سلامتی کونسل نے دورانِ جنگ سفارت کاری سے متعلق پاکستان کی پیش کردہ قرارداد منظور کرلی
- بیان میں جنگ شروع ہونے کے بعد بھی سفارتی رابطے برقرار رکھنے، ثالثی اور مساعیِ جمیلہ کے ذریعے جنگ بندی اور پائیدار سیاسی تصفیے کی راہ ہموار کرنے پر زور دیا گیا ہے
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے جمعرات کے روز پاکستان کی جانب سے پیش کردہ ’’فعال مخاصمتوں کے دوران سفارت کاری کا کردار‘‘ کے موضوع پر صدارتی بیان (پی آر ایس ٹی) اتفاقِ رائے سے منظور کرلیا ہے۔ یہ بات دفتر خارجہ نے اپنے ایک بیان میں بتائی ہے۔
اسلام آباد سے جاری بیان میں وزارت خارجہ نے اس کی منظوری کو بین الاقوامی امن و سلامتی سے متعلق سلامتی کونسل کے موضوعاتی کام میں پاکستان کی ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، بیان میں اس ضرورت پر زور دیا گیا ہے کہ مسلح مخاصمت شروع ہونے کے بعد بھی سفارتی رابطوں کا سلسلہ برقرار رکھا جائے۔ اس مقصد کے لیے ثالثی، مساعیِ جمیلہ اور رابطے کے ذرائع کھلے رکھنے جیسے اقدامات کے ذریعے جنگ بندی کی راہ ہموار کرنے اور پائیدار سیاسی تصفیوں کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔
یہ صدارتی بیان سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 (2025) کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے، جو جولائی 2025ء میں پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی۔ نیا بیان خاص طور پر لڑائی شروع ہونے کے بعد سفارت کاری کے کردار پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ تنازع کے تمام مراحل میں سفارتی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔
دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ یہ صدارتی بیان سلامتی کونسل کے پہلے سے موجود کام میں ایک اہم اضافہ ہے، کیونکہ اس میں مختلف تنازعات کے تجربات اور مسلمہ اصولوں کو ایک ہی موضوعاتی فریم ورک میں یکجا کیا گیا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’یہ سلامتی کونسل کی جانب سے کشیدگی میں کمی، مذاکرات کی راہ ہموار کرنے اور پُرامن و پائیدار سیاسی حل آگے بڑھانے کی مسلسل کوششوں کے لیے ایک اہم اجتماعی سیاسی حوالہ فراہم کرتا ہے۔‘‘
صدارتی بیانات سلامتی کونسل کے تمام 15 ارکان کے اتفاقِ رائے سے منظور کیے جاتے ہیں اور کونسل کے اجتماعی موقف کے باضابطہ اظہار کی حیثیت رکھتے ہیں، تاہم قراردادوں کے برعکس یہ قانونی طور پر پابند نہیں ہوتے۔
پاکستان 2025-26ء کے لیے سلامتی کونسل کا دو سالہ غیر مستقل رکن ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق، اس بیان کی منظوری کثیرالجہتی نظام، مذاکرات اور سفارت کاری کے لیے پاکستان کے مسلسل عزم اور بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام میں اس کے تعمیری کردار کی عکاس ہے۔


Comments