BR100 Decreased By (-1.5%)
BR30 Decreased By (-1.09%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.47%)
BAFL 58.90 Decreased By ▼ -0.13 (-0.22%)
BIPL 24.00 Decreased By ▼ -0.11 (-0.46%)
BOP 31.26 Decreased By ▼ -0.44 (-1.39%)
CNERGY 12.24 Increased By ▲ 0.18 (1.49%)
DFML 15.82 Increased By ▲ 0.27 (1.74%)
DGKC 200.84 Decreased By ▼ -2.35 (-1.16%)
FABL 92.11 Decreased By ▼ -1.03 (-1.11%)
FCCL 57.80 Decreased By ▼ -0.91 (-1.55%)
FFL 13.35 Decreased By ▼ -0.12 (-0.89%)
GGL 19.51 Decreased By ▼ -0.40 (-2.01%)
HBL 301.50 Decreased By ▼ -1.26 (-0.42%)
HUBC 202.00 Decreased By ▼ -6.05 (-2.91%)
HUMNL 8.61 Decreased By ▼ -0.08 (-0.92%)
KEL 6.10 Decreased By ▼ -0.04 (-0.65%)
LOTCHEM 24.47 Decreased By ▼ -0.35 (-1.41%)
MLCF 99.90 Decreased By ▼ -2.19 (-2.15%)
OGDC 313.70 Decreased By ▼ -2.54 (-0.8%)
PAEL 33.60 Decreased By ▼ -0.42 (-1.23%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 259.89 Decreased By ▼ -5.55 (-2.09%)
PPL 218.00 Decreased By ▼ -3.30 (-1.49%)
PRL 86.20 Increased By ▲ 1.60 (1.89%)
SNGP 92.15 Decreased By ▼ -1.70 (-1.81%)
SSGC 22.66 Decreased By ▼ -0.28 (-1.22%)
TELE 7.12 Increased By ▲ 0.05 (0.71%)
TPLP 13.28 Increased By ▲ 0.17 (1.3%)
TRG 53.40 Decreased By ▼ -0.63 (-1.17%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.15 (1.9%)
WTL 1.04 Increased By ▲ 0.10 (10.64%)
کاروبار اور معیشت

ٹیکسٹائل انڈسٹری کو گیس اور پانی کی بلا تعطل فراہمی کا مطالبہ

  • موجودہ حالات میں صنعت کاروں کے لیے پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے، رضوان لاکھانی
شائع اپ ڈیٹ

آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین اور ریجنل انچارج (کراچی ریجن) محمد رضوان لاکھانی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت کو ترجیحی بنیادوں پر گیس اور پانی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے نرخوں کو خطے کے حریف ممالک میں صنعتی شعبے کو دستیاب توانائی کی لاگت کے مطابق مسابقتی سطح پر لانے کے لیے ایک قابلِ عمل پالیسی بھی تشکیل دی جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت اس وقت گیس اور پانی کی مسلسل قلت جبکہ بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں کے باعث سنگین مشکلات کا سامنا کررہی ہے۔

توانائی اور صنعت کے لیے ضروری بنیادی سہولیات کی غیر یقینی فراہمی کے باعث پیداواری لاگت مسلسل بڑھ رہی ہے جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات حریف ممالک کی مصنوعات کے مقابلے میں مہنگی ہوتی جارہی ہیں۔

دوسری جانب عالمی منڈی میں پٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے باعث رنگ سازی میں استعمال ہونے والے رنگوں اور کیمیکلز کی قیمتیں بھی بڑھ رہی ہیں جس سے ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت کی پیداواری لاگت میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ خام مال اور دیگر پیداواری اشیا کی بڑھتی قیمتیں صنعت پر اضافی مالی دباؤ ڈال رہی ہیں اور عالمی منڈی میں پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت کو متاثر کررہی ہیں۔

رضوان لاکھانی نے کہا کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت ملکی برآمدات، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تاہم موجودہ حالات میں صنعت کاروں کے لیے پیداواری سرگرمیاں جاری رکھنا اور عالمی خریداروں کے آرڈرز مسابقتی قیمتوں پر پورے کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جارہا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ برآمدات پر مبنی صنعتوں کے لیے توانائی کے نرخ طویل مدت کے لیے مقرر کیے جائیں تاکہ ان میں استحکام اور پیش گوئی کی جاسکے۔ صنعتی بجلی کے بلوں میں شامل اضافی سرچارجز اور غیر ضروری مالی بوجھ کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے جبکہ صنعتوں کو قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع، بالخصوص شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع اختیار کرنے میں سہولت فراہم کی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ صنعتی علاقوں میں پانی کی دستیابی بہتر بنانے کے لیے واٹر ٹریٹمنٹ اور ری سائیکلنگ پلانٹس قائم کیے جائیں۔ اس کے ساتھ جدید ٹیکنالوجی اور گندے پانی کو صاف کرنے کے نظاموں میں سرمایہ کاری کے لیے آسان شرائط پر قرضوں اور مراعات کی فراہمی بھی یقینی بنائی جائے۔

اے پی ٹی پی ایم اے کے چیئرمین نے کہا کہ پیداواری لاگت میں کمی، مصنوعات کے معیار کو بہتر بنانے اور برآمدی صلاحیت بڑھانے کے لیے حکومت اور صنعتی شعبے کے درمیان مؤثر مشاورت کے ذریعے طویل المدتی صنعتی پالیسی تشکیل دینا ضروری ہے۔

رضوان لاکھانی نے مزید زور دیا کہ ٹیکسٹائل پروسیسنگ کی صنعت کو جدید مشینری کی درآمد پر مناسب ڈیوٹی اور ٹیکس میں چھوٹ، برآمدات سے متعلق ریفنڈز کی بروقت ادائیگی اور ٹیکنالوجی کو جدید بنانے کے لیے خصوصی مراعات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت گیس، پانی اور بجلی سے متعلق مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرے اور صنعت کو پالیسیوں میں استحکام اور کاروبار کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے تو پاکستان عالمی ٹیکسٹائل مارکیٹ میں چین، بنگلہ دیش، بھارت اور دیگر حریف ممالک کا مؤثر مقابلہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں آسکتا ہے۔

Comments

200 حروف