BR100 Increased By (1.92%)
BR30 Increased By (2.11%)
KSE100 Increased By (1.62%)
KSE30 Increased By (1.72%)
BAFL 58.31 Increased By ▲ 0.51 (0.88%)
BIPL 24.18 Increased By ▲ 0.41 (1.72%)
BOP 31.99 Increased By ▲ 1.09 (3.53%)
CNERGY 11.82 Decreased By ▼ -0.15 (-1.25%)
DFML 15.42 Increased By ▲ 0.15 (0.98%)
DGKC 201.85 Increased By ▲ 6.84 (3.51%)
FABL 93.11 Increased By ▲ 1.02 (1.11%)
FCCL 58.35 Increased By ▲ 1.57 (2.77%)
FFL 13.40 Increased By ▲ 0.06 (0.45%)
GGL 18.87 Increased By ▲ 0.49 (2.67%)
HBL 302.90 Increased By ▲ 7.46 (2.53%)
HUBC 207.29 Increased By ▲ 3.12 (1.53%)
HUMNL 8.70 Increased By ▲ 0.05 (0.58%)
KEL 6.06 Increased By ▲ 0.06 (1%)
LOTCHEM 24.89 Increased By ▲ 0.52 (2.13%)
MLCF 101.90 Increased By ▲ 4.41 (4.52%)
OGDC 313.29 Increased By ▲ 2.82 (0.91%)
PAEL 34.33 Increased By ▲ 1.26 (3.81%)
PIBTL 13.44 Increased By ▲ 0.29 (2.21%)
PIOC 263.85 Increased By ▲ 10.94 (4.33%)
PPL 219.80 Increased By ▲ 2.63 (1.21%)
PRL 84.55 Decreased By ▼ -1.11 (-1.3%)
SNGP 95.64 Increased By ▲ 1.52 (1.61%)
SSGC 23.65 Increased By ▲ 0.33 (1.42%)
TELE 6.90 Increased By ▲ 0.17 (2.53%)
TPLP 12.93 Increased By ▲ 0.26 (2.05%)
TRG 53.70 Increased By ▲ 0.53 (1%)
UNITY 7.85 Increased By ▲ 0.08 (1.03%)
WTL 0.95 Increased By ▲ 0.01 (1.06%)
کاروبار اور معیشت

پی آئی اے کے بیڑے کی بحالی شروع، جنوری میں دو مزید طیارے شامل ہوں گے

  • نجکاری کے بعد ایئرلائن اپنی آپریشنل صلاحیت بحال کرنے اور خدمات بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے، پی آئی اے حکام
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے نجکاری کے بعد اپنے فضائی بیڑے کی بحالی اور توسیع کا عمل شروع کردیا ہے، جس کے تحت دو بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے بیڑے میں شامل کیے جا رہے ہیں، جبکہ نسبتاً نئے دو مزید طیارے جنوری 2027 میں پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو غیر رسمی طور پر بریفنگ دیتے ہوئے پی آئی اے کے جنرل منیجر نے بتایا کہ ایک بوئنگ 787 ڈریم لائنر پہلے ہی پاکستان پہنچ چکا ہے، جبکہ دوسرا طیارہ ابتدائی شیڈول کے مطابق 15 دسمبر 2026 کو پہنچنا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایئرلائن نے تقریباً 7 سے 8 سال پرانے دو مزید طیاروں کا بھی انتظام کیا ہے، جو جنوری 2027 میں بیڑے کا حصہ بنیں گے۔ یہ طیارے قومی ایئرلائن کے پہلے سے موجود عمر رسیدہ طیاروں کے مقابلے میں خاصے نئے ہیں، جن میں سے کئی دو دہائیوں سے زیادہ پرانے ہیں۔

پی آئی اے حکام کے مطابق نجکاری کے بعد ایئرلائن اپنی آپریشنل صلاحیت بحال کرنے اور خدمات بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔ مزید گراؤنڈ کیے گئے طیاروں کو بھی بین الاقوامی سپلائرز سے انجن دستیاب ہونے پر دوبارہ آپریشنل کیا جائے گا۔

سیکریٹری نجکاری عثمان باجوہ نے کمیٹی کو بتایا کہ برطانیہ کے لیے پی آئی اے کی پروازوں پر مسافروں کی رائے حوصلہ افزا رہی ہے، خصوصاً پروازوں کے اوقات اور کھانے کے معیار کے حوالے سے۔ انہوں نے کہا کہ روٹس میں توسیع کی حکمت عملی کے تحت مارچ 2027 سے کراچی اور لندن کے درمیان براہ راست پروازیں بھی شروع کی جائیں گی۔

اجلاس میں پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران نے پی آئی اے کے جنرل منیجر سے درخواست کی کہ کمیٹی ارکان کے لیے اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے دورے کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ بوئنگ 787 ڈریم لائنر کی آمد اور روانگی کا مشاہدہ کرسکیں۔

قائمہ کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر فاروق ستار نے اس تجویز پر عمل درآمد کی ہدایت کی۔

پی آئی اے کے جنرل منیجر نے بتایا کہ نجکاری کے وقت 15 طیارے آپریشنل جبکہ 16 گراؤنڈ تھے۔ اب آپریشنل طیاروں کی تعداد بڑھ کر 17 سے 18 ہوگئی ہے، جبکہ 14 طیارے اب بھی گراؤنڈ ہیں۔ انجن اور دیگر ضروری وسائل دستیاب ہونے پر انہیں بتدریج دوبارہ سروس میں شامل کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ مزید طیاروں کی بحالی سے پروازوں کے نیٹ ورک میں توسیع اور ایئرلائن کی مارکیٹ میں موجودگی بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

کمیٹی نے دیگر ملکی ایئرلائنز کے مقابلے میں پی آئی اے کے نسبتاً مہنگے ٹکٹوں پر بھی تشویش ظاہر کی۔ جنرل منیجر نے اعتراف کیا کہ بعض اوقات پی آئی اے کے ٹکٹ دوسری ایئرلائنز کے مقابلے میں 2 ہزار سے 3 ہزار روپے مہنگے ہوتے ہیں، تاہم کرایوں کا تعین طلب اور رسد کی صورتحال کے مطابق ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی سفر کی مارکیٹ میں برقرار رہنے کے لیے ایئرلائن کو مسابقتی ہونا ہوگا۔

دوسری جانب اجلاس میں حکومتی ارکان کی عدم شرکت پر بھی تنازع سامنے آیا۔ پیپلز پارٹی کے میڈیا سیل کے مطابق ن لیگ کا کوئی رکن اجلاس میں شریک نہیں ہوا اور صرف ڈاکٹر فاروق ستار سمیت پیپلز پارٹی کے تین ارکان موجود تھے۔ پارٹی نے دعویٰ کیا کہ کورم پورا نہ ہونے کے باعث کمیٹی اپنا طے شدہ کام آگے نہیں بڑھا سکتی تھی۔

پیپلز پارٹی نے حکومتی ارکان کی عدم شرکت کو پارلیمانی کارروائی سے بے اعتنائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کورم کی کمی کے باعث قومی اسمبلی کے اجلاسوں کی بار بار معطلی اور قائمہ کمیٹیوں میں حکومتی ارکان کی عدم موجودگی پارلیمانی نگرانی کے عمل کو کمزور کر رہی ہے۔ پارٹی نے الزام عائد کیا کہ حکومتی ارکان کی دانستہ غیر حاضری پارلیمنٹ کو غیر مؤثر بنانے کی کوشش دکھائی دیتی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف