BR100 Decreased By (-0.55%)
BR30 Decreased By (-0.86%)
KSE100 Decreased By (-0.47%)
KSE30 Decreased By (-0.6%)
BAFL 57.77 Decreased By ▼ -0.12 (-0.21%)
BIPL 23.15 Decreased By ▼ -0.05 (-0.22%)
BOP 28.35 Decreased By ▼ -0.31 (-1.08%)
CNERGY 13.64 Decreased By ▼ -0.44 (-3.13%)
DFML 15.41 Decreased By ▼ -0.32 (-2.03%)
DGKC 178.15 Decreased By ▼ -3.85 (-2.12%)
FABL 91.40 Decreased By ▼ -0.50 (-0.54%)
FCCL 52.28 Decreased By ▼ -0.33 (-0.63%)
FFL 12.90 Decreased By ▼ -0.09 (-0.69%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 291.55 Decreased By ▼ -3.35 (-1.14%)
HUBC 193.18 Decreased By ▼ -0.86 (-0.44%)
HUMNL 8.57 Increased By ▲ 0.20 (2.39%)
KEL 5.79 Decreased By ▼ -0.17 (-2.85%)
LOTCHEM 23.89 Decreased By ▼ -0.58 (-2.37%)
MLCF 90.51 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
OGDC 306.78 Increased By ▲ 0.57 (0.19%)
PAEL 32.33 Decreased By ▼ -0.39 (-1.19%)
PIBTL 12.93 Decreased By ▼ -0.15 (-1.15%)
PIOC 233.14 Decreased By ▼ -1.42 (-0.61%)
PPL 213.93 Decreased By ▼ -1.59 (-0.74%)
PRL 96.96 Decreased By ▼ -3.85 (-3.82%)
SNGP 90.53 Decreased By ▼ -1.31 (-1.43%)
SSGC 22.53 Decreased By ▼ -0.61 (-2.64%)
TELE 6.72 Decreased By ▼ -0.09 (-1.32%)
TPLP 12.60 Increased By ▲ 0.31 (2.52%)
TRG 51.96 Decreased By ▼ -1.12 (-2.11%)
UNITY 7.79 Increased By ▲ 0.11 (1.43%)
WTL 0.94 Decreased By ▼ -0.01 (-1.05%)
دنیا

شام مکہ دفاعی معاہدے میں شمولیت پر غور کررہا ہے، وزیر خارجہ

  • رواں سال اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا
شائع اپ ڈیٹ

شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ دمشق پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ پر مشتمل مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لے رہا ہے۔

بحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسعد الشیبانی نے کہا کہ شام کی مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب یمن کے حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں ان کے خلاف حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ان حملوں میں رواں ماہ ایک بڑا حملہ بھی شامل ہے، جس کے باعث ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ دو ہفتوں تک بند رہا۔

رواں سال اگست میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے مکہ مکرمہ میں دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پاکستان اور ترکیہ نے حوثی باغیوں کے خلاف کسی حملے کا اعلان نہیں کیا ہے۔

اس ماہ کے اوائل میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے اچانک ریاض کا دورہ کیا تھا اور کہا تھا کہ فرانس نے حوثی حملوں سے سعودی عرب کی ایک اہم آئل ٹرمینل کی حفاظت کے لیے فوجی دستے بھیجے ہیں۔

اسی طرح اکتوبر میں برطانوی حکومت نے بھی سعودی عرب کو حوثی حملوں سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے برطانوی لڑاکا طیارے تعینات کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Comments

200 حروف