ایف پی سی سی آئی صدارت، یو بی جی کا بی ایم پی سے معاہدہ ختم کرنے کا مطالبہ
- دونوں گروپوں کے درمیان اتحاد کے معاملے پر اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں
یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے صدر زبیر طفیل نے یو بی جی اور بزنس مین پینل (بی ایم پی) کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے سرپرستِ اعلیٰ ایس ایم تنویر کو فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے صدارتی امیدوار کے طور پر متفقہ نامزدگی پر مبارک باد دیتے ہوئے زبیر طفیل نے کہا کہ یو بی جی کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے تجویز دی ہے کہ بزنس مین پینل (بی ایم پی) یا انجم نثار کے ساتھ اتحاد قائم کرنے کے فیصلے کو واپس لیا جائے یا منسوخ کردیا جائے۔
انہوں نے بی ایم پی کے سیکریٹری جنرل حاجی غلام علی کی جانب سے بھیجے گئے پیغامات پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حاجی غلام علی نے یو بی جی اور بی ایم پی کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی نقل ظاہر کردی تھی۔ دونوں گروپوں کے درمیان اتحاد کے معاملے پر اختلافات کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
زبیر طفیل نے کہا کہ بی ایم پی کے رہنماؤں پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا، کیونکہ وہ ماضی میں بھی اتحاد توڑ چکے ہیں۔
انہوں نے لاہور چیمبر کی مثال دیتے ہوئے الزام لگایا کہ بی ایم پی نے وہاں دو سالہ مدت حاصل کرنے کے بعد اپنا وعدہ توڑ دیا تھا۔
انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بی ایم پی کے رہنماؤں نے لاہور چیمبر کے صدر منتخب ہونے والے علی حسام اصغر کے ساتھ معاہدہ کیا لیکن بعد میں اس کی خلاف ورزی کی۔
انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ حاجی غلام علی اب یو بی جی اور بی ایم پی کے درمیان طے پانے والے معاہدے پر اختلافات پیدا کررہے ہیں جس پر یو بی جی کے حلقوں میں خاصی ناراضی پائی جاتی ہے۔
زبیر طفیل نے کہا کہ یو بی جی ایسے کاروباری رہنماؤں کے ساتھ اتحاد نہیں چاہتا جن کی ساکھ، قابلِ اعتماد ہونے اور اصولی موقف پر سوالات اٹھتے ہوں۔
انہوں نے زور دیا کہ گروپ کو اتحادوں پر انحصار کرنے کے بجائے کاروباری برادری کے ووٹوں پر اعتماد کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لینا چاہیے، خصوصاً ایسے رہنماؤں کے ساتھ اتحاد سے گریز کرنا چاہیے جن کی ساکھ مشکوک ہو۔


Comments