، بون میرو اور کان کے کوکلیئر ٹرانسپلانٹ/امپلانٹ سمیت متعلقہ امراض کا علاج بھی شامل کر دیا گیا ہے۔

کثیرالطرفہ اداروں کی ہدایت پر تیار کیا جانے والہ درمیانی مدت کی حکمتِ عملی کا پیپر وفاقی بجٹ میں حقیقی معنوں میں کوئی قدر نہیں بڑھاتا، کیونکہ یہ محض مستقبل کی ایک خواہشاتی فہرست پر مشتمل ہوتا ہے جسے اگر ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھا جائے تو اقتصادی ٹیم کے رہنما شاذ و نادر ہی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔

تاہم یہ سفارش کی جا سکتی ہے کہ وفاقی حکومت (اور تمام صوبائی حکومتیں بھی) ہر سال ایک مالیاتی خطرات پر مبنی بیان تیار کریں، کیونکہ یہ بجٹ میں ظاہر کی گئی آمدنی اور اخراجات کے تخمینوں کو درپیش عمومی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے ایک مفید اور دیرپا طریقہ ثابت ہو سکتا ہے — بالخصوص اس پس منظر میں کہ یہ تخمینے بدقسمتی سے اکثر اوقات حقیقت کے برعکس ثابت ہوتے ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025