20 سال بعد بینک الفلاح نے افغانستان سے کاروبار سمیٹ لیا
- لین دین پاکستان اور افغانستان کے متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے منظوری ملنے کے بعد مکمل ہوا
بینک الفلاح لمیٹڈ (بی اے ایف ایل) نے افغانستان میں اپنے بینکاری آپریشنز غضنفر بینک کو فروخت اور منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ اس پیش رفت کے ساتھ ہی افغانستان میں دو دہائیوں سے زائد عرصے تک بینکاری خدمات فراہم کرنے کے بعد بینک الفلاح نے وہاں سے اپنا کاروبار مکمل طور پر سمیٹ لیا ہے۔
بینک الفلاح نے جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو ارسال کردہ نوٹس میں بتایا کہ یہ لین دین پاکستان اور افغانستان کے متعلقہ ریگولیٹری اداروں سے منظوری ملنے کے بعد مکمل ہوا۔
نوٹس کے مطابق حتمی معاہدے کی دستاویزات پر دستخط، اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور دا افغانستان بینک سے منظوری کے حصول اور دیگر تمام پیشگی شرائط پوری ہونے کے بعد یہ لین دین 5 نومبر 2026 کو مکمل ہوا۔
بینک نے بتایا کہ لین دین کی تکمیل کے بعد کابل اور ہرات میں اس کی برانچوں کے ذریعے انجام دی جانے والی بینکاری سرگرمیاں، متعلقہ اثاثوں اور واجبات سمیت، غضنفر بینک کو منتقل کردی گئی ہیں۔
بینک الفلاح کے مطابق اس نے افغانستان میں اپنی بینکاری سرگرمیاں بند کردی ہیں جبکہ متعلقہ ریگولیٹری تقاضوں کے مطابق وہاں موجود اپنی برانچوں کی بندش کا عمل بھی مکمل کیا جائے گا۔
بینک الفلاح نے 2005 میں افغانستان میں اپنے آپریشنز کا آغاز کیا تھا۔ اس نے کابل میں اپنی پہلی برانچ قائم کی جس کے بعد ہرات میں بھی کاروبار کا دائرہ وسیع کیا۔ بینک افغانستان میں روایتی اور اسلامی، دونوں طرز کی بینکاری خدمات فراہم کر رہا تھا۔
دسمبر 2025 میں بینک الفلاح کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے افغانستان میں بینک کے بینکاری آپریشنز کے ممکنہ حصول کے لیے غضنفر بینک افغانستان کی جانب سے موصول ہونے والی غیر پابند پیشکش قبول کر لی تھی۔ یہ پیشکش غزنفر بینک کی جانب سے تفصیلی جانچ پڑتال کی تکمیل اور پاکستان و افغانستان کے متعلقہ ریگولیٹری اداروں کی منظوری سے مشروط تھی۔
اس کے بعد جنوری 2026 میں اسٹیٹ بینک اور افغانستان کے مرکزی بینک، دونوں نے غضنفر بینک کو بینک الفلاح کے افغانستان میں بینکاری آپریشنز کی تفصیلی جانچ پڑتال شروع کرنے کے لیے اصولی منظوری دے دی۔ اس منظوری کے بعد غضنفر بینک کے لیے تفصیلی جانچ پڑتال کا عمل آگے بڑھانے کی راہ ہموار ہو گئی۔


Comments