BR100 Increased By (2.12%)
BR30 Increased By (2.31%)
KSE100 Increased By (1.96%)
KSE30 Increased By (1.93%)
BAFL 59.03 Increased By ▲ 1.23 (2.13%)
BIPL 24.11 Increased By ▲ 0.34 (1.43%)
BOP 31.70 Increased By ▲ 0.80 (2.59%)
CNERGY 12.06 Increased By ▲ 0.09 (0.75%)
DFML 15.55 Increased By ▲ 0.28 (1.83%)
DGKC 203.19 Increased By ▲ 8.18 (4.19%)
FABL 93.14 Increased By ▲ 1.05 (1.14%)
FCCL 58.71 Increased By ▲ 1.93 (3.4%)
FFL 13.47 Increased By ▲ 0.13 (0.97%)
GGL 19.91 Increased By ▲ 1.53 (8.32%)
HBL 302.76 Increased By ▲ 7.32 (2.48%)
HUBC 208.05 Increased By ▲ 3.88 (1.9%)
HUMNL 8.69 Increased By ▲ 0.04 (0.46%)
KEL 6.14 Increased By ▲ 0.14 (2.33%)
LOTCHEM 24.82 Increased By ▲ 0.45 (1.85%)
MLCF 102.09 Increased By ▲ 4.60 (4.72%)
OGDC 316.24 Increased By ▲ 5.77 (1.86%)
PAEL 34.02 Increased By ▲ 0.95 (2.87%)
PIBTL 13.42 Increased By ▲ 0.27 (2.05%)
PIOC 265.44 Increased By ▲ 12.53 (4.95%)
PPL 221.30 Increased By ▲ 4.13 (1.9%)
PRL 84.60 Decreased By ▼ -1.06 (-1.24%)
SNGP 93.85 Decreased By ▼ -0.27 (-0.29%)
SSGC 22.94 Decreased By ▼ -0.38 (-1.63%)
TELE 7.07 Increased By ▲ 0.34 (5.05%)
TPLP 13.11 Increased By ▲ 0.44 (3.47%)
TRG 54.03 Increased By ▲ 0.86 (1.62%)
UNITY 7.90 Increased By ▲ 0.13 (1.67%)
WTL 0.94 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

آخرکار بانڈ مارکیٹ ہی بازی لے جاتی ہے

  • ایران جنگ کے سیاسی و معاشی اثرات، امریکی انتخابات کے بعد واشنگٹن میں ممکنہ سیاسی تعطل اور مالیاتی نظم و ضبط کی امیدوں نے بانڈ مارکیٹ کو نئی تقویت دے دی
شائع اپ ڈیٹ

امریکی وسط مدتی انتخابات کے غیر متوقع اثرات سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں نے ٹرمپ انتظامیہ کی مالیاتی اور جغرافیائی سیاسی پالیسیوں میں ممکنہ سختی کے امکانات کو بھانپنا شروع کردیا ہے، جس کے نتیجے میں ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح میں کمی، ڈالر کی قدر میں گراوٹ اور سونے کی قیمت میں اضافہ دیکھا گیا۔

ابتدائی ردعمل کسی طور بھی منظم نہیں تھا۔ امریکی حصص کی مارکیٹ کے فیوچرز میں رات گئے شدید گراوٹ آئی، تاہم بعد ازاں ان میں تیزی سے بحالی ہوئی۔ پاکستان میں بدھ کی سہ پہر تک، جب امریکی نقد حصص مارکیٹ میں کاروبار شروع ہونا باقی تھا، ڈاؤ جونز فیوچرز تقریباً 700 پوائنٹس کے اضافے کی نشاندہی کر رہے تھے۔ تاہم، بانڈ مارکیٹ نے سب سے پہلے اور واضح انداز میں اپنا فیصلہ سنا دیا تھا۔

ڈیموکریٹس کی ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، دونوں میں کامیابی نے واشنگٹن میں سیاسی تعطل کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔ بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے یہ پیش رفت خوش آئند ثابت ہوسکتی ہے۔ منقسم حکومت کی صورت میں ٹیکسوں میں مزید کمی اور وسیع پیمانے پر اخراجات کے منصوبوں کی منظوری مشکل ہوسکتی ہے، جس سے حکومت کی قرض لینے کی ضروریات اور سرکاری قرضوں کے اجرا میں اضافے سے متعلق بعض خدشات کم ہونے کا امکان ہے۔

امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح میں رات گئے چھ بیسس پوائنٹس تک کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ مختصر وقت کے لیے 4.90 فیصد سے بھی نیچے آگئی، تاہم یورپی کاروباری اوقات کے آغاز پر یہ تقریباً 4.92 فیصد پر مستحکم ہوگئی۔ اس صورتحال میں بانڈز واضح طور پر سب سے زیادہ فائدے میں رہے۔

