BR100 Decreased By (-1.5%)
BR30 Decreased By (-2.07%)
KSE100 Decreased By (-1.21%)
KSE30 Decreased By (-1.53%)
BAFL 55.21 Decreased By ▼ -0.37 (-0.67%)
BIPL 24.17 Decreased By ▼ -0.13 (-0.53%)
BOP 27.92 Decreased By ▼ -0.31 (-1.1%)
CNERGY 12.35 Decreased By ▼ -0.17 (-1.36%)
DFML 16.18 Increased By ▲ 0.21 (1.31%)
DGKC 178.21 Decreased By ▼ -3.96 (-2.17%)
FABL 90.41 Decreased By ▼ -0.71 (-0.78%)
FCCL 50.02 Decreased By ▼ -1.28 (-2.5%)
FFL 13.63 Decreased By ▼ -0.31 (-2.22%)
GGL 18.95 Decreased By ▼ -0.31 (-1.61%)
HBL 285.75 Decreased By ▼ -6.52 (-2.23%)
HUBC 190.64 Decreased By ▼ -4.25 (-2.18%)
HUMNL 8.29 Decreased By ▼ -0.37 (-4.27%)
KEL 5.63 Decreased By ▼ -0.10 (-1.75%)
LOTCHEM 23.93 Decreased By ▼ -0.23 (-0.95%)
MLCF 87.54 Decreased By ▼ -2.31 (-2.57%)
OGDC 300.50 Decreased By ▼ -2.55 (-0.84%)
PAEL 32.77 Decreased By ▼ -0.30 (-0.91%)
PIBTL 12.86 Decreased By ▼ -0.24 (-1.83%)
PIOC 227.68 Decreased By ▼ -4.63 (-1.99%)
PPL 214.20 Decreased By ▼ -2.47 (-1.14%)
PRL 95.12 Decreased By ▼ -4.76 (-4.77%)
SNGP 90.65 Decreased By ▼ -1.18 (-1.28%)
SSGC 22.55 Decreased By ▼ -0.66 (-2.84%)
TELE 6.74 Decreased By ▼ -0.24 (-3.44%)
TPLP 11.28 Decreased By ▼ -0.13 (-1.14%)
TRG 54.73 Decreased By ▼ -2.10 (-3.7%)
UNITY 7.69 Decreased By ▼ -0.10 (-1.28%)
WTL 0.90 Decreased By ▼ -0.03 (-3.23%)
دنیا

مصنوعی ذہانت امیر اور غریب ممالک کے درمیان خلیج بڑھا سکتی ہے، آئی ایم ایف، او ای سی ڈی

  • مصنوعی ذہانت عالمی ترقی میں 0.5 فیصد تک اضافہ کرسکتی ہے، تاہم 40 فیصد ملازمتیں متاثر ہونے کا خدشہ، منصفانہ استعمال اور مہارتوں کی ترقی ناگزیر قرار
شائع اپ ڈیٹ

مصنوعی ذہانت (اے آئی) عالمی معاشی ترقی کو فروغ دے سکتی ہے، تاہم بجلی، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور مہارتوں تک رسائی بہتر نہ ہونے کی صورت میں غریب ممالک، چھوٹی کمپنیوں اور نوجوان ملازمین کے پیچھے رہ جانے کا خطرہ ہے۔ یہ انتباہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور اقتصادی تعاون و ترقی کی تنظیم (او ای سی ڈی) کے حکام نے دیا ہے۔

چِپس اور مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری عالمی ترقی اور اسٹاک مارکیٹوں میں تیزی کا سبب بنی ہے لیکن بڑھتے ہوئے قرضوں کی لاگت کے باعث خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں کہ کمپنیاں اس بھاری سرمایہ کاری سے مناسب منافع حاصل کر سکیں گی یا نہیں۔

آئی ایم ایف کے مطابق مصنوعی ذہانت کا مؤثر استعمال درمیانی مدت میں سالانہ عالمی ترقی میں 0.5 فیصد تک اضافہ کرسکتا ہے، جبکہ او ای سی ڈی کا تخمینہ ہے کہ رکن ممالک میں سالانہ پیداواری نمو 0.4 سے 1.2 فیصد تک بڑھ سکتی ہے۔

او ای سی ڈی کے چیف اکانومسٹ اسٹیفانو اسکارپیٹا کے مطابق کاروباری اداروں میں مصنوعی ذہانت کا استعمال عام صارفین کے مقابلے میں محدود ہے اور اس کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانے میں نمایاں فرق موجود ہے۔

آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً 40 فیصد ملازمتیں مصنوعی ذہانت سے متاثر ہوسکتی ہیں۔ بارکلیز نے ٹیکنالوجی کے ذریعے اخراجات کم کرنے کے لیے رواں سال تقریباً 5 ہزار ملازمتیں ختم کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ ای بے اور کوالکوم میں بھی ملازمین کی تعداد کم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔

Comments

200 حروف