غربت محض اعداد و شمار کی بحث نہیں
- ’’غربت محض ایک عدد نہیں جس پر اختلاف کیا جائے، بلکہ یہ ایک قومی ناکامی ہے جس کی اصلاح ضروری ہے۔‘‘
پاکستان کا انتہائی غربت کا شکار آبادی میں خطے کے 48 فیصد حصے پر مشتمل ہونا تشویشناک ہے، اسی طرح 2018-19 سے 2024-25 کے دوران ملک میں غربت کی شرح میں 6.4 فیصد پوائنٹس کا اضافہ بھی باعثِ تشویش ہے۔
پاکستان کی معاشی قیادت بظاہر عالمی بینک کے اس جائزے سے مطمئن نہیں، جس میں ملک کو خطے میں انتہائی غربت کے شکار افراد کی تعداد میں سب سے بڑا حصہ رکھنے والے ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کے جواب میں دلیل دی جا رہی ہے کہ غربت میں اضافہ ایک وسیع تر عالمی رجحان کا حصہ ہے۔ عالمی وبا، مہنگائی، موسمیاتی آفات اور جغرافیائی سیاسی بحرانوں سمیت عالمی سطح کے دھچکوں نے یقیناً ترقی پذیر معیشتوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
48 فیصد کا یہ عدد خطے کی انتہائی غربت کا شکار آبادی میں پاکستان کے حصے کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ پاکستان کے ان شہریوں کی شرح کو جو انتہائی غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس لیے اس کی محتاط انداز میں تشریح ضروری ہے۔ تاہم، پاکستان کی بڑی آبادی اور مسلسل معاشی کمزوریاں اس جائزے کو مسترد کرنے کے بجائے سنجیدگی سے جانچنے کا تقاضا کرتی ہیں۔
بیرونی دباؤ قومی پالیسی سازوں کو ان کی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا پاکستان کی پالیسیوں نے شہریوں کو ان دباؤ کے اثرات سے مناسب تحفظ فراہم کیا یا نہیں۔
اس کے علاوہ، ان اعداد و شمار کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
اس تنازع کا ایک حصہ عالمی بینک کی جانب سے بین الاقوامی خطِ غربت پر نظرثانی سے متعلق ہے۔ جون 2025 میں عالمی بینک نے قوتِ خرید کی برابری (پی پی پی) کے 2021 کے ڈالر کے حساب سے انتہائی غربت کی حد 2.15 ڈالر سے بڑھا کر 3 ڈالر فی کس یومیہ کردی، جبکہ کم آمدنی والے متوسط درجے کے ممالک کے لیے 4.20 ڈالر کا معیار بھی متعارف کرایا۔ ان تبدیلیوں کے نتیجے میں غربت کی پیمائش میں فرق آسکتا ہے، خواہ گھرانوں کے حالات میں اسی تناسب سے کوئی اچانک تبدیلی نہ آئی ہو۔
بین الاقوامی خطِ غربت مختلف ممالک کا تقابل ممکن بناتا ہے، جبکہ پاکستان کی قومی خطِ غربت ملکی پالیسی سازی کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ دونوں پیمانے مختلف سوالات کا جواب دیتے ہیں، اس لیے انہیں ایک دوسرے کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔
چنانچہ طریقۂ کار، گھریلو آمدن و اخراجات کے سروے اور سال بہ سال اعداد و شمار کے تقابل کا شفاف انداز میں جائزہ لیا جانا چاہیے۔ تاہم، اعداد و شمار کی جانچ پڑتال کو کسی ناخوش گوار حقیقت کو مسترد کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
عالمی بینک کے ستمبر 2025 کے جائزے کے مطابق، پاکستان میں غربت میں کمی کا دو دہائیوں پر محیط رجحان پلٹ گیا ہے۔ ملک میں غربت کی شرح 2001-02 میں 64.3 فیصد سے کم ہوکر 2018-19 میں 21.9 فیصد رہ گئی تھی، تاہم اس کے بعد مہنگائی، سیلاب، معاشی دباؤ اور ترقی کے موجودہ ماڈل کی ساختی کمزوریوں کے باعث اس میں دوبارہ اضافہ ہوا۔
پاکستان بارہا ادائیگیوں کے توازن کے بحرانوں، آئی ایم ایف پروگراموں اور زرمبادلہ کے گھٹتے ذخائر کے دوران معیشت کو مستحکم کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ مالیاتی سختی، زیادہ ٹیکس، توانائی کی قیمتوں میں ردوبدل اور سخت مالیاتی پالیسی بعض اوقات معیشت کو بڑے بحران سے بچانے کے لیے ضروری ہوسکتی ہیں۔ لیکن معاشی استحکام منزل نہیں بلکہ اسے حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔
جب حکومتیں بالواسطہ ٹیکسوں اور یوٹیلیٹی نرخوں میں اضافہ کرتی ہیں تو اس کا غیر متناسب بوجھ کم اور متوسط آمدنی والے گھرانوں پر پڑتا ہے۔ ان کی آمدن کا بڑا حصہ خوراک، نقل و حمل، رہائش، صحت اور تعلیم پر خرچ ہوتا ہے۔ مہنگائی کی شرح کم ہونے کے باوجود قیمتیں خودبخود اپنی سابقہ سطح پر واپس نہیں آتیں۔ اگر اجرتیں مجموعی اضافے کے مقابلے میں پیچھے رہ جائیں تو قوتِ خرید مسلسل کم ہوتی رہتی ہے۔
