حکام نے ہفتے کو بتایا کہ روسی افواج نے رات گئے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور اس کے نواحی علاقے پر میزائلوں اور ڈرونز سے حملے کیے جن کے نتیجے میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور دریائے دنیپرو پر قائم ایک بڑے پل کو نقصان پہنچا۔
روسی حملوں کے دوران شہر میں دھماکوں کی آوازیں گونجتی رہیں۔ میئر وٹالی کلچکو کے مطابق روس نے بیلسٹک میزائلوں کی متعدد لہروں سے حملے کیے، جن میں سے کئی میزائل نارتھ برج پر گرے۔
انہوں نے کیف میں بجلی، حرارت اور پانی کی فراہمی کی صورتحال کو ’’انتہائی مشکل‘‘ قرار دیا، جہاں ہفتے کی صبح درجہ حرارت نقطہ انجماد کے قریب تھا۔ گورنر تیمور تکاچینکو نے بتایا کہ کیف کے علاقے کے کم از کم تین اضلاع میں توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
حکام کے مطابق رات گئے ہونے والے ان حملوں میں ایک شخص ہلاک اور ایک بچے سمیت آٹھ افراد زخمی ہوگئے، جبکہ رہائشی مکانات اور غیر رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا۔
ماسکو کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس نے یوکرین کے فوجی و صنعتی شعبے کے اہداف کے علاوہ کیف اور اس کے نواحی علاقوں میں توانائی اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کو بھی بڑے پیمانے پر حملوں کا نشانہ بنایا۔
روس نے یوکرین پر فضائی حملوں میں اضافہ کردیا ہے، کیونکہ زمینی محاذ پر اس کی پیش قدمی بڑی حد تک رک چکی ہے۔ یوکرین پر مکمل حملے کے ساڑھے چار سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی روس بڑے شہروں کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ایسے میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنا رہا ہے جنہیں روکنا مشکل ہے۔
حالیہ ہفتوں میں روس نے اپنے حملوں کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کیف کے پلوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کردیا ہے، جس سے 30 لاکھ سے زائد آبادی کے اس شہر میں ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہورہا ہے۔


Comments