حکومت کا کھاد پر فی بوری 5 ہزار روپے تک سبسڈی دینے پر غور
- حکومت کھاد کی دستیابی اور قیمتوں سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، رانا تنویر حسین
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے منگل کو کہا ہے کہ حکومت کسانوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کھاد کی فی بوری پت 3 ہزار اور 5 ہزار روپے سبسڈی دینے کی تجاویز پر غور کر رہی ہے۔
انہوں نے یہ بات قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے کہی، جس کی صدارت رکن قومی اسمبلی سید حسین طارق نے کی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ پنجاب حکومت کھاد کی فی بوری پر 3 ہزار روپے سبسڈی دینے پر غور کر رہی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا نے فی بوری پت 5 ہزار روپے کی سبسڈی اشیاء کی صورت میں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
رانا تنویر حسین نے کہا کہ حکومت کھاد کی دستیابی اور قیمتوں سے متعلق مسائل حل کرنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
قائمہ کمیٹی نے ربیع سیزن 2026-27 کے لیے 50 ہزار ٹن ڈی اے پی کھاد کی حالیہ درآمد کو سراہا۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ کھاد کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی اور جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے معاملے کو متعلقہ وزارت کے ساتھ اٹھایا جائے تاکہ درآمدی مرحلے پر سہولت فراہم کرکے کھاد کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے۔
کمیٹی نے ربیع 2026-27 کے لیے گندم کی ریکارڈ کاشت اور 2026-27 کی فصل کے لیے 40 کلوگرام گندم کی امدادی قیمت 4 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کے اعلان کا بھی خیرمقدم کیا۔
وزارت قومی غذائی تحفظ و تحقیق کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ چاول کی پیداوار میں 8 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سید حسین طارق نے وزارت کو ہدایت کی کہ ہر صورت کسانوں کو سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے تمام صوبوں میں سبسڈی کا یکساں طریقہ کار اور ملک بھر میں کھاد کی یکساں قیمت مقرر کرنے پر زور دیا۔
کمیٹی نے چوزوں کے گرینڈ پیرنٹ اور پیرنٹ اسٹاک کی درآمد پر ریگولیٹری ڈیوٹی سے استثنیٰ کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ ان درآمدات کو پی سی ٹی کوڈز 0105.1100 اور 0105.9400 کے تحت واضح طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے، تاہم ایس آر او 1064(I)/2026 میں دوہری اندراجات کے باعث پیدا ہونے والے ابہام کو دور کرنے کی ضرورت پر غور کیا گیا۔
وزارت کے حکام نے بتایا کہ یہ معاملہ اکتوبر 2026 میں وزارت تجارت میں ٹیرف پالیسی بورڈ کے 15ویں اجلاس میں پیش کیا گیا تھا۔ بورڈ نے متفقہ طور پر معاملہ غور اور منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ کمیٹی نے اس معاملے پر مزید غور کے لیے آئندہ اجلاس میں وزارت خزانہ اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مدعو کرنے کا فیصلہ کیا۔
قائمہ کمیٹی نے بعض ترامیم کے ساتھ سیڈ (ترمیمی) بل 2026 منظور کرلیا اور قومی اسمبلی کو سفارش کی کہ بل کو کمیٹی کی تجویز کردہ ترامیم کے ساتھ منظور کیا جائے۔
اجلاس میں ارکان قومی اسمبلی ندیم عباس، عبدالقادر خان، شمائلہ رانا، نذیر احمد بھٹیو، سید ابرار علی شاہ، سید ایاز شیرازی، سید جاوید علی شاہ جیلانی، عثمان علی اور دیگر متعلقہ حکام نے بھی شرکت کی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments