وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر مملکت طلال چوہدری نے پریس بریفنگ میں انکشاف کیا کہ حکومت نے بدنام زمانہ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو کی 13.5 ایکڑ اراضی پر قائم عمارت کا قانونی قبضہ حاصل کرلیا ہے۔
کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) نے یہ جائیداد 2005 میں ابتدائی طور پر 99 سال کے لیے لیز پر دی تھی جس کا مقصد وہاں فائیو اسٹار ہوٹل اور سروسڈ اپارٹمنٹس تعمیر کرنا تھا۔ بااثر شخصیات کی مبینہ ملی بھگت سے منصوبے کے تعمیراتی کام میں بے ضابطگیوں، ہیرا پھیری اور بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد یہ منصوبہ بدنام ہوگیا۔
شاہراہِ دستور پر واقع اس عمارت کو بعد ازاں اہم فیصلہ سازوں کی معاونت سے لگژری اپارٹمنٹس اور تجارتی حصوں میں تبدیل کردیا گیا اور پاکستان کی بااثر سیاسی و مقتدر شخصیات کو فروخت کیا گیا جن میں سے بہت سے افراد اب اقتدار میں نہیں ہیں۔ اس کے نتیجے میں قانونی تنازعات، ادائیگیوں میں نادہندگی اور وقتاً فوقتاً اعلیٰ سطح کی تحقیقات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان تحقیقات میں رواں سال مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی رپورٹ بھی شامل ہے۔ اس دوران سی ڈی اے نے لیز بھی منسوخ کردی۔
سی ڈی اے نے اس معاملے پر قانونی چارہ جوئی شروع کی اور 2016 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے اس کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے منصوبے کو غیر قانونی قرار دیا۔ تاہم، تعمیراتی کمپنی نے حکم امتناع حاصل کرلیا اور فیصلے کو اپیل کے ذریعے چیلنج کیا جسے 2018 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے برقرار رکھا۔ اگلے سال اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا اور فیصلہ دیا کہ منصوبہ غیر قانونی ہوسکتا ہے، تاہم سرمایہ کاروں (لگژری فلیٹس کے خریداروں) کے مفادات کا تحفظ ضروری ہے۔ اس کے لیے شرط عائد کی گئی کہ سی ڈی اے کو آٹھ سال کے دوران 17 ارب 50 کروڑ روپے ادا کیے جائیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بینچ کے ایک رکن جسٹس اعجاز الاحسن، ہائی کورٹ کا جج مقرر ہونے سے قبل تعمیراتی کمپنی کے نجی وکیل رہ چکے تھے۔
اسی روز منعقدہ ایک الگ پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور طلال چوہدری کے ہمراہ انکشاف کیا کہ جے آئی ٹی نے تین مرتبہ وزیر خزانہ رہنے والے حفیظ شیخ اور اُس وقت کے چیئرمین سی ڈی اے لاشاری کو بے ضابطگیوں کا مرکزی منصوبہ ساز قرار دیا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ جے آئی ٹی نے حفیظ شیخ کی کمپنی کو مستقبل کے سرکاری شعبے کے منصوبوں میں حصہ لینے سے بلیک لسٹ کرنے اور ذمہ دار تمام افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کی سفارش کی ہے۔
محسن نقوی نے اعلان کیا کہ اس عمارت کو فائیو اسٹار ہوٹل میں تبدیل کیا جائے گا، جو 20 سال قبل لیز جاری کرتے وقت طے شدہ اصل مقصد کے عین مطابق ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں ایک بین الاقوامی ہوٹل چین کے ساتھ معاہدہ کیا جائے گا۔تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا بین الاقوامی ہوٹل چین کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں سروسڈ اپارٹمنٹس کی تعمیر یا ان کی اجازت بھی شامل ہوگی، جو اصل لیز کا ایک حصہ تھے۔ اس کے باوجود توقع کی جا سکتی ہے کہ حکومت کسی بین الاقوامی ہوٹل چین کو ٹھیکہ دیتے وقت غیر معمولی احتیاط سے کام لے گی، کیونکہ غیر ملکی کمپنیوں اور حکومتوں کے ساتھ معاہدوں میں قانونی چارہ جوئی اور ثالثی کے تنازعات کی شرح خاصی زیادہ رہی ہے۔
ایک ہی معاملے پر وفاقی کابینہ کے دو سینئر وزرا کی جانب سے الگ الگ پریس کانفرنسیں کرنا کم از کم باہمی ہم آہنگی کے فقدان اور زیادہ سے زیادہ باہمی رقابت کی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ درست ہے کہ طلال چوہدری دونوں پریس کانفرنسز میں موجود تھے، تاہم وہ خاموش رہے اور اپنے سینئر وزرا کو اس طویل عرصے سے تنازعات کا شکار منصوبے پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے دیا۔ اس کے باوجود امید کی جانی چاہیے کہ حکومت وفاقی دارالحکومت کی اس نمایاں عمارت سے متعلق تمام زیر التوا معاملات حل کرنے میں کامیاب ہوگی اور جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا، معاہدے کو اس شعبے میں تجربہ رکھنے والے وکلا سے مکمل جانچ پڑتال کے بعد ہی حتمی شکل دے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments