ترسیلات زر، بیرونی کھاتے کا مضبوط سہارا برقرار
- ستمبر 2026 میں ترسیلاتِ زر 3.59 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 12.7 فیصد زیادہ، تاہم اگست 2026 کے مقابلے میں 1.9 فیصد کم ہیں
پاکستان کی ترسیلاتِ زر بدستور بیرونی کھاتوں کو ضروری سہارا فراہم کر رہی ہیں، مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی میں ترسیلاتِ زر کی آمد 14 فیصد اضافے کے ساتھ 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی، جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 9.5 ارب ڈالر تھی۔ یہ اضافہ مالی سال 2026 میں موصول ہونے والی ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کے بعد سامنے آیا ہے۔
ستمبر 2026 میں ترسیلاتِ زر 3.59 ارب ڈالر رہیں، جو سالانہ بنیاد پر 12.7 فیصد زیادہ، تاہم اگست 2026 کے مقابلے میں 1.9 فیصد کم ہیں۔ ماہانہ بنیاد پر اس کمی کو خاص طور پر تشویش ناک نہیں سمجھا جا رہا، کیونکہ پہلی سہ ماہی کے دوران ترسیلاتِ زر مسلسل 3.5 ارب ڈالر سے زیادہ رہیں۔ ماہانہ اوسط تقریباً 3.63 ارب ڈالر بھی مالی سال 2026 کی 3.47 ارب ڈالر کی اوسط سے زیادہ ہے۔
سعودی عرب بدستور ترسیلاتِ زر بھیجنے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ ستمبر 2026 میں وہاں سے 899 ملین ڈالر موصول ہوئے، اس کے بعد متحدہ عرب امارات سے 749 ملین ڈالر، برطانیہ سے 515 ملین ڈالر اور امریکا سے 306 ملین ڈالر آئے۔ مالی سال 2027 کی پہلی سہ ماہی کے دوران سعودی عرب سے ترسیلاتِ زر سالانہ بنیاد پر 16.2 فیصد اضافے کے ساتھ 2.69 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ متحدہ عرب امارات سے آنے والی رقوم 12.6 فیصد بڑھ کر 2.23 ارب ڈالر ہو گئیں۔ برطانیہ سے ترسیلاتِ زر میں خاص طور پر نمایاں اضافہ ہوا، جو 19.4 فیصد بڑھ کر 1.64 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں۔

اس معاملے کا زیادہ اہم پہلو گزشتہ تین سال کے دوران ترسیلاتِ زر میں ہونے والا نمایاں اضافہ ہے۔ سالانہ ترسیلاتِ زر مالی سال 2023 کے 27.3 ارب ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 41.6 ارب ڈالر ہو گئیں۔ اس بہتری کی ایک وجہ رسمی اور غیر رسمی زرِ مبادلہ کی شرحوں کے درمیان فرق میں کمی، بینکاری ذرائع کے زیادہ استعمال اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو رقوم قانونی اور رسمی ذرائع سے بھیجنے کی ترغیب دینے کے لیے کیے گئے اقدامات ہو سکتے ہیں۔ تاہم، اس پورے اضافے کو لازماً بیرونِ ملک پاکستانیوں کی آمدن میں اضافے کا نتیجہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ممکن ہے کہ اس میں سے کچھ اضافہ غیر رسمی ذرائع سے بھیجی جانے والی رقوم کے رسمی ذرائع کی طرف منتقل ہونے کے باعث ہوا ہو۔
حکام اب ترسیلاتِ زر میں اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے مختلف ترغیباتی نظام کے ذریعے کوششیں کر رہے ہیں۔ حال ہی میں شروع کی گئی پاسبان ترسیلاتِ زر انعامی اسکیم کے تحت سالانہ 16 ارب روپے کے نقد انعامات دیے جائیں گے، جن کی مالی اعانت حکومت کے بجائے بینک فراہم کریں گے۔ اس اسکیم کے تحت ہر سہ ماہی میں اہل ترسیلاتِ زر وصول کرنے والے 2,521 افراد میں 4 ارب روپے تقسیم کیے جائیں گے۔ یہ اسکیم حکومت کی جانب سے مالی اعانت سے چلنے والی سابقہ ترغیبات کے خاتمے کے بعد متعارف کرائی گئی ہے۔ اس کا مقصد سرکاری اور رسمی ذرائع کو پُرکشش بنائے رکھنا ہے، جبکہ سرکاری خزانے پر براہِ راست مالی بوجھ بھی نہ پڑے۔
تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا ایسی ترغیبات طویل مدت میں کوئی نمایاں فرق پیدا کر سکتی ہیں یا نہیں۔ اصل امتحان یہ ہے کہ آیا ان کے نتیجے میں مزید رقوم رسمی نظام میں آئیں گی یا صرف ان لین دین پر انعامات دیے جائیں گے جو ان ترغیبات کے بغیر بھی ہو جاتے۔ زرِ مبادلہ کی شرح میں استحکام، لین دین کے مسابقتی اخراجات، سہولت اور بینکاری ذرائع پر اعتماد بدستور اہم عوامل رہیں گے۔
ترسیلاتِ زر کی مضبوط آمد گھریلو اخراجات کو سہارا دے رہی ہے، زرمبادلہ کی مسلسل فراہمی یقینی بنا رہی ہے اور ملک کے بیرونی کھاتے پر دباؤ کم کر رہی ہے۔ تاہم، اس صورتِ حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ پاکستان اپنی کمزور برآمدی کارکردگی اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کی تلافی کے لیے ترسیلاتِ زر پر تیزی سے انحصار کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ رقوم روپے کو مستحکم رکھنے اور بیرونی کھاتے پر فوری دباؤ کم کرنے میں مدد دیتی ہیں، لیکن یہ ملک کے بنیادی مسائل، یعنی کم پیداواری صلاحیت، کمزور سرمایہ کاری اور برآمدات میں محدود مسابقت، کو حل کرنے میں زیادہ مدد نہیں کرتیں۔
مستقبل کے امکانات کو کچھ خطرات بھی لاحق ہیں۔ پاکستان کی نصف سے زیادہ ترسیلاتِ زر خلیجی معیشتوں سے آتی ہیں، جس کے باعث ان رقوم کی آمد مشرقِ وسطیٰ کے معاشی حالات اور جغرافیائی سیاسی صورتِ حال سے متاثر ہو سکتی ہے۔ موجودہ تنازعے کی طرح علاقائی کشیدگی طویل ہونے، روزگار میں خلل پڑنے یا میزبان ممالک میں معاشی سرگرمیاں کمزور ہونے سے بالآخر ترسیلاتِ زر متاثر ہو سکتی ہیں۔ تاہم اب تک ان خطرات کے باوجود ترسیلاتِ زر کی آمد مستحکم رہی ہے۔
مالی سال 2027 کے لیے امکانات بدستور مثبت ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو تقریباً 44 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر کی توقع ہے، اور پہلی سہ ماہی کی کارکردگی مجموعی طور پر اس ہدف کے مطابق ہے۔ موجودہ ماہانہ اوسط برقرار رہنے کی صورت میں سالانہ ترسیلاتِ زر تقریباً 43.6 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں۔
فی الحال ترسیلاتِ زر پاکستان کے لیے بیرونی مالی معاونت کے مضبوط ترین ذرائع میں سے ایک ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ملک کی زرمبادلہ کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دے رہی ہیں جب برآمدات رفتار پکڑنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ تاہم، ملکی معیشت بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں پر مسلسل انحصار کرکے اپنی کمزور برآمدی کارکردگی کی تلافی نہیں کر سکتی۔ ترسیلاتِ زر میں مضبوط اضافہ یقیناً خوش آئند ہے، لیکن اصل چیلنج ایسی معیشت کی تعمیر ہے جو خود اپنے ذرائع سے زیادہ زرمبادلہ کما سکے۔


Comments