پی آئی اے کے نئے یونیفارم متعارف، پاکستانی ثقافت اور جدید فیشن کا امتزاج
- یہ کلیکشن کنسورشیم کی سربراہی میں نئی انتظامیہ کے تحت ایئرلائن کی جاری تبدیلیوں میں ایک اہم پیش رفت ہے، ترجمان
پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) نے معروف فیشن ڈیزائنر حسن شہریار یاسین (ایچ ایس وائی) کے تیار کردہ کیبن کریو کے نئے یونیفارم متعارف کرا دیے ہیں۔ ایئرلائن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ یونیفارم ورثے، جدید نفاست اور مہمان نوازی کے امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے کہا کہ یہ کلیکشن کنسورشیم کی سربراہی میں نئی انتظامیہ کے تحت ایئرلائن کی جاری تبدیلیوں میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اس کا مقصد دورانِ پرواز مسافروں کے تجربے کو جدید اور پُرکشش انداز دینا ہے، جس میں مسافروں کے آرام اور عملے کے فخر کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔
پی آئی اے کی تجارتی ہوا بازی کو عالمی معیار کے فیشن سے جوڑنے کی ایک منفرد روایت رہی ہے۔ ایئرلائن کے مطابق 1966 میں فرانس کے معروف ڈیزائنر پیئر کارڈن نے پی آئی اے کے لیے جدید طرز کا اے لائن ٹونک اور ہُڈ ڈیزائن کیا تھا، جس نے دنیا بھر میں ہوا بازی کے فیشن کو نئی پہچان دی۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ 1970 کی دہائی میں ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کے شاہی فیشن ڈیزائنر سر ہارڈی ایمیز نے نفیس تراش خراش کے ذریعے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ بعد ازاں معروف پاکستانی ڈیزائنر نومی انصاری نے پی آئی اے کے یونیفارم کے لیے ڈیزائن پیش کیا، جس سے ایئرلائن نے 12 سال تک استفادہ کیا۔
اب یہ ذمہ داری جنوبی ایشیا کے ممتاز فیشن ڈیزائنرز میں شمار ہونے والے ایچ ایس وائی کو سونپی گئی ہے۔ وہ عالمی سطح پر ریڈ کارپٹ فیشن، ہالی ووڈ اسٹائلنگ اور بین الاقوامی شخصیات کے ملبوسات تیار کرنے کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ایچ ایس وائی اس کلیکشن میں پاکستان کی بھرپور ٹیکسٹائل روایت کو جدید اور بین الاقوامی طرز کی تراش خراش کے ساتھ یکجا کر رہے ہیں۔
ایچ ایس وائی نے کہا کہ قومی ایئرلائن کے لیے یونیفارم تیار کرنے کا مقصد اجتماعی قومی فخر اور پاکستانی مہمان نوازی کی حقیقی گرم جوشی کو اجاگر کرنا ہے۔ ان کے مطابق یونیفارم ایسے ہونے چاہییں جنہیں پہن کر عملہ پُراعتماد اور آرام دہ محسوس کرے، جو قومی ورثے کا احترام کریں، جدید فیشن کی عکاسی کریں اور دنیا بھر کے ہوائی اڈوں پر پاکستان کی کہانی خوبصورتی سے بیان کریں۔
پی آئی اے کے مطابق نئے یونیفارم کی تیاری میں آرام اور سہولت کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ طویل دورانیے کی پروازوں میں پائیداری اور آسان نقل و حرکت کو مدنظر رکھتے ہوئے نرم، ہوا دار کپڑوں اور باقاعدہ تراش خراش کو یکجا کیا گیا ہے۔ رنگوں اور تفصیلات میں پاکستان کی ثقافتی دستکاری کی جھلک نمایاں ہے، جبکہ بلند پرواز کے دوران درکار نفاست اور عملی ضروریات کو بھی برقرار رکھا گیا ہے۔
یونیفارم کا حتمی ڈیزائن کراچی میں منعقدہ ایک مقابلے اور مشترکہ نمائش کے بعد منتخب کیا گیا، جس میں پاکستان کے 10 ممتاز فیشن ڈیزائنرز نے فیشن کی معروف شخصیات اور صنعت کے رہنماؤں پر مشتمل جیوری کے سامنے اپنے تخلیقی تصورات پیش کیے۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق مسافروں کو نئے یونیفارم دیکھنے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑے گا۔ یہ یونیفارم 31 اکتوبر 2026 کو لندن سے اسلام آباد جانے والی پی آئی اے کی بوئنگ 787-9 ڈریم لائنر کی پہلی پرواز میں باضابطہ طور پر متعارف کرائے جائیں گے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ پیش رفت آرام، نفاست اور قومی فخر کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگی، جو پاکستان کو دنیا سے جوڑنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔



Comments