حملوں کے باوجود آرامکو کے منافع میں 34.5 فیصد اضافہ
- دوسری سہ ماہی میں کمپنی کا خالص منافع 32.7 ارب ڈالر رہا تھا۔
سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی آرامکو نے منگل کو بتایا کہ حملوں کا نشانہ بننے کے باوجود رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں اس کے خالص منافع میں 34.5 فیصد اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجوہات آمدنی میں اضافہ اور ایک مشترکہ منصوبے سے علیحدگی ہیں۔
دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ ادارے نے بتایا کہ 30 ستمبر کو ختم ہونے والی تین ماہ کی مدت کے دوران اس کا خالص منافع 36.25 ارب ڈالر رہا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 26.9 ارب ڈالر تھا۔
دوسری سہ ماہی میں کمپنی کا خالص منافع 32.7 ارب ڈالر رہا تھا۔
تیسری سہ ماہی میں ایڈجسٹ شدہ خالص آمدنی تقریباً 31.2 ارب ڈالر رہی، جو آرامکو کی جانب سے 12 تجزیہ کاروں کے فراہم کردہ تخمینوں کی درمیانی سطح 30.66 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے باعث آرامکو کی تیل کی پیداوار میں کمی آئی ہے، تاہم تیل کی بلند قیمتوں نے کم پیداواری حجم کے اثرات کو زائل کر دیا ہے۔
آرامکو خلیج میں اپنے مشرقی ٹرمینلز سے خام تیل برآمد کر رہی ہے، جو اس کی روایتی برآمدی گزرگاہ ہیں، جبکہ ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کے ذریعے بحیرہ احمر میں واقع مغربی ٹرمینلز سے بھی تیل بھیجا جا رہا ہے۔ کمپنی کے چیف ایگزیکٹو امین ناصر نے اس پائپ لائن کو انتہائی اہم سہارا قرار دیا ہے۔
فروری کے اواخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد جنگ شروع ہوئی تو اس پائپ لائن کے ذریعے تیل کی ترسیل میں اضافہ کر دیا گیا تھا، تاہم تنازع کے دوران اسے کئی مرتبہ حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
یمن کے حوثیوں کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران تازہ لڑائی چھڑنے کے بعد سعودی عرب کے توانائی کے دیگر بنیادی ڈھانچے اور آرامکو کے ہیڈکوارٹرز کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔


Comments