مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی سپلائی غیر یقینی، عالمی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 109.34 ڈالر فی بیرل ہوگئی
مشرقِ وسطیٰ میں تیل کی رسد کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی صورتحال اور عالمی منڈیوں کو روس کی جانب سے ڈیزل کی ممکنہ فراہمی کا جائزہ لینے کے باعث تیل کی قیمتوں میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور قیمتیں ہفتہ وار اضافے کی جانب گامزن رہیں۔
برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت 3.41 ڈالر یعنی 3.2 فیصد اضافے کے ساتھ 109.34 ڈالر فی بیرل ہوگئی جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 2.74 ڈالر یعنی 2.8 فیصد بڑھ کر 100.67 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت 21 ستمبر کے بعد پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کرگئی۔
رواں ہفتے اب تک برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4.1 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت میں 8.6 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
بی او کے فنانشل کے نائب صدر برائے تجارت ڈینس کسلر نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع بار بار سر اٹھا رہا ہے جبکہ یہ بھی غیر یقینی ہے کہ روس عالمی منڈیوں کو حقیقتاً کتنے حجم میں ڈیزل فراہم کر سکتا ہے۔ ان دونوں عوامل کے باعث تیل کے تاجر مسلسل خریداری کررہے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے اطراف گزشتہ 10 روز کے دوران حملوں میں اضافے سے تیل کی فراہمی متاثر ہونے کے خدشات بھی بڑھ گئے۔ ایران نے کہا ہے کہ وہ اپنی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اور گزشتہ ماہ عائد کی گئی سخت پابندیوں کے جواب میں حملوں میں تیزی لارہا ہے۔
دوسری جانب یمن کے حوثی باغیوں نے جمعرات کو جنوبی شہر عدن میں صدارتی محل کے احاطے پر میزائل داغے جس کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے۔
کے پلر کے تجزیہ کاروں نے جمعرات کو جاری کردہ رپورٹ میں کہا کہ ایران کے حملوں میں شدت کے باعث خلیجی خطے سے خام تیل کی ترسیل میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ان کے مطابق جامع سیاسی معاہدے کی عدم موجودگی میں آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی بحالی سست اور غیر ہموار رہنے کا امکان ہے۔
ادھر یوکرین نے جمعرات کو روس کی ایک آئل ریفائنری کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل صدر ولودومیر زیلنسکی نے اعلان کیا تھا کہ کیف توانائی تنصیبات پر حملے روکنے سے متعلق جنگ بندی کے انتظام سے دستبردار ہورہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ زیلنسکی نے ماسکو کے ساتھ معاہدے کرنے پر ٹرمپ کے آمادگی کے رویے پر بھی تنقید کی۔
صنعتی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ روس کی ریازان آئل ریفائنری نے جمعرات کو علاقے میں ڈرون حملے کے بعد خام تیل کشید کرنے والے اپنے ایک بڑے یونٹ میں کام معطل کردیا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے جمعرات کو مارکیٹ میں 2 کروڑ بیرل سے زائد ایندھن جاری کرنے پر اتفاق کیا۔
ڈیزل کی فراہمی محدود ہونے کے باعث اس کے تجارتی مارجن میں اضافہ ہوا، جو ستمبر میں 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا تھا۔ اس کمی کی وجوہات میں یوکرین اور ایران کی جنگیں شامل تھیں۔


Comments