ایلون مسک کا اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے انضمام پر غور، خصوصی کمیٹیاں قائم
- کمپنی کو پہلی بار بطور پبلک کمپنی منافع، مسک کو 2027 کے اختتام تک سالانہ بار بار حاصل ہونے والی آمدن 500 ارب سے ایک کھرب ڈالر تک پہنچنے کی توقع
ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے انضمام کو اچھا خیال قرار دے دیا، دونوں کمپنیوں نے مجوزہ معاہدے پر غور کے لیے خصوصی کمیٹیاں قائم کرلیں۔ اس پیش رفت کے بعد توسیعی کاروباری سیشن میں اسپیس ایکس کے حصص 8 فیصد بڑھ گئے۔
اس سے قبل کمپنی نے بطور پبلک کمپنی اپنا پہلا منافع ریکارڈ کیا تھا جبکہ ایلون مسک نے توقع ظاہر کی کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث ڈیٹا سینٹرز کے لیے اس کی خدمات کی طلب میں اضافے سے 2027 کے اختتام تک سالانہ بار بار حاصل ہونے والی آمدن 500 ارب سے ایک کھرب ڈالر کے درمیان پہنچ سکتی ہے۔
ماضی میں بھی ایلون مسک نے اسپیس ایکس اور ٹیسلا کو یکجا کرنے کے امکان کا ذکر کرکے سرمایہ کاروں کی توجہ حاصل کی تھی۔ ان کے مطابق دونوں کمپنیوں کے کاروبار میں باہمی اشتراک کے امکانات بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ عرصے میں اسپیس ایکس کی جانب سے الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا کو خریدنے کے حوالے سے قیاس آرائیوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ مالیاتی ادارے بارکلیز نے گزشتہ ہفتے امکان ظاہر کیا تھا کہ دسمبر میں ٹیسلا کے سالانہ اجلاس سے قبل اس معاہدے کا اعلان ہوسکتا ہے۔
مسک نے سرمایہ کاروں کے ساتھ ایک کانفرنس کال کے دوران کہا کہ میرے خیال میں یہ ایک اچھا خیال ہوگا، لیکن اس کا فیصلہ دونوں کمپنیوں کی خصوصی کمیٹیوں کو کرنا ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب باضابطہ طور پر تصدیق ہوئی کہ دونوں کمپنیاں انضمام کے معاملے پر باقاعدہ بات چیت کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا چونکہ اس معاملے میں میرے مفادات کا ٹکراؤ ہے، اس لیے میں خصوصی کمیٹیوں کے مذاکرات میں براہِ راست شریک نہیں ہوسکتا۔ان کمیٹیوں میں آزاد ڈائریکٹرز شامل ہیں۔
مسک کے مطابق خصوصی کمیٹیاں سرمایہ کاروں کی درخواست پر قائم کی گئی ہیں۔ کسی بھی معاہدے کی صورت میں حصص یافتگان کی منظوری بھی درکار ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں دونوں کمپنیوں کو یکجا کرنے کے بہت سے فوائد ہیں، کیونکہ ہم تقریباً سپر انٹیلی جنس کے ایک غیر معمولی مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں۔ سپر انٹیلی جنس سافٹ ویئر کی تیاری، چِپ ڈیزائن، ظاہر ہے ٹیرافیب، روبوٹکس، اسٹار مائنڈ سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے بڑے پیمانے پر اشیا کو مدار میں پہنچانے اور رابطے کی سہولتوں سمیت متعدد شعبوں میں تعاون سے بہت کچھ حاصل کیا جاسکتا ہے۔
مسک نے بتایا کہ دونوں کمپنیوں کے مشترکہ منصوبے ٹیرافیب سے آئندہ سال مئی یا جون کے آس پاس پہلی آزمائشی چِپ تیار ہونے کی توقع ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر پیداوار کا ہدف 2028 کی تیسری سہ ماہی مقرر کیا گیا ہے۔ ٹیرافیب چِپس کی تیاری کا مشترکہ منصوبہ ہے۔
مسک نے مزید کہا کہ اسپیس ایکس اور ٹیسلا کے انضمام کو یقینی سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے مطابق خصوصی کمیٹیاں ابھی تک معاہدے کی شرائط پر متفق نہیں ہوئی ہیں اور ممکن ہے کہ کبھی اتفاق نہ ہو۔ توسیعی کاروباری سیشن میں ٹیسلا کے حصص کی قیمت بھی 1.8 فیصد بڑھ گئی۔
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کے پاس ٹیسلا کے تقریباً پانچویں حصے اور اسپیس ایکس کے نصف سے کچھ کم حصص ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انضمام کی صورت میں انہیں دونوں کمپنیوں کے مشترکہ ادارے پر کنٹرول حاصل ہوسکتا ہے۔
معاملے سے واقف ایک شخص نے رائٹرز کو بتایا کہ دونوں کمپنیوں کے درمیان بات چیت گزشتہ چند ہفتوں کے دوران شروع ہوئی اور اس کے نتیجے میں اسپیس ایکس، ٹیسلا کو خرید سکتی ہے۔ اس شخص نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی کیونکہ اسے میڈیا سے گفتگو کی اجازت نہیں تھی۔ ان کے مطابق ٹیسلا نے ان مذاکرات کے حوالے سے مشاورت کے لیے ایک سرمایہ کاری بینک کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔
اے آئی سے حاصل ہونے والی آمدن اسپیس ایکس کی کاروباری شکل بدل رہی ہے