مارکیٹ کے اس ردعمل کے پس منظر میں ایک بڑی ستم ظریفی بھی پوشیدہ ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے طاقت کے مظاہرے اور خطے کی تزویراتی صورتحال تبدیل کرنے کے وعدوں کے ساتھ ایران کے خلاف جنگ کا راستہ اختیار کیا تھا، جو اسرائیلی حکومت کے موقف سے بھی بڑی حد تک ہم آہنگ تھا۔

اب یہ تنازع اپنے نویں ماہ میں داخل ہوچکا ہے، توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ برقرار ہے اور اس کی سیاسی قیمت بھی سامنے آچکی ہے۔ خود ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی ایک وجہ ایران جنگ بھی تھی، تاہم ان کا اصرار تھا کہ انہوں نے درست فیصلہ کیا تھا اور موقع ملنے پر وہ دوبارہ بھی یہی اقدام کریں گے۔ کیا بیرون ملک حکومت کی تبدیلی کے مقصد سے شروع کیے گئے فوجی آپریشن نے اس کے برعکس واشنگٹن میں سیاسی حالات کی تبدیلی کی راہ ہموار کردی ہے؟

یہ ایسا سوال ہے جسے مارکیٹیں نظرانداز کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتیں۔ ایران جنگ نے مہنگائی اور شرح سود کے پہلے ہی پیچیدہ منظرنامے میں غیر یقینی صورتحال کا ایک اور عنصر شامل کردیا ہے۔ کشیدگی میں اضافے، مذاکرات اور آبنائے ہرمز کی سلامتی سے متعلق ہر نئی اطلاع کے ساتھ تیل کی قیمتوں میں نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ بدھ کے روز سامنے آنے والی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 103 سے 104 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہی، اگرچہ مختلف اوقات میں مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق اس کا رخ بھی بدلتا رہا۔ پہلے ہی بلند شرح سود اور مہنگی توانائی کے مسائل سے دوچار معیشتوں کے لیے طویل جنگ کا امکان کسی طور اطمینان بخش نہیں۔

اس تنازع کے سیاسی اثرات صرف واشنگٹن تک محدود نہیں ہیں۔ یورپ میں توانائی کے بحران نے پہلے سے موجود مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کے دباؤ کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے نتیجے میں عوامی بے چینی اور احتجاج میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ یورپی حکومتوں کو ایک ایسے تنازع کے اندرون ملک اثرات سے نمٹنا پڑ رہا ہے جس کا آغاز انہوں نے نہیں کیا، جبکہ عام گھرانے ایندھن، ٹرانسپورٹ اور دیگر ضروری اشیا و خدمات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیاسی قیادت نے اس بات کا اندازہ لگانے میں غلطی کی کہ بیرون ملک کیا گیا فوجی فیصلہ کتنی تیزی سے اندرون ملک معاشی بوجھ بن سکتا ہے؟ امریکا میں ووٹرز نے اب اپنا جواب انتخابی نتائج کے ذریعے دے دیا ہے۔

سرمایہ کاروں کے لیے ڈیموکریٹس کی کامیابی کا یہ مطلب نہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیاں لازماً تبدیل ہوجائیں گی۔ خارجہ پالیسی اور محصولات کے معاملات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس اب بھی وسیع صدارتی اختیارات موجود ہیں، جبکہ صدارتی ویٹو قانون سازی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ ڈیموکریٹس کے پاس اس ویٹو کو ختم کرنے کے لیے مطلوبہ تعداد بھی نہیں۔ تاہم، کانگریس کا کنٹرول تبدیل ہونے سے سیاسی ماحول ضرور بدل گیا ہے۔ حکومتی اخراجات کی تحقیقات، سماعتوں اور جانچ پڑتال میں اضافے کا امکان ہے، جبکہ انتظامیہ کے لیے اپنے وسیع تر ایجنڈے پر قانون سازوں کی حمایت حاصل کرنا بھی مشکل ہوسکتا ہے۔

یہ فرق بالخصوص ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ سرمایہ کار مصنوعی ذہانت، ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر اور اے آئی کے فروغ کے لیے درکار بھاری سرمایہ کاری پر سخت نگرانی کے امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ ٹیکساس اور جارجیا میں ڈیموکریٹس کی کامیابیاں اس لیے اہم ہیں کہ ان دونوں ریاستوں میں ڈیٹا سینٹرز کی مجوزہ سرمایہ کاری کا بڑا حصہ مختص ہے۔ مقامی سطح پر مخالفت، تعمیراتی اجازت ناموں کے حصول اور بجلی کی فراہمی کے بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل وفاقی سطح پر وسیع قانون سازی سے زیادہ اہم ثابت ہوسکتے ہیں، کیونکہ ایسی قانون سازی کو بھی صدارتی ویٹو کی رکاوٹ کا سامنا ہوگا۔ ایشیائی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں ابتدا میں شدید گراوٹ دیکھی گئی، جس میں جاپان کا ٹیکنالوجی شعبہ سب سے زیادہ متاثر ہونے والوں میں شامل تھا، تاہم بعد ازاں نقصانات میں کچھ کمی آئی۔

