BR100 Decreased By (-0.75%)
BR30 Decreased By (-0.82%)
KSE100 Decreased By (-0.68%)
KSE30 Decreased By (-0.8%)
BAFL 56.22 Decreased By ▼ -0.65 (-1.14%)
BIPL 24.64 Decreased By ▼ -0.12 (-0.48%)
BOP 29.25 Decreased By ▼ -0.55 (-1.85%)
CNERGY 12.39 Decreased By ▼ -0.34 (-2.67%)
DFML 16.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.18%)
DGKC 185.52 Decreased By ▼ -0.73 (-0.39%)
FABL 92.67 Decreased By ▼ -0.71 (-0.76%)
FCCL 52.07 Decreased By ▼ -0.09 (-0.17%)
FFL 14.01 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.11 Decreased By ▼ -0.62 (-3.14%)
HBL 299.86 Decreased By ▼ -2.16 (-0.72%)
HUBC 199.67 Decreased By ▼ -0.82 (-0.41%)
HUMNL 9.31 Decreased By ▼ -0.01 (-0.11%)
KEL 5.96 Decreased By ▼ -0.08 (-1.32%)
LOTCHEM 26.60 Increased By ▲ 1.01 (3.95%)
MLCF 90.95 Increased By ▲ 0.05 (0.06%)
OGDC 308.66 Decreased By ▼ -7.25 (-2.29%)
PAEL 33.73 Decreased By ▼ -0.33 (-0.97%)
PIBTL 13.58 Increased By ▲ 0.07 (0.52%)
PIOC 236.61 Increased By ▲ 0.16 (0.07%)
PPL 218.35 Decreased By ▼ -1.94 (-0.88%)
PRL 91.12 Decreased By ▼ -3.20 (-3.39%)
SNGP 91.24 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
SSGC 23.04 Decreased By ▼ -0.13 (-0.56%)
TELE 7.17 Decreased By ▼ -0.11 (-1.51%)
TPLP 11.80 Decreased By ▼ -0.10 (-0.84%)
TRG 55.22 Decreased By ▼ -1.27 (-2.25%)
UNITY 7.65 Decreased By ▼ -0.07 (-0.91%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

غلط سمