غزہ میں شدید بارش، بے گھر فلسطینیوں کے خیمے زیرِ آب، امدادی سامان کی قلت سے مشکلات بڑھ گئیں
- حماس نے پناہ گاہوں اور تعمیراتی سامان کی عدم فراہمی کا ذمہ دار اسرائیل کو قرار دیا
غزہ میں مقامی حکام نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ غزہ کی پٹی میں مختلف عارضی کیمپوں میں انتہائی کسمپرسی کی حالت میں رہنے والے بے گھر فلسطینیوں کے ہزاروں خیمے شدید بارشوں کے باعث زیرِ آب آگئے، جس سے پناہ گاہیں بہہ گئیں جبکہ کمبل اور گدے بھی بھیگ گئے۔
غزہ کی حکومتی میڈیا آفس کے مطابق گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران کم از کم 70 ہزار خیمے زیرِ آب آگئے، جس سے ہزاروں بے گھر افراد متاثر ہوئے اور بعض افراد زخمی بھی ہوئے، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
علاقے کی شہری دفاع کی سروس کے مطابق اسے بے گھر افراد کی جانب سے امداد کے لیے 1,500 ہنگامی کالز موصول ہوئیں۔ حکام نے مزید بتایا کہ تین خالی مکانات بھی منہدم ہوگئے، تاہم ان واقعات میں کوئی زخمی نہیں ہوا۔
غزہ شہر کے ایک خیمہ کیمپ میں بعض افراد اپنے خیموں کی مرمت کرنے کی کوشش کرتے رہے، جبکہ کچھ لوگوں نے پانی کو اندر داخل ہونے سے روکنے کے لیے خیموں کے گرد ریت کی تہہ بچھائی۔ بعض خاندان اپنے بچوں کو زیرِ آب خیموں سے نکالنے میں مصروف دکھائی دیے۔
غزہ کی رہائشی الفت مجدوب اپنے خیمے سے پانی باہر نکالنے کی ناکام کوشش کرتی رہیں۔
انہوں نے کہا، ’’بارش کا یہ پہلا دن ہے اور ہمارے خیمے پہلے ہی زیرِ آب آچکے ہیں۔ اگر اگلے دن دوبارہ بارش ہوئی تو کیا ہوگا؟ ابھی تو پہلا ہی دن ہے اور ہم پہلے ہی اس صورت حال سے نمٹنے میں بے بس ہیں۔‘‘
ان کا کہنا تھا، ’’دو ہفتے قبل جب بارش ہوئی تھی تو خدا کی قسم، میں نے چار دن تک فرش پر بچھے کمبلوں پر سو کر گزارے، کیونکہ بارش کا پانی بستر تک پہنچ گیا تھا۔ اب بھی یہی صورت حال ہے، گدے بھیگ چکے ہیں اور ہم زمین پر سونے پر مجبور ہیں۔‘‘
بلدیاتی اور شہری دفاع کے حکام نے بتایا کہ ایندھن کی قلت اور آلات کو پہنچنے والے نقصان کے باعث وہ طوفانی بارشوں سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ان کے مطابق اسرائیل نے حماس کے خلاف جنگ کے دوران سیکڑوں گاڑیاں تباہ کردی تھیں، جن میں بلڈوزر اور پانی نکالنے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ اس جنگ کے نتیجے میں غزہ کی 20 لاکھ سے زائد آبادی کا بیشتر حصہ بے گھر ہوگیا اور علاقے کا بڑا حصہ کھنڈرات میں تبدیل ہوچکا ہے۔ اب آبادی کی اکثریت خیمہ بستیوں میں رہ رہی ہے۔
حماس نے غزہ میں پناہ گاہوں اور تعمیراتی سامان کی آمد روکنے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا ہے۔
اسرائیلی فوج کا امدادی سرگرمیوں میں رابطہ کاری کا ادارہ کوگیٹ (سی او جی اے ٹی) نے حماس کے الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم ادارے نے جمعے کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ اس نے بین الاقوامی تنظیموں کے تعاون سے متوقع شدید بارشوں سے قبل غزہ بھر میں صفائی اور نکاسی آب کی صورت حال بہتر بنانے کے لیے کوششیں تیز کردی تھیں۔
تعمیرِ نو میں پیش رفت نہ ہونے کے برابر
ادارے کے مطابق اس ہفتے بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کے ذریعے چار مزید ویکیوم ٹرک غزہ پہنچائے گئے ہیں۔ یہ ٹرک گزشتہ ماہ فراہم کیے گئے آٹھ دیگر ٹرکوں کے ساتھ کام کریں گے، جن کا مقصد گندے پانی کی نکاسی، ہفتہ وار بنیادوں پر کچرا اٹھانے اور پانی و نکاسی آب کے بنیادی ڈھانچے کی مرمت میں معاونت فراہم کرنا ہے۔
گزشتہ سال امریکا کی ثالثی میں طے پانے والی جنگ بندی میں غزہ کی تعمیرِ نو کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم اس سلسلے میں اب تک کوئی خاص پیش رفت نہیں ہوسکی۔
مذاکرات کار حماس کو غیر مسلح کرنے اور اسرائیلی فوج کے انخلا کی شرائط پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج اس وقت غزہ کے تقریباً دو تہائی علاقے پر کنٹرول رکھتی ہے، جہاں سے رہائشیوں کو نکل جانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔
بارش کے پانی کے ایک بڑے جوہڑ میں ننگے پاؤں کھڑے بے گھر غزہ کے رہائشی رفیق غطاس نے کہا، ’’ہمارے پاس کوئی وسائل نہیں، نہ ترپال ہیں، نہ خیمے اور نہ ہی کوئی ہماری خبر گیری کرنے والا ہے۔‘‘


Comments