پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا، انقرہ
- بدر مفاہمتی یادداشت کا مقصد فوجی پیداوار میں تعاون اور دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے
پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی تعاون بڑھانے اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے بدھ کو ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ ترکیہ کی وزارت دفاع نے یہ اعلان کیا۔
وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ چاروں ممالک نے دوحہ میں ’’بدر مفاہمتی یادداشت‘‘ پر دستخط کیے، جس کا مقصد باہمی تعاون کو مزید گہرا کرنا اور شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔
بیان کے مطابق یہ معاہدہ معاشی اعتبار سے بھی خاص اہمیت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد فوجی پیداوار میں تعاون کو فروغ دینا، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور فوجی تربیت، تحقیق و ترقی کے شعبوں میں اشتراک کو تقویت دینا ہے۔
وزارت نے مزید کہا کہ ہر ملک کی منفرد فوجی پیداواری صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ اقدام باہمی تعاون اور انضمام کو فروغ دے گا، دفاعی صنعت کی استعداد میں اضافہ کرے گا اور اتحادی و دوست ممالک کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے گا۔
نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والا ترکیہ ایک مضبوط دفاعی صنعت کا حامل ہے اور قطر سمیت خلیجی ممالک کی دفاعی صلاحیتیں بڑھانے میں مدد فراہم کر رہا ہے۔ قطر میں ترکیہ کا فوجی اڈہ بھی موجود ہے۔
اگست میں ترکیہ نے جوہری ہتھیاروں کے حامل پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت ایک فریق پر حملے کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ انقرہ کے انڈونیشیا کے ساتھ بھی قریبی تعلقات ہیں، بالخصوص دفاعی صنعت کے شعبے میں۔
ترکیہ کی وزارت دفاع کے مطابق بدر معاہدہ چاروں ممالک کی دفاعی صنعتوں کے درمیان تعلقات مضبوط بنانے، سلامتی کے فروغ اور مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تعاون بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

Comments