خیبر پختونخوا میں گورنر راج، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے آج توثیق کا امکان
- پیپلز پارٹی کا ایمرجنسی کے نفاذ کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں وفاقی حکومت کی حمایت کرنے کا فیصلہ
قومی اسمبلی اور سینیٹ سے آج (بدھ) الگ الگ قراردادیں منظور کیے جانے کا امکان ہے، جن کے ذریعے خیبر پختونخوا (کے پی) میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے اعلان کی توثیق کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے پارلیمنٹ میں وفاقی حکومت کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے اقدام کی توثیق کے لیے قرارداد اور قانون سازی کی غرض سے کل (جمعرات) پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی منعقد ہوگا۔
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 232(7) کے تحت ایمرجنسی کے اعلان کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کرنا لازم ہے، جسے صدر مملکت ایمرجنسی کے اعلان کے 30 روز کے اندر طلب کریں گے۔
آئین کے مطابق ایمرجنسی کا اعلان دو ماہ کی مدت پوری ہونے پر غیر مؤثر ہوجائے گا، جب تک اس مدت کے اختتام سے قبل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد کے ذریعے اس کی منظوری نہ دے دی جائے۔ مزید یہ کہ اگر دونوں ایوانوں کے مجموعی ارکان کی اکثریت مشترکہ اجلاس میں ایمرجنسی کے اعلان کو مسترد کرنے کی قرارداد منظور کرلے تو یہ اعلان غیر مؤثر ہوجائے گا۔
اس مقصد کے لیے صدر مملکت کی جانب سے وزیراعظم کے مشورے پر بدھ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس طلب کیے جانے کا امکان ہے۔
پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری کے لیے قرارداد اور قانون سازی کی پارلیمنٹ سے منظوری کے معاملے پر وفاقی حکومت کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ایوانِ صدر میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی مشترکہ صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ارکان نے شرکت کی۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں ارکان کو مجوزہ قانون سازی، خیبر پختونخوا کی سیاسی صورت حال اور امن و امان کی صورت حال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments