آبنائے ہرمز میں خلل سے چھوٹے کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں، اقوام متحدہ
- دنیا بھر کے تقریباً 90 فیصد کاروبار چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) پر مشتمل ہیں، جو عالمی روزگار کا 70 فیصد اور دنیا کی مجموعی جی ڈی پی کا 50 فیصد فراہم کرتے ہیں
آبنائے ہرمز میں خلل چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو عالمی سپلائی چینز سے باہر کرسکتا ہے، جس سے معاشی ارتکاز میں اضافہ اور عالمی تجارت کی مزاحمت کی صلاحیت کمزور ہونے کا خطرہ ہے۔ اقوام متحدہ کی تجارت و ترقی سے متعلق کانفرنس (انکٹاڈ) نے منگل کو خبردار کیا ہے۔
امریکا۔ایران جنگ کے نتیجے میں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات، مال برداری کے کرایوں، بیمہ پریمیم اور مالی اعانت کے حصول میں مشکلات کا بوجھ بڑے اداروں کے مقابلے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) پر زیادہ پڑ رہا ہے۔ اس کے باعث یہ ادارے بڑی کارپوریشنز کے مقابلے میں زیادہ خطرے سے دوچار ہیں، کیونکہ بڑی کمپنیاں اپنے سپلائرز، منڈیوں اور مالی وسائل میں تنوع پیدا کرنے کی زیادہ صلاحیت رکھتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دنیا بھر کے تقریباً 90 فیصد کاروبار ایس ایم ایز پر مشتمل ہیں، جو عالمی روزگار کا 70 فیصد اور دنیا کی مجموعی جی ڈی پی کا 50 فیصد فراہم کرتے ہیں۔ اس لیے موجودہ خلل کے اثرات بحری راستوں سے کہیں آگے پوری عالمی معیشت تک پھیلنے کا خدشہ ہے۔
کئی ماہ سے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، جس کے باعث ایران اور عمان کے درمیان واقع تزویراتی آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آمدورفت شدید متاثر ہوئی ہے۔ عالمی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ معمول کے حالات میں اسی راستے سے گزرتا ہے۔
اگست میں ایک ماہ کی نسبتاً پرسکون صورتِ حال کے بعد خلیج میں دوبارہ لڑائی شروع ہوگئی اور ایران و امریکا کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں ایک بار پھر جولائی کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ منگل کو برینٹ خام تیل کی قیمت 2 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 99 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی۔
جنوب مغربی سعودی عرب میں حوثیوں کے حملوں سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے آگے مشرقِ وسطیٰ میں توانائی کی رسد متاثر ہونے اور تنازع کے معاشی اثرات مزید گہرے ہونے کا خدشہ ہے۔
انکٹاڈ نے خبردار کیا کہ اس خلل کے نتیجے میں ’’ایس ایم ایز کے اخراج کا اثر‘‘ پیدا ہوسکتا ہے، جس کے تحت مجموعی عالمی تجارت میں بہتری آنے کے باوجود چھوٹی کمپنیاں پیداوار محدود کرنے، سرمایہ کاری مؤخر کرنے یا ویلیو چینز سے مکمل طور پر نکلنے پر مجبور ہوسکتی ہیں۔
انکٹاڈ کے ترجمان مارسیلو ریسی نے کہا، ’’خطرہ صرف یہ نہیں کہ عالمی تجارت کی رفتار سست پڑ جائے۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ چھوٹی کمپنیوں کو ویلیو چینز سے واقعی باہر دھکیلا جاسکتا ہے، حتیٰ کہ مجموعی تجارت کی بحالی شروع ہونے کے بعد بھی۔‘‘
انکٹاڈ نے کہا کہ حالیہ بحرانوں کے اثرات پہلے ہی خام تیل کی بلند قیمتوں، بحری نقل و حمل کے حجم میں کمی اور قرض لینے کی بڑھتی ہوئی لاگت کی صورت میں سامنے آچکے ہیں، جس سے ایس ایم ایز خاص طور پر متاثر ہورہے ہیں۔ بڑے اداروں کے مقابلے میں بجلی اور درآمدی ضوابط پر عمل درآمد سمیت بعض آپریشنل اخراجات پہلے ہی ان چھوٹے اداروں کے لیے نسبتاً زیادہ ہیں۔
























Comments