وسیع تر تشویش توانائی کی قیمتوں، مہنگائی، شرح سود اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی مالی ضروریات کے باہمی تعلق سے متعلق ہے۔ اگر ایران تنازع کے باعث تیل کی قیمتیں بلند رہتی ہیں تو مرکزی بینکوں کے لیے شرح سود میں کمی کی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔ مالی وسائل کی لاگت بڑھنے سے ڈیٹا سینٹرز اور دیگر بھاری سرمایہ کاری کے حامل منصوبوں کی مالی اعانت مزید مہنگی ہوجائے گی، خصوصاً ان کمپنیوں کے لیے جو قرضوں پر انحصار کرتی ہیں۔ اس صورتحال سے مصنوعی ذہانت کے شعبے میں کی جانے والی غیر معمولی سرمایہ کاری اور اس سے سرمایہ کاروں کی متوقع آمدنی کے درمیان فرق نمایاں ہوسکتا ہے۔ اصل خطرہ یہ نہیں کہ اے آئی میں سرمایہ کاری کا سلسلہ اچانک ختم ہوجائے گا، بلکہ یہ ہے کہ سرمائے کی لاگت بڑھنے سے اس سرمایہ کاری کے معاشی جواز کا دفاع مشکل ہوجائے گا۔

ڈالر کی قدر میں کمی اور سونے کی قیمت میں اضافے سے بھی نئے سیاسی منظرنامے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال کی عکاسی ہوتی ہے۔ ابتدائی کاروباری رپورٹس کے مطابق سونے کی قیمت 4,000 ڈالر فی اونس سے تجاوز کرگئی، جبکہ بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر دباؤ کا شکار رہا۔ تاہم، ان دونوں تبدیلیوں کو حتمی فیصلہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ نسبتاً کم محاذ آرائی پر مبنی سیاسی ماحول بالآخر امریکی اثاثوں سے منسلک خطرات کے اضافی پریمیم میں کمی اور ڈالر کو سہارا دینے کا باعث بن سکتا ہے۔ اس کے برعکس مالیاتی پالیسی پر اختلافات، ادارہ جاتی کشمکش اور جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کو محتاط رکھ سکتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان کی مارکیٹ میں کاروبار کا رخ نسبتاً واضح اور مثبت رہا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 3,994.62 پوائنٹس یا 2.38 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا۔ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی خریداری، تیل کی قیمتوں میں استحکام اور امریکا ایران روابط کی بحالی کی امیدوں نے بھی اس تیزی میں کردار ادا کیا۔ گزشتہ کاروباری سیشن میں بھی مارکیٹ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا، اس لیے تازہ تیزی کو صرف امریکی انتخابات کا نتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ تاہم، واشنگٹن کی جانب سے نسبتاً محتاط طرزِ عمل اپنانے، جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں ممکنہ کمی اور درآمدی مہنگائی گھٹنے کی توقعات نے مارکیٹ کے اعتماد کو واضح طور پر تقویت دی۔

یوں امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوری بعد مارکیٹوں کا ردعمل ریلیف اور غیر یقینی صورتحال کا امتزاج ہے۔ سیاسی تعطل کے نتیجے میں پالیسیوں میں اچانک اور غیر متوقع تبدیلیوں کا امکان محدود ہونے کی توقع پر حصص کی مارکیٹوں میں بحالی دیکھی گئی۔ مالیاتی نظم و ضبط کی امیدوں نے بانڈز کو تقویت دی، جبکہ ڈالر کی کمزوری اور نئے سیاسی منظرنامے سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے سونے کی قیمت کو سہارا دیا۔ دوسری جانب ایران تنازع کے اثرات کا سب سے براہِ راست پیمانہ تیل بدستور خلیج کی صورتحال کے رحم و کرم پر رہا۔

شاید اس پیش رفت کا سب سے اہم نتیجہ انتخابی نہیں بلکہ سیاسی ہے۔ دوسرے ملک میں نظامِ حکومت تبدیل کرنے کے نام پر شروع کی گئی جنگ نے اپنے ملک کے سیاسی نظام کو ہی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ نئی کانگریس ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا رخ بدلنے میں کس حد تک کامیاب ہوگی۔ تاہم، مارکیٹیں اس سیاسی ہلچل سے فائدہ اٹھانے والے ایک ممکنہ فریق کی نشاندہی کرچکی ہیں۔ کئی ماہ تک بجٹ خسارے، مہنگائی اور جغرافیائی سیاسی عزائم کی بھاری قیمت سے پریشان رہنے کے بعد بانڈ مارکیٹ کو بالآخر جشن منانے کی ایک غیر متوقع وجہ مل گئی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف