پنجاب میں جانوروں کی برآمدات میں 43 فیصد اضافہ ریکارڈ
- ایک سال کے دوران برآمد کیلئے 4 لاکھ جانور تیار کیے گئے
پنجاب کے لائیو اسٹاک شعبے میں جانوروں کی برآمدات میں 43 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ایک سال کے دوران برآمد کیلئے 4 لاکھ جانور تیار کیے گئے جبکہ دیہی علاقوں کے مویشی پال کسانوں کو 11 ارب روپے آمدن ہونے کی توقع ہے۔
بیان کے مطابق وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے شروع کی گئی لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے تحت کسانوں کو جانوروں کی خوراک اور چارے کے اخراجات پورے کرنے کیلئے فی جانور 27 ہزار روپے فراہم کیے جارہے ہیں۔
صوبائی حکومت نے منہ کھر کی بیماری (ایف ایم ڈی) سے پاک آٹھ کمپارٹمنٹس کی منظوری دے دی ہے جبکہ چین، یورپ اور امریکا کو برآمدات میں سہولت فراہم کرنے کے لیے رواں سال مزید سات کمپارٹمنٹس قائم کرنے کا منصوبہ ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے تحت پالی جانے والی مجموعی طور پر ایک لاکھ 29 ہزار 581 جانور برآمد کیے جاچکے ہیں۔
حکومت پانچ میٹ پروسیسنگ پلانٹس اور پانچ جدید مذبح خانے قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جبکہ گوشت کی پیکنگ کی سہولتیں اور تجارتی و کارپوریٹ سطح پر مویشیوں کو فربہ کرنے کے مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔ مربوط لائیو اسٹاک ویلیو چین میں سرمایہ کاری کے لیے 19 ارب روپے کی مالی معاونت اور سبسڈی فراہم کی جائے گی جبکہ گوشت کی ویلیو چین میں نجی شعبے کی جانب سے 65 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
بیان کے مطابق پنجاب میں سرکاری و نجی شراکت داری کے تحت منہ کھر کی ویکسین تیار کرنے کا پہلا یونٹ بھی قائم کیا جائے گا جس میں نجی شعبے کی جانب سے 28 ارب روپے کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ضلع وار برآمدی اعدادوشمار کے مطابق لاہور سے 20 ہزار، بہاولپور سے 24 ہزار 297، فیصل آباد سے 12 ہزار 529، گوجرانوالہ اور گجرات سے 21 ہزار، ملتان سے 27 ہزار، سرگودھا سے 22 ہزار اور ساہیوال سے 2 ہزار 661 جانور برآمد کیے گئے۔
حکومت نے لائیو اسٹاک کنیکٹ نظام کے تحت ایک ہزار 725 مویشی فربہ کرنے والے فارمز، برآمدات کے لیے 20 مذبح خانوں، گوشت کے 88 برآمد کنندگان اور 34 گوشت کے تاجروں سے براہِ راست روابط قائم کیے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ لائیو اسٹاک کارڈ اسکیم کے تحت رجسٹرڈ دیہی خواتین مویشی پال کسانوں کی تعداد 90 سے بڑھ کر ایک ہزار 107 ہوگئی ہے۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت کا مقصد پنجاب کے مویشی پال کسانوں کو ملکی برآمد کنندگان اور بین الاقوامی ویب سائٹس سے منسلک کرنا ہے تاکہ ان کی منڈیوں تک رسائی بڑھائی جا سکے اور صوبے کو خطے میں لائیو اسٹاک کے ایک اہم مرکز کے طور پر ترقی دی جا سکے۔


Comments