BR100 Increased By (0.74%)
BR30 Increased By (0.95%)
KSE100 Increased By (0.79%)
KSE30 Increased By (0.62%)
BAFL 58.25 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 23.35 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
BOP 28.49 Increased By ▲ 0.39 (1.39%)
CNERGY 12.33 Increased By ▲ 0.05 (0.41%)
DFML 15.11 Increased By ▲ 0.04 (0.27%)
DGKC 185.60 Increased By ▲ 3.24 (1.78%)
FABL 92.81 Increased By ▲ 0.31 (0.34%)
FCCL 54.65 Increased By ▲ 0.84 (1.56%)
FFL 12.82 Increased By ▲ 0.02 (0.16%)
GGL 18.41 Increased By ▲ 0.30 (1.66%)
HBL 287.35 Increased By ▲ 2.18 (0.76%)
HUBC 196.46 Increased By ▲ 1.18 (0.6%)
HUMNL 8.50 Increased By ▲ 0.02 (0.24%)
KEL 5.73 Increased By ▲ 0.09 (1.6%)
LOTCHEM 23.81 Increased By ▲ 0.26 (1.1%)
MLCF 93.90 Increased By ▲ 1.94 (2.11%)
OGDC 303.85 Increased By ▲ 2.17 (0.72%)
PAEL 32.10 Increased By ▲ 0.29 (0.91%)
PIBTL 12.95 Increased By ▲ 0.17 (1.33%)
PIOC 240.96 Increased By ▲ 5.33 (2.26%)
PPL 214.00 Increased By ▲ 1.94 (0.91%)
PRL 83.47 Decreased By ▼ -3.79 (-4.34%)
SNGP 90.99 Increased By ▲ 0.98 (1.09%)
SSGC 22.95 Increased By ▲ 0.09 (0.39%)
TELE 6.55 Increased By ▲ 0.11 (1.71%)
TPLP 12.29 Increased By ▲ 0.13 (1.07%)
TRG 52.55 Increased By ▲ 0.68 (1.31%)
UNITY 7.70 Increased By ▲ 0.09 (1.18%)
WTL 0.95 Increased By ▲ 0.01 (1.06%)
پاکستان

پاکستان کی جی ایس پی پلس حیثیت کی تجدید کا مرحلہ قریب ہے، جرمن سفیر

  • جی ایس پی پلس سے مستفید ہونے والے ممالک کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی، میڈیا سے گفتگو
شائع اپ ڈیٹ

جنرلائزڈ اسکیم آف پریفرنسز پلس (جی ایس پی پلس) کے تحت پاکستان کی حیثیت، جس کی بدولت یورپی یونین پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی منڈی ہے اور اس میں جرمنی سرفہرست ہے، نئے تجارتی فریم ورک کے 2028 میں آغاز سے قبل تجدید کے مرحلے میں ہے۔

جرمنی کی پاکستان میں سفیر اینا لیپل نے پیر کو یہاں ایک میٹ دی پریس پروگرام میں بتایا کہ گزشتہ موسم سرما میں نگرانی کے دورے کے بعد یورپی یونین نے جولائی میں ایک رپورٹ جاری کی تھی، جس میں ان اہم شعبوں کی نشاندہی کی گئی جن میں پاکستان کو ضوابط کی پاسداری کے لیے اقدامات کرنا ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس سے مستفید ہونے والے ممالک کو دوبارہ درخواست دینا ہوگی اور حکام کو امید ہے کہ پاکستان ترجیحی تجارتی حیثیت برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات قابل اطمینان انداز میں مکمل کرلے گا۔

جرمن سفیر نے کہا کہ جرمنی پاکستان کے جاری آئی ایم ایف پروگرام کی میرٹ کی بنیاد پر حمایت کرتا ہے اور حالیہ معاشی دھچکوں کے باوجود پاکستان کی معیشت میں لچک کے مثبت آثار نظر آرہے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت ساختی اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی پیش رفت پروگرام کے آئندہ مراحل میں بھی جاری رہے گی۔

ان کے مطابق جرمنی اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت 2017 سے تقریباً 3.5 ارب یورو پر جمود کا شکار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اقتصادی تعلقات کے باوجود اس میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ پاکستان 1959 میں جرمنی کے ساتھ سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ کرنے والا پہلا ملک تھا۔

تاہم جرمن سفیر نے کہا کہ عالمی سطح پر سپلائی چین کو متنوع بنانے کی کوششوں کے باعث جرمن کمپنیوں کی پاکستان میں دلچسپی دوبارہ بڑھ رہی ہے۔ پاکستان کی بڑی صارف منڈی اور اسٹرٹیجک محل وقوع کو اہم قرار دیتے ہوئے انہوں نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کے فروغ کے لیے آئندہ جرمنی پاکستان بزنس فورم اور دبئی میں جرمن اماراتی جوائنٹ چیمبر آف کامرس کے تحت قائم کیے گئے نئے پاکستان ڈیسک کا ذکر کیا، جو سرحد پار کاروباری معاہدوں میں سہولت فراہم کرے گا۔

انہوں نے بتایا کہ جرمنی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے پاکستانی طلبہ کی تعداد گزشتہ ایک دہائی میں دوگنی سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔ 2017 میں یہ تعداد 6 ہزار تھی، جو اب بڑھ کر 13 ہزار ہوگئی ہے۔

جرمن حکام کے مطابق پاکستانی طلبہ کی بڑی تعداد کی بنیادی وجہ وہاں سرکاری جامعات میں مفت تعلیم کی سہولت ہے، جو بین الاقوامی طلبہ کے لیے عملاً اسکالرشپ کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ انہیں صرف رہائشی اخراجات برداشت کرنا ہوتے ہیں۔

جرمن اکیڈمک ایکسچینج سروس (ڈی اے اے ڈی) اور پاکستان کے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے قریبی تعاون سے دونوں ممالک کے درمیان تعلیمی اور ہنرمند افرادی قوت کی نقل و حرکت میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف