BR100 Decreased By (-1%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.95%)
KSE30 Decreased By (-1.02%)
BAFL 55.51 Increased By ▲ 0.30 (0.54%)
BIPL 23.97 Decreased By ▼ -0.20 (-0.83%)
BOP 27.30 Decreased By ▼ -0.62 (-2.22%)
CNERGY 12.40 Increased By ▲ 0.05 (0.4%)
DFML 15.79 Decreased By ▼ -0.39 (-2.41%)
DGKC 175.58 Decreased By ▼ -2.63 (-1.48%)
FABL 90.01 Decreased By ▼ -0.40 (-0.44%)
FCCL 49.65 Decreased By ▼ -0.37 (-0.74%)
FFL 13.36 Decreased By ▼ -0.27 (-1.98%)
GGL 18.69 Decreased By ▼ -0.26 (-1.37%)
HBL 283.26 Decreased By ▼ -2.49 (-0.87%)
HUBC 187.86 Decreased By ▼ -2.78 (-1.46%)
HUMNL 8.05 Decreased By ▼ -0.24 (-2.9%)
KEL 5.55 Decreased By ▼ -0.08 (-1.42%)
LOTCHEM 23.04 Decreased By ▼ -0.89 (-3.72%)
MLCF 86.63 Decreased By ▼ -0.91 (-1.04%)
OGDC 298.12 Decreased By ▼ -2.38 (-0.79%)
PAEL 32.05 Decreased By ▼ -0.72 (-2.2%)
PIBTL 12.55 Decreased By ▼ -0.31 (-2.41%)
PIOC 224.17 Decreased By ▼ -3.51 (-1.54%)
PPL 210.17 Decreased By ▼ -4.03 (-1.88%)
PRL 94.52 Decreased By ▼ -0.60 (-0.63%)
SNGP 90.13 Decreased By ▼ -0.52 (-0.57%)
SSGC 22.52 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 6.66 Decreased By ▼ -0.08 (-1.19%)
TPLP 11.51 Increased By ▲ 0.23 (2.04%)
TRG 52.54 Decreased By ▼ -2.19 (-4%)
UNITY 7.62 Decreased By ▼ -0.07 (-0.91%)
WTL 0.89 Decreased By ▼ -0.01 (-1.11%)
رائے

موٹاپے سے لاحق خطرات

  • پاکستان میں غیر متوازن غذا، جسمانی سرگرمیوں میں کمی اور پیدل چلنے کے رجحان میں گراوٹ موٹاپے اور اس سے جڑے امراض میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔
شائع اپ ڈیٹ

بھوک سے نڈھال بچوں کی تصاویر دنیا بھر میں خاصی توجہ حاصل کرتی ہیں، اسی لیے عالمی ذرائع ابلاغ میں ایسی خبریں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہتی ہیں۔ ان تصاویر میں بچوں کے بازو اور ٹانگیں سوکھی ہوئی شاخوں کی مانند دکھائی دیتے ہیں۔ عموماً یہ بچے افریقی ممالک کے ہوتے ہیں۔

بلاشبہ افریقہ اور ایشیا سمیت دنیا کے بیشتر ممالک، حتیٰ کہ پاکستان میں بھی، بھوک سے متاثرہ بچے موجود ہیں، لیکن اگر میں آپ کو بتاؤں کہ ضرورت سے زیادہ کھانا کھانے کا مسئلہ بھوک سے زیادہ عام ہے تو شاید آپ اسے مذاق سمجھیں۔ اور یہ بات صرف امیر اور خوش حال طبقے تک محدود نہیں۔

ٹیلی ویژن پر افریقہ اور ایشیا کے بھوک سے نڈھال افراد کی تصاویر دیکھتے رہنے کے باعث ہم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ بھوک دنیا کو درپیش سب سے بڑا مسئلہ ہے۔

چند سال قبل آسٹریلیا میں ہونے والی ایک بین الاقوامی کانفرنس میں پیش کیے گئے اعداد و شمار نے اس کے برعکس ایک مختلف تصویر پیش کی۔ یونیورسٹی آف نارتھ کیرولائنا کے ماہرِ غذائیت پروفیسر بیری پاپکن کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں غذائی قلت کا شکار افراد کے مقابلے میں موٹاپے کے شکار افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔

دنیا میں موٹاپے کی بلند ترین شرح امریکا میں جبکہ سب سے کم شرح جاپان میں ہے۔ برطانیہ میں تقریباً دو تہائی بالغ افراد موٹاپے کا شکار سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں تقریباً پانچواں حصہ مردوں جبکہ لگ بھگ ایک چوتھائی خواتین پر مشتمل ہے۔ اس سے بھی زیادہ تشویش ناک رجحان بچوں میں موٹاپے کا بڑھنا ہے، جہاں چھ سال کی عمر کے بچوں میں یہ شرح دوگنی جبکہ 15 سالہ بچوں میں تین گنا ہو چکی ہے۔

موٹاپے کی وجوہات محض غیر صحت بخش خوراک یا کھانے پینے کی ناقص عادات تک محدود نہیں۔ اس کانفرنس میں کئی دلچسپ حقائق سامنے آئے، جن میں سے ایک یہ تھا کہ اگر شہری منصوبہ بندی درست خطوط پر کی جائے تو موٹاپے کے امکانات میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کی مثال جاپان ہے، جہاں عوامی نقل و حرکت کا نظام انتہائی مؤثر ہے اور روزمرہ زندگی کا بڑا حصہ اسی نظام اور پیدل چلنے پر منحصر ہے۔