اس صورت حال میں خاندان غذائیت سے بھرپور خوراک کم کردیتے ہیں، علاج مؤخر کرتے ہیں، بچوں کو اسکول سے اٹھا لیتے ہیں یا غیر محفوظ روزگار قبول کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ چھوٹے کاروباروں کو قرض اور توانائی کی بلند لاگت کا سامنا ہوتا ہے، جس سے سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع محدود ہوجاتے ہیں۔ ایسی معاشی نمو جو پیداواری روزگار اور حقیقی آمدن میں اضافے کا سبب نہ بنے، غربت میں پائیدار کمی نہیں لاسکتی۔
پاکستان میں غربت کا مسئلہ کم پیداواری صلاحیت، محدود ٹیکس بنیاد، صنعتوں میں ناکافی تنوع، انسانی وسائل کی ترقی پر ناکافی توجہ اور غیر مستقل طرز حکمرانی کی سنگین ساختی ناکامیوں کی عکاسی کرتا ہے۔
غیر رسمی شعبے کی بڑی افرادی قوت کم پیداواری روزگار میں پھنسی ہوئی ہے، جبکہ کاروباری اداروں کو غیر یقینی ٹیکس پالیسی، مہنگی توانائی، ضابطوں سے متعلق غیر یقینی صورت حال اور غیر مساوی مسابقت کا سامنا ہے۔ زراعت میں زیادہ پیداوار، پانی کے بہتر انتظام، جدید ٹیکنالوجی اور منڈیوں سے مضبوط روابط کی ضرورت ہے۔ صنعت کے لیے قابلِ اعتماد توانائی، برآمدات پر مبنی پالیسیاں اور ہنرمند کارکن ضروری ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کو ایسے مالی وسائل اور ضابطوں کی ضرورت ہے جو انہیں رسمی معیشت کا حصہ بننے کی ترغیب دیں۔
قرضوں پر سود اور مالیاتی دباؤ کے باعث سرکاری اخراجات کی گنجائش بھی محدود ہے، جس کے نتیجے میں اسکولوں، بنیادی صحت، غذائیت، فنی تربیت اور سماجی تحفظ کے لیے ناکافی وسائل دستیاب ہوتے ہیں۔
یوں ایک شیطانی چکر جنم لیتا ہے: انسانی وسائل کی کمزور صلاحیت پیداواری استعداد کو گھٹاتی ہے، کم پیداوار آمدن اور برآمدات میں اضافے کو محدود کرتی ہے، ناکافی محصولات سرکاری خدمات کو کمزور کرتے ہیں اور معاشی عدم تحفظ مزید گھرانوں کو غربت کی طرف دھکیل دیتا ہے۔
حکومت کو اعداد و شمار پر دفاعی موقف اختیار کرنے کے بجائے شفافیت کا راستہ اپنانا چاہیے۔ اسے متنازع تخمینوں کا کھلے عام جائزہ لینا، اپنے مفروضے شائع کرنا اور طریقۂ پیمائش میں تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے فرق کو گھرانوں کی فلاح و بہبود میں حقیقی تبدیلی سے الگ کرکے دکھانا چاہیے۔ تاہم، اس جائزے کے ساتھ وسیع تر پالیسی اقدامات بھی ضروری ہیں۔
معاشی کامیابی کو صرف مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کی نمو، زرمبادلہ کے ذخائر یا مالیاتی اہداف سے نہیں بلکہ گھرانوں کی حقیقی آمدن، روزگار، غذائیت، اسکولوں میں بچوں کی حاضری اور بنیادی سہولتوں تک رسائی سے بھی جانچنا چاہیے۔ سماجی تحفظ کے اقدامات کا فائدہ غریب ترین گھرانوں تک پہنچنا چاہیے، جبکہ صحت، تعلیم اور غذائیت کے لیے مناسب فنڈز مختص کیے جانے چاہییں۔ نقد امداد فوری ریلیف فراہم کرسکتی ہے، لیکن یہ پیداواری روزگار اور مؤثر سرکاری خدمات کا متبادل نہیں بن سکتی۔
پاکستان کو سرمایہ کاری پر مبنی مسلسل معاشی نمو، برآمدات میں تنوع، زراعت کی جدید کاری اور چھوٹے کاروباری شعبے کو مضبوط بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے گھرانوں سے متعلق قابلِ اعتماد اور باقاعدگی سے تازہ کیے جانے والے اعداد و شمار ناگزیر ہیں۔ جب اعداد و شمار دیر سے دستیاب ہوں یا سیاسی تنازعات کا موضوع بن جائیں تو غربت کا مؤثر انتظام ممکن نہیں رہتا۔
مشکلات کا سبب عالمی رجحانات کو قرار دینا مسئلے کے ایک حصے کی وضاحت تو کرسکتا ہے، لیکن یہ کوئی معاشی حکمت عملی نہیں۔ اصل کسوٹی یہ ہے کہ آیا خاندان خوراک خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں، بچوں کو تعلیم ملتی ہے، نوجوانوں کو پیداواری روزگار میسر آتا ہے اور کاروباری ادارے اعتماد کے ساتھ سرمایہ کاری کرسکتے ہیں یا نہیں۔ بالآخر فیصلہ عوام کی زندگیوں سے ہوگا، محض اعداد و شمار کے کھیل سے نہیں۔
غربت محض ایک عدد نہیں جس پر اختلاف کیا جائے، بلکہ یہ ایک قومی ناکامی ہے جس کی اصلاح ضروری ہے۔ پاکستان کو اپنے معاشی تشخص کے دفاع میں کم اور عوام کے معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے زیادہ عزم دکھانے کی ضرورت ہے۔ جب غریب مزید غریب ہوتے جائیں تو اعداد و شمار پر بحث معیشت کی اصلاح کا متبادل نہیں ہوسکتی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026





















Comments