ہراسانی کی وسیع تر تعریف ضروری ہے
- کام کی جگہ پر ہراسانی کا دائرہ صرف جنسی نوعیت کے رویوں تک محدود نہیں
قومی اسمبلی کی جانب سے اس قرارداد کی توثیق کہ کام کی جگہ پر ہراسانی کا دائرہ صرف جنسی نوعیت کے رویوں تک محدود نہیں، ایک خوش آئند یاد دہانی ہے کہ کام کی جگہ پر عزت و وقار کا حق جنسی بدسلوکی کی محدود تعریف تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔
دھمکانا، تذلیل کرنا، توہین آمیز سلوک، مخالفانہ رویہ اور صنفی بنیادوں پر امتیاز بھی اتنے ہی نقصان دہ ہوسکتے ہیں، خصوصاً اس وقت جب کسی ادارے کے اندر طاقت کے غیر مساوی تعلقات ایسے رویوں کو فروغ دینے کا ذریعہ بنیں۔
رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر شاہدہ رحمانی کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ موجودہ قانون سازی پر اس کے مکمل دائرہ کار کے مطابق عمل درآمد یقینی بنائیں، تاکہ غیر جنسی نوعیت کی ہراسانی کو قانونی تحفظ سے محرومی کی بنیاد نہ بنایا جاسکے۔
اس قرارداد کی اہمیت حالیہ وفاقی آئینی عدالت کے ایک فیصلے کے بعد مزید بڑھ گئی ہے، جس میں عدالت نے کام کی جگہ پر ہراسانی کے ایک مقدمے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ یہ مقدمہ نیشنل بینک آف پاکستان کے ایک ملازم سے متعلق تھا۔ 2012 میں دائر کیے گئے اس مقدمے نے اس وقت تشویش پیدا کردی جب وفاقی آئینی عدالت نے 2010 کے اصل قانون میں ہراسانی کی تعریف کی تشریح کرتے ہوئے مشاہدہ کیا کہ کسی رویے کو اس قانون کے دائرہ کار میں لانے کے لیے اس کا جنسی نوعیت کا ہونا ضروری ہے۔
اس فیصلے کے نتیجے میں ترمیم شدہ قانون کے تحت دستیاب تحفظات کے دائرہ کار سے متعلق سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ یہاں ایک اہم پہلو وقت اور قانون سازی کی مدت سے متعلق بھی ہے۔ یہ شکایت 2022 کی ترمیم سے پہلے دائر کی گئی تھی، جس کے ذریعے قانون کے ضابطہ اخلاق میں جنسی اور غیر جنسی صنفی امتیاز کو واضح طور پر شامل کیا گیا تھا۔ ممکن ہے عدالت نے 2010 کی اصل شق پر انحصار کیا ہو کیونکہ مقدمہ ترمیم سے پہلے کا تھا۔ اگر ایسا ہے تو پرانی شکایات پر ترمیم شدہ قانون کے اطلاق کے معاملے کی وضاحت ضروری ہے۔
اس صورت حال سے پیدا ہونے والی غیر یقینی نے پارلیمان پر بھی یہ ذمہ داری عائد کردی ہے کہ وہ مزید ترامیم یا ضرورت پڑنے پر عبوری دفعات کے ذریعے اپنے ارادے کو مکمل طور پر غیر مبہم بنائے، تاکہ 2022 میں متعارف کرائے گئے تحفظات تشریح یا وقت سے متعلق سوالات کی نذر نہ ہوجائیں۔
تاہم یہ ذمہ داری صرف پارلیمان تک محدود نہیں۔ سرکاری اور نجی شعبے کے اداروں کو بھی اپنے دفتری ماحول کی بہتری کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ قانون کے تحت آجروں کے لیے داخلی انکوائری کمیٹیاں قائم کرنا اور ایسے طریقہ کار فراہم کرنا ضروری ہے جن کے ذریعے شکایات کا ازالہ کیا جاسکے۔ اداروں کو یقینی بنانا چاہیے کہ یہ کمیٹیاں آزاد، قابل رسائی اور کسی خوف یا رعایت کے بغیر کارروائی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں، خصوصاً ایسے معاملات میں جہاں الزامات اعلیٰ انتظامیہ یا بااثر عہدیداروں کے خلاف ہوں۔
ملازمین کو انصاف کے حصول کے لیے مختلف فورمز پر برسوں مقدمات لڑنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے، جبکہ وہ اسی دوران مخالفانہ ماحول میں کام جاری رکھیں یا اپنے اداروں کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کے باعث ملازمت چھوڑنے پر مجبور ہوجائیں۔ احتساب کا آغاز اداروں کے اندر سے ہونا چاہیے۔
اسی طرح معاشرے کے رویوں میں بھی اس بات سے متعلق تبدیلی ضروری ہے کہ ہراسانی کیا ہوتی ہے اور اس کا نشانہ کون بن سکتا ہے۔ اب بھی توہین، زبانی بدسلوکی، دھمکیوں اور امتیازی سلوک کو معمولی سمجھنے کا رجحان پایا جاتا ہے، خصوصاً جب ان رویوں کا نشانہ خواتین ہوں۔
تاہم یہ تسلیم کرنا بھی ضروری ہے کہ مرد بھی کام کی جگہ پر جنسی یا غیر جنسی نوعیت کی ہراسانی کا شکار ہوسکتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ معاملہ عزت و وقار اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ہے، جس کا تعلق کسی مخصوص جنس سے نہیں۔
ایسی سوچ صرف آجروں تک محدود نہیں بلکہ یہ اس بات پر بھی اثر انداز ہوسکتی ہے کہ شکایات کو کس طرح سمجھا جاتا ہے اور ان پر کس انداز میں فیصلے کیے جاتے ہیں۔ عدلیہ کو بھی بدلتے ہوئے قانونی ڈھانچے اور جنسی بدسلوکی اور غیر جنسی صنفی امتیاز کے درمیان پارلیمان کی جانب سے قائم کیے گئے فرق کو مدنظر رکھنا چاہیے۔
پارلیمان، عدلیہ اور اداروں کی قیادت سمیت اختیارات کے عہدوں پر خواتین کی زیادہ نمائندگی بھی ضروری ہے۔ ان کی شمولیت نظر انداز کیے گئے تجربات کو پالیسی مباحثوں کا حصہ بنانے، پرانے تصورات کو چیلنج کرنے اور اداروں کو زیادہ حساس اور جوابدہ بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ اگرچہ صرف نمائندگی تبدیلی کی ضمانت نہیں دے سکتی، لیکن فیصلہ سازی میں خواتین کی بامعنی شرکت موجودہ طاقت کے ڈھانچوں کو چیلنج کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔
ہراسانی اور امتیاز سے پاک کام کی جگہ کوئی غیر معمولی توقع یا آجروں کی جانب سے دیا جانے والا کوئی خصوصی استحقاق نہیں۔ یہ عزت و وقار اور مساوات کا معاملہ ہے۔
پارلیمان اس اصول کی توثیق کرچکی ہے۔ اب اسے یقینی بنانا ہوگا کہ قانون اس اصول کو پوری وضاحت کے ساتھ نافذ العمل بنائے، جبکہ اداروں کو اپنے عملی اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ کسی بھی ملازم کو روزی کمانے کے لیے تذلیل، دھمکیوں یا امتیازی سلوک کو برداشت کرنے پر مجبور نہیں ہونا چاہیے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments