برگس کا شنگھائی میں الکاراز کو اپ سیٹ شکست، زیوریف نے سال کے اختتام پر عالمی نمبر ایک کا اعزار حاصل کرلیا
- کارلوس الکاراز کو شنگھائی میں زی زو برگس کے ہاتھوں اپ سیٹ شکست نے غیر متوقع طور پر الیگزینڈر زیوریف کو اے ٹی پی کی سال کے اختتام پر عالمی نمبر ایک کی درجہ بندی دلا دی
سات مرتبہ گرینڈ سلیم چیمپئن رہنے والے کارلوس الکاراز کو پیر کے روز شنگھائی ماسٹرز کے راؤنڈ آف 32 میں غیر سیڈڈ بیلجیئن کھلاڑی زی زو برگس کے ہاتھوں 7-5، 7-6 (4) سے اپ سیٹ شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس نتیجے نے الیگزینڈر زیوریف کی اے ٹی پی سال کے اختتام پر عالمی نمبر ایک کی حیثیت بھی یقینی بنا دی۔
جاپان اوپن کا اعزاز برقرار رکھنے اور کلائی کی چوٹ کے باعث تقریباً پانچ ماہ تک کھیل سے دور رہنے کے بعد دوبارہ اچھی فارم حاصل کرنے والے الکاراز دو گھنٹے اور دو منٹ تک جاری رہنے والے اس مقابلے میں اپنی ردھم قائم نہ کرسکے۔ میچ کے دوران دونوں کھلاڑیوں کی جانب سے غیر مستقل کھیل دیکھنے میں آیا۔
دوسری سیڈ کے حامل ہسپانوی کھلاڑی الکاراز، 24 گرینڈ سلیم ٹائٹلز جیتنے والے نوواک جوکووچ اور یو ایس اوپن کے رنر اپ بین شیلٹن کے ساتھ اے ٹی پی ماسٹرز 1000 ایونٹ سے باہر ہونے والے بڑے ناموں میں شامل ہوگئے۔
برگس نے کورٹ کے ہر حصے میں پراعتماد کھیل پیش کیا اور تیز رفتار حالات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے الکاراز کی سروس تین مرتبہ توڑی۔ اس طرح انہوں نے اپنے کیریئر کی سب سے بڑی فتح حاصل کی۔
برگس اس سے قبل الکاراز کے خلاف اپنا واحد مقابلہ ہار گئے تھے، جب گزشتہ سال جاپان اوپن کے پری کوارٹر فائنل میں انہیں شکست ہوئی تھی۔ تاہم اس بار 27 سالہ بیلجیئن کھلاڑی نے کسی دباؤ کا مظاہرہ نہیں کیا اور اہم لمحات میں 23 سالہ الکاراز پر کھیل کے ذریعے برتری حاصل کی۔
برگس نے کہا، ’’میں اکثر ان کھلاڑیوں کو ضرورت سے زیادہ احترام دیتا ہوں، جو میری ثقافت کا حصہ ہے اور مجھے اس پر فخر ہے۔ لیکن جب آپ کو ان کے خلاف کھیلنا ہو تو یہی چیز کسی حد تک رکاوٹ بن جاتی ہے۔‘‘
برگس نے کہا، ’’ان کھلاڑیوں کے خلاف پریکٹس کرنے اور میچ کھیلنے کا جتنا زیادہ تجربہ حاصل ہوتا ہے، اتنا ہی ان کے خلاف کھیلنا بھی معمول کا حصہ بنتا جاتا ہے۔ میرے لیے یہ لمحہ کسی حد تک اطمینان کا باعث ہے۔ اب مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں واقعی ان کھلاڑیوں کو ہرا سکتا ہوں۔‘‘
الکاراز نے اعتراف کیا کہ وہ اپنی بہترین کارکردگی پیش نہیں کرسکے۔
انہوں نے کہا، ’’میں اس انداز میں نہیں کھیلا جس طرح کھیلنا چاہتا تھا۔ مجھ سے بہت سی غلطیاں ہوئیں اور ریٹرن کھیلتے ہوئے بھی میں اچھی پوزیشن حاصل نہیں کرسکا۔‘‘
انہوں نے مزید کہا، ’’بلاشبہ اس کا کریڈٹ برگس کو جاتا ہے۔ میرے خیال میں انہوں نے بہت اچھی سروس کی۔‘‘
’’لیکن جب میں ردھم میں آیا اور پوائنٹ کے دوران کھیل پر گرفت بنانے لگا تو مجھ سے بہت سی غلطیاں ہوئیں۔ اپنے شاٹس کھیلتے ہوئے میں خود کو پُرسکون محسوس نہیں کر رہا تھا۔ آج کے میچ سے مجھے واقعی مایوسی ہوئی، کیونکہ میں کوئی حل تلاش نہیں کرسکا اور مجھ سے بہت سی غیر ضروری غلطیاں ہوئیں۔‘‘
’خواب پورا ہوگیا‘
اس اپ سیٹ شکست کے نتیجے میں فرنچ اوپن اور یو ایس اوپن چیمپئن 29 سالہ الیگزینڈر زیوریف کی اے ٹی پی کی سال کے اختتام پر عالمی نمبر ایک کی درجہ بندی بھی یقینی ہوگئی۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے جرمن کھلاڑی اور پہلی مرتبہ اس مقام تک پہنچنے والے سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی بن گئے ہیں۔
زیوریف کے سال کے اختتام پر عالمی نمبر ایک بننے میں پانچ مرتبہ گرینڈ سلیم جیتنے والے یانک سنر کی عدم شرکت نے بھی کردار ادا کیا۔ گھٹنے کی چوٹ کے باعث سنر جولائی میں ومبلڈن کے فائنل میں زیوریف کو شکست دینے کے بعد سے نہیں کھیلے اور اب اے ٹی پی فائنلز سمیت رواں سیزن کے بقیہ مقابلوں میں بھی شرکت نہیں کریں گے۔ اے ٹی پی فائنلز ٹورین میں منعقد ہوں گے۔
زیوریف نے کہا، ’’پیرس اور نیویارک میں ٹائٹل جیتنا میرے لیے شاندار سیزن رہا ہے اور یہ جاننا کہ میں سال کا اختتام عالمی درجہ بندی میں سرفہرست رہ کر کروں گا، میرے لیے خواب پورا ہونے کے مترادف ہے۔‘‘
شنگھائی میں پری کوارٹر فائنل میں زیوریف کا مقابلہ قازقستان کے 19ویں سیڈ کھلاڑی الیگزینڈر ببلک سے ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا، ’’اس ہدف کے حصول کے لیے بہت محنت اور کوششیں کی ہیں، خصوصاً 2022 کے فرنچ اوپن کے سیمی فائنل میں ٹخنے کی چوٹ کے بعد واپسی کے مرحلے میں۔‘‘
’’میں سیزن کا اختتام بھی شاندار انداز میں کرنے کا منتظر ہوں۔‘‘


Comments