اسپیس ایکس کی آمدن 30 ستمبر کو ختم ہونے والی سہ ماہی میں گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 161 فیصد اضافے کے ساتھ 14.58 ارب ڈالر ہوگئی۔ مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والی آمدن تقریباً 10 گنا بڑھ کر 7.56 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اس آمدن کا بڑا حصہ اپنے اے آئی ماڈلز کے بجائے اینتھروپک، الفابیٹ کی گوگل اور ریفلیکشن اے آئی جیسی کمپنیوں کو ڈیٹا سینٹرز کی گنجائش کرائے پر فراہم کرنے سے حاصل ہوا۔
تیسری سہ ماہی کے نتائج سے اب تک کے واضح ترین شواہد ملے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اسپیس ایکس کی بھاری سرمایہ کاری آمدن میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، اگرچہ کمپیوٹنگ انفرااسٹرکچر پر اخراجات اب بھی بہت زیادہ ہیں۔ اس شعبے میں سرمایہ جاتی اخراجات تقریباً تین گنا بڑھ کر 19.6 ارب ڈالر ہوگئے۔
اس تبدیلی سے کمپنی کی کاروباری ساخت تبدیل ہورہی ہے۔ طویل عرصے سے اسپیس ایکس کی آمدن کا بنیادی ذریعہ اس کی اسٹارلنک انٹرنیٹ سروسز رہی ہیں، جبکہ اس کے طویل مدتی منصوبوں کا انحصار اب بھی اسٹار شپ راکٹوں کو باقاعدہ سروس میں شامل کرنے پر ہےمگر فی الحال اس کا بنیادی کاروبار کسی اے آئی لیبارٹری کے بجائے کلاؤڈ سروس فراہم کرنے والی کمپنی سے زیادہ مشابہ دکھائی دیتا ہے۔
اسپیس ایکس کے چیف فنانشل آفیسر بریٹ جانسن نے کہا کہ کمپنی کو چوتھی سہ ماہی میں سرمایہ جاتی اخراجات 35 ارب سے 40 ارب ڈالر تک رہنے کی توقع ہے۔
اثاثہ جاتی انتظامی کمپنی گرینائٹ شیئرز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ول رائنڈ نے کہا کہ اسپیس ایکس نے سہ ماہی میں وہ نتائج دیے ہیں جن کی توقع اس کے مثبت امکانات پر یقین رکھنے والے سرمایہ کار کر رہے تھے، کم از کم آمدن کے معاملے میں۔ اب پوری توجہ اے آئی پر ہے۔ رواں سال کے اوائل میں کیے گئے کمپیوٹنگ معاہدوں سے توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے آمدن حاصل ہورہی ہے۔
کمپنی کے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے کاروبار میں گروک، سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور تیزی سے وسعت اختیار کرتا ڈیٹا سینٹرز کا کاروبار شامل ہے۔ اس شعبے نے بھی تیسری سہ ماہی میں منافع حاصل کیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اسے خسارے کا سامنا تھا۔
اسپیس ایکس نے 4.4 ارب ڈالر کا خالص منافع ریکارڈ کیا، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں اسے 1.1 ارب ڈالر کا خالص خسارہ ہوا تھا۔ یہ منافع تجزیہ کاروں کی جانب سے لگائے گئے 1.57 ارب ڈالر کے تخمینے سے بھی کہیں زیادہ رہا۔ آئی بی ای ایس کے حسابات کے مطابق فی حصص ایڈجسٹ شدہ آمدن 45 سینٹ رہی، جبکہ تجزیہ کاروں نے اوسطاً 13 سینٹ کی توقع ظاہر کی تھی۔
اسٹارلنک کے صارفین کی تعداد اندازوں سے بڑھ گئی
سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروس اسٹارلنک کے صارفین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پیش رفت میں مزید سیٹلائٹس کے مدار میں بھیجنے اور عام صارفین، کاروباری اداروں، ہوا بازی، بحری شعبے اور سرکاری اداروں کے لیے خدمات کے دائرہ کار میں توسیع نے اہم کردار ادا کیا ہے۔
تیسری سہ ماہی میں اسٹارلنک کے صارفین کی تعداد 1 کروڑ 36 لاکھ تک پہنچ گئی، جو تجزیہ کاروں کے 1 کروڑ 21 لاکھ 90 ہزار صارفین کے تخمینے سے زیادہ ہے لیکن صارفین کی تعداد میں اضافے کے ساتھ کمپنی کو آمدن کے حوالے سے ایک چیلنج بھی درپیش ہے۔ بیرونِ ملک سستے پیکیجز متعارف کرانے کے باعث فی صارف اوسط ماہانہ آمدن 2023 میں 99 ڈالر سے کم ہوکر رواں سال کی تیسری سہ ماہی میں 69 ڈالر رہ گئی۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ امیر ترین ممالک سے آگے دیگر جغرافیائی منڈیوں تک کاروبار پھیلانے سے وقت کے ساتھ فی صارف اوسط آمدن میں مزید کمی آسکتی ہے۔
اسپیس ایکس کا جدید نسل کا دوبارہ استعمال کے قابل راکٹ نظام اسٹار شپ تاحال تجارتی خدمات کے لیے فعال نہیں ہوا۔ توقع ہے کہ اس کے ذریعے زیادہ گنجائش والے اسٹارلنک سیٹلائٹس اور مدار میں مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ کے بنیادی ڈھانچے کو نصب کرنا ممکن ہوگا۔ اسٹار شپ کو قابلِ اعتماد انداز میں بار بار استعمال کے قابل بنانا کمپنی کی طویل مدتی حکمت عملی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اسپیس ایکس کے خلائی شعبے میں تجارتی راکٹ لانچز، سرکاری مشنز اور اسٹار شپ کی تیاری شامل ہیں۔ یہ شعبہ کمپنی کے اخراجات کا ایک اہم حصہ ہے اور اس سے متعلق منصوبوں میں اب بھی غیر یقینی صورت حال پائی جاتی ہے۔


Comments