حکومت نے کراچی انڈسٹریل پارک کو وفاقی خصوصی اقتصادی زون قرار دے دیا
- بورڈ نے نجی شعبے میں قائم خصوصی اقتصادی زونز کو یوٹیلیٹیز اور متعلقہ خدمات کی فراہمی کے لیے اہلیت کے معیار کی بھی منظوری دے دی
حکومت نے برآمدات پر مبنی سرمایہ کاری کو راغب کرنے، ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کراچی انڈسٹریل پارک (کے آئی پی) کو وفاقی خصوصی اقتصادی زون (ایس ای زیڈ) قرار دینے کی منظوری دے دی ہے۔
وزارتِ خزانہ کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، یہ منظوری جمعے کے روز اسلام آباد میں خصوصی اقتصادی زونز کے بورڈ آف اپروولز (بی او اے) کے 11ویں اجلاس میں دی گئی، جس کی صدارت وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کی۔
بورڈ نے خصوصی اقتصادی زونز ایکٹ 2012 کے تحت نجی شعبے میں قائم خصوصی اقتصادی زونز کو سرکاری فنڈنگ کے ذریعے یوٹیلیٹیز اور متعلقہ خدمات فراہم کرنے کے لیے عمومی اہلیت کے معیار کی بھی منظوری دے دی۔
ان معیارات کے تحت ہر معاملے کا الگ جائزہ لے کر نجی شعبے میں قائم زونز کے مقررہ زیرو پوائنٹ تک سڑکوں تک رسائی، یوٹیلیٹیز اور دیگر ضروری بنیادی ڈھانچے کی سرکاری فنڈنگ سے فراہمی پر غور کرنے کا طریقۂ کار وضع کیا گیا ہے۔
ایک اور فیصلے میں بورڈ نے پنجاب میں سرکاری شعبے کے خصوصی اقتصادی زونز اور صنعتی اسٹیٹس کے لیے زمین لیز پر دینے کی پالیسی کی منظوری بھی دی۔ اس کا مقصد زمین کے حصول پر ابتدائی اخراجات کم کرکے صنعتی سرمایہ کاری کو سہولت فراہم کرنا اور سرکاری صنعتی اراضی کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا ہے۔
اس پالیسی کے تحت طویل مدتی لیز کے انتظامات کے ذریعے اہم صنعتی شعبوں اور برآمدات کی بلند صلاحیت رکھنے والی ابھرتی ہوئی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔
یہ فیصلے صنعتی ترقی کو فروغ دینے، سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے اور برآمدات پر مبنی پیداوار میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کی حوصلہ افزائی کے لیے حکومتی کوششوں کی عکاسی کرتے ہیں۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے بورڈ آف انویسٹمنٹ قیصر احمد شیخ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وزیر تجارت جام کمال خان، وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور پنجاب کے وزیر برائے صنعت، تجارت و سرمایہ کاری شافع حسین نے شرکت کی۔
وزارتِ خزانہ، بورڈ آف انویسٹمنٹ، خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی)، وفاقی اور صوبائی خصوصی اقتصادی زونز کے متعلقہ حکام، متعلقہ وزارتوں اور صوبائی محکموں کے اعلیٰ افسران اور مختلف شعبوں کے نمائندے بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔


Comments