پاکستانی معدنیات کے شعبے میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے وئیر کے مذاکرات
- کمپنی پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 (پی ایم آئی ایف 26) میں پلاٹینم اسپانسر کے طور پر شرکت کرے گی
پاکستان عالمی سطح پر کان کنی کی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی وئیر کے ساتھ ملک کے معدنیات کے شعبے میں ممکنہ تعاون کے حوالے سے مذاکرات کر رہا ہے۔
اسکاٹ لینڈ میں قائم انجینئرنگ سلوشنز فراہم کرنے والی اس کمپنی نے حکومت پاکستان کے ساتھ طویل مدتی تعلقات قائم کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔یہ بات وزارتِ پیٹرولیم نے بدھ کو بتائی۔
یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وئیر کے ڈائریکٹر برائے کمیونیشن ای ایم ای اے اور پاکستان کے ایگزیکٹو اسپانسر جے ڈی سنگلٹن کے درمیان ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ ملاقات میں پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں تعاون کے امکانات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران دونوں فریقوں نے پاکستان کے ابھرتے ہوئے معدنیاتی شعبے میں دستیاب مواقع، کان کنی کی جدید ٹیکنالوجی کے کردار اور اسٹریٹیجک تعاون کے ممکنہ شعبوں پر گفتگو کی۔
علی پرویز ملک نے پاکستان کے معدنیاتی شعبے میں وئیر کی شرکت کا خیرمقدم کیا اور کمپنی کو ملک میں اپنی سرگرمیوں اور طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے حکومت کی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وفاقی وزیر نے پاکستان میں اپنی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے اور ملک کے معدنی وسائل کی ترقی کے لیے عالمی مہارت فراہم کرنے میں وئیر کی دلچسپی کو سراہا۔
کان کنی کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں عالمی سطح پر کام کرنے والی کمپنی وئیر کے دنیا کے 50 سے زائد ممالک میں 11 ہزار سے زیادہ ملازمین ہیں۔ کمپنی نے پاکستان اور صنعت کے اہم فریقوں کے ساتھ طویل مدتی تعلقات قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
بیان کے مطابق کمپنی پاکستان منرلز انویسٹمنٹ فورم 2026 ( پی ایم آئی ایف 26 ) میں پلاٹینم اسپانسر کے طور پر شرکت کرے گی۔
وئیر کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اینڈریو نیلسن سمیت کمپنی کی اعلیٰ قیادت پر مشتمل وفد 12 اور 13 نومبر 2026 کو اسلام آباد میں ہونے والے فورم میں شرکت کرے گا۔
وفاقی وزیر نے پاکستان کے ساتھ وئیر کے تعاون کا خیرمقدم کرتے ہوئے اعتماد ظاہر کیا کہ عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری سے معدنی وسائل کو جدید، مؤثر اور پائیدار انداز میں ترقی دینے میں مدد ملے گی، جبکہ اس شعبے میں سرمایہ کاری راغب کرنے کی کوششوں کو بھی تقویت حاصل ہوگی۔


Comments