اس کے برعکس امریکا میں لوگ عموماً نجی گاڑیوں کے ذریعے کام پر جاتے ہیں اور سپر مارکیٹوں تک پہنچنے کے لیے بھی گاڑیوں کا استعمال کرتے ہیں۔ وہاں پورا نظام ہی نجی گاڑیوں کے ذریعے آمدورفت کے گرد گھومتا ہے۔ نتیجتاً جاپان میں ایک اوسط مرد روزانہ تقریباً چار میل پیدل چلتا ہے، جبکہ اس کے امریکی ہم منصب کے روزانہ قدموں کی تعداد صرف ایک ہزار سے تین ہزار کے درمیان رہتی ہے۔

برصغیر میں موٹاپا بالخصوص نوجوان لڑکیوں کے لیے محض صحت کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی مسئلہ بھی ہے۔ والدین کو ان کے لیے مناسب رشتے تلاش کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ یوں ان لڑکیوں کے لیے موٹاپا نہ صرف صحت کے لیے خطرہ بنتا ہے بلکہ شدید نفسیاتی دباؤ اور سماجی مشکلات کا سبب بھی بن جاتا ہے، جو ان کی زندگیوں پر دیرپا منفی اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ موٹاپے میں اضافے کی شرح کے لحاظ سے پاکستان اب ایشیا میں پہلے نمبر پر ہے۔ آغا خان ورلڈ اوبیسٹی کے 2024ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 72 فیصد بالغ افراد زائد وزن جبکہ 27 فیصد موٹاپے کا شکار ہیں۔

اس کی معقول وجوہات بھی موجود ہیں۔ معیاری اور غذائیت سے بھرپور خوراک مہنگی ہے، چنانچہ لوگ پیٹ بھرنے کے لیے نسبتاً سستی غذائیں خریدتے ہیں۔ مثال کے طور پر صبح کا ناشتہ ہی لے لیجیے۔

پیٹ بھرنے کے لیے سب سے سستا ناشتہ تیل، آٹے، چینی اور چائے پر مشتمل ہوتا ہے۔ صبح کے وقت میں ایک سستے ہوٹل کے پاس سے گزرتا ہوں، جہاں بعض راہ گیر موٹر سوار مالک کو پیسے دے جاتے ہیں تاکہ وہ قطار میں کھڑے بھوکے مردوں، عورتوں اور بچوں کو ناشتہ کرا دے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان میں سے کوئی بھی نوالہ حلق سے اتارنے سے پہلے اس کی کیلوریز کے بارے میں سوچتا ہوگا، جب کہ ممکن ہے وہ ایک گھنٹے سے بھی زیادہ وقت سے کھانے کے انتظار میں کھڑے ہوں؟

دوسری جانب ایسے افراد بھی ہیں جو نسبتاً بہتر اور متوازن ناشتے کا خرچ برداشت کر سکتے ہیں، لیکن ان کی زندگی میں بھی کچھ دیگر عوامل موٹاپے میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

پاکستان کے ابتدائی برسوں میں سائیکل کا استعمال عام تھا۔ بیشتر لوگ سائیکل پر دفتر جاتے تھے، جبکہ پیدل دفتر جانے والے افراد روزانہ اوسطاً پانچ سے سات کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے تھے۔

آج یہ اوسط کم ہو کر تقریباً ایک کلومیٹر رہ گئی ہے، کیونکہ پیدل چلنے کا رجحان بہت کم ہو چکا ہے اور رکشوں، موٹر سائیکلوں اور آن لائن ٹیکسی سروسز کا استعمال بے تحاشا بڑھ گیا ہے۔

ایسا نہیں کہ کراچی یا ملک کے دیگر حصوں کے لوگ پیدل چلنا پسند نہیں کرتے، بلکہ انہیں سڑکوں پر نکلنے سے خوف آتا ہے کہ کہیں وہ موبائل فون چھیننے والے جرائم پیشہ افراد یا سڑکوں پر آزادانہ گھومنے والے دیگر مجرموں کا آسان شکار نہ بن جائیں۔ یہی وجہ ہے کہ مختصر فاصلے بھی کسی نہ کسی سواری کے ذریعے طے کیے جاتے ہیں۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق کراچی میں بھی موٹاپا تیزی سے پھیل رہا ہے۔ شہر میں 28 سے 53 فیصد افراد زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ہیں۔ جامعہ کراچی میں پیش کیے گئے پاک صحت کے ایک مطالعے میں بظاہر صحت مند 2,000 افراد کا جائزہ لیا گیا، جن میں 72 سے 80 فیصد موٹاپے کا شکار پائے گئے۔ ان میں 45 فیصد کو بلند فشارِ خون جبکہ 35 فیصد کو ذیابیطس لاحق تھی۔

یہ تمام اعداد و شمار تشویش ناک ہیں اور اس حقیقت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ صحت مند رہنے کے لیے دن میں دو مرتبہ پیٹ بھر کر کھانا اور بھرپور ناشتہ کرنا ہی کافی نہیں۔ موٹاپے کے منفی اثرات سے بچنے کے لیے متوازن غذا اختیار کرنا ضروری ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026ء

Comments

200 حروف