بنگلہ دیش میں گارمنٹس ورکرز کی تنخواہوں پر نظرثانی کیلئے ویج بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ
- مزدور رہنماؤں اور صنعت کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد حکومت باضابطہ طور پر ویج بورڈ تشکیل دے گی تاکہ کشیدگی کم کی جاسکے، حکام
بنگلہ دیش کی حکومت نے گارمنٹس ورکرز کی تنخواہوں پر نظرثانی کے لیے اتوار کو ویج بورڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس دوران ملک میں احتجاج کے باعث درجنوں فیکٹریاں بند ہوگئیں اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
جنوبی ایشیائی ملک میں گارمنٹس ورکرز کم از کم ماہانہ اجرت 30 ہزار ٹکا (245 ڈالر) مقرر کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، جو موجودہ 12 ہزار 500 ٹکا سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ مزدوروں کا کہنا ہے کہ خوراک، رہائش، ٹرانسپورٹ اور صحت کی سہولیات کے اخراجات میں اضافے سے ان کی قوت خرید بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
لیبر اینڈ ایمپلائمنٹ کے وزیر عارف الحق چوہدری نے کہا کہ مزدور رہنماؤں اور صنعت کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد حکومت باضابطہ طور پر ویج بورڈ تشکیل دے گی تاکہ کشیدگی کم کی جاسکے۔
ہفتے کو احتجاج کے باعث ڈھاکا کے مضافات میں واقع اہم صنعتی مرکز اشولیا کی تقریباً 30 گارمنٹس فیکٹریوں نے تعطیل کا اعلان کردیا۔ سینکڑوں مزدوروں نے دارالحکومت کے ایک اہم چوراہے کو بند کردیا، جبکہ دیگر صنعتی علاقوں میں مظاہروں سے ٹریفک اور فیکٹریوں کی سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔
پولیس کے مطابق اشولیا میں مظاہرین اور اہلکاروں کے درمیان جھڑپوں میں پولیس اہلکاروں سمیت متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور ساؤنڈ گرینیڈ استعمال کیے گئے۔
عارف الحق چوہدری نے مزدوروں سے کام پر واپس آنے کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ فیکٹریوں کی طویل بندش اور پیداوار میں تعطل سے برآمدی ترسیلات اور عالمی خریداروں کی ادائیگیوں میں تاخیر ہوسکتی ہے۔
بنگلہ دیش کی گارمنٹس صنعت میں تقریباً 40 لاکھ افراد کام کرتے ہیں اور یہ شعبہ ملکی برآمدات میں 80 فیصد سے زائد حصہ ڈالتا ہے، تاہم صنعت کو بڑھتی پیداواری لاگت، گیس و بجلی کی قلت اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔


Comments