BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.4%)
KSE100 Increased By (0.14%)
KSE30 Increased By (0.05%)
BAFL 55.65 Decreased By ▼ -0.12 (-0.22%)
BIPL 24.41 Increased By ▲ 0.08 (0.33%)
BOP 28.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.1%)
CNERGY 12.85 Increased By ▲ 0.05 (0.39%)
DFML 15.91 Decreased By ▼ -0.17 (-1.06%)
DGKC 182.00 Decreased By ▼ -0.40 (-0.22%)
FABL 91.49 Increased By ▲ 0.09 (0.1%)
FCCL 51.77 Decreased By ▼ -0.22 (-0.42%)
FFL 14.03 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.70 Decreased By ▼ -0.40 (-1.99%)
HBL 290.42 Increased By ▲ 0.98 (0.34%)
HUBC 193.43 Increased By ▲ 0.19 (0.1%)
HUMNL 9.29 Increased By ▲ 0.08 (0.87%)
KEL 6.09 Increased By ▲ 0.18 (3.05%)
LOTCHEM 25.41 Decreased By ▼ -0.41 (-1.59%)
MLCF 89.95 Decreased By ▼ -0.50 (-0.55%)
OGDC 299.10 Decreased By ▼ -3.15 (-1.04%)
PAEL 33.77 Increased By ▲ 0.04 (0.12%)
PIBTL 13.65 Decreased By ▼ -0.06 (-0.44%)
PIOC 231.93 Increased By ▲ 0.85 (0.37%)
PPL 218.87 Decreased By ▼ -0.38 (-0.17%)
PRL 106.95 Increased By ▲ 3.19 (3.07%)
SNGP 90.23 Increased By ▲ 0.10 (0.11%)
SSGC 22.91 Decreased By ▼ -0.11 (-0.48%)
TELE 7.11 Decreased By ▼ -0.12 (-1.66%)
TPLP 11.78 Decreased By ▼ -0.09 (-0.76%)
TRG 56.37 Increased By ▲ 0.90 (1.62%)
UNITY 7.93 Decreased By ▼ -0.11 (-1.37%)
WTL 0.96 Decreased By ▼ -0.02 (-2.04%)
مارکٹس

مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی سپلائی غیر یقینی، عالمی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ

  • برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 109.34 ڈالر فی بیرل ہوگئی
شائع اپ ڈیٹ

مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی رسد کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈیوں کو روس کی جانب سے ڈیزل کی ممکنہ فراہمی کا جائزہ لینے کے باعث تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور قیمتیں ہفتہ وار اضافے کی جانب گامزن رہیں۔

برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 3.41 ڈالر یعنی 3.2 فیصد اضافے کے ساتھ 109.34 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.74 ڈالر یعنی 2.8 فیصد بڑھ کر 100.67 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 21 ستمبر کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کرگئی۔

رواں ہفتے اب تک برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4.1 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 8.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بی او کے فنانشل کے نائب صدر برائے تجارت ڈینس کسلر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع بار بار سر اٹھا رہا ہے جبکہ یہ بھی غیر یقینی ہے کہ روس عالمی منڈیوں کو حقیقتاً کتنے حجم میں ڈیزل فراہم کر سکتا ہے۔ ان دونوں عوامل کے باعث تیل کے تاجر مسلسل خریداری کررہے ہیں۔

آبنائے ہرمز کے اطراف گزشتہ 10 روز کے دوران حملوں میں اضافے سے تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بھی بڑھ گئے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اور گزشتہ ماہ عائد کی گئی سخت پابندیوں کے جواب میں حملوں میں تیزی لارہا ہے۔

دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے جمعرات کو جنوبی شہر عدن میں صدارتی محل کے احاطے پر میزائل داغے جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔

کے پلر کے تجزیہ کاروں نے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا کہ ایران کے حملوں میں شدت کے باعث خلیجی خطے سے خام تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق جامع سیاسی معاہدے کی عدم موجودگی میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی بحالی سست اور غیر ہموار رہنے کا امکان ہے۔

ادھر یوکرین نے جمعرات کو روس کی ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل صدر ولودومیر زیلنسکی نے اعلان کیا تھا کہ کیف توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے متعلق جنگ بندی کے انتظام سے دستبردار ہورہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ زیلنسکی نے ماسکو کے ساتھ معاہدے کرنے پر ٹرمپ کے آمادگی کے رویے پر بھی تنقید کی۔

صنعتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ روس کی ریازان آئل ریفائنری نے جمعرات کو علاقے میں ڈرون حملے کے بعد خام تیل کشید کرنے والے اپنے ایک بڑے یونٹ میں کام معطل کردیا ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے جمعرات کو مارکیٹ میں 2 کروڑ بیرل سے زائد ایندھن جاری کرنے پر اتفاق کیا۔

ڈیزل کی فراہمی محدود ہونے کے باعث اس کے تجارتی مارجن میں اضافہ ہوا، جو ستمبر میں 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا۔ اس کمی کی وجوہات میں یوکرین اور ایران کی جنگیں شامل تھیں۔

Comments

200 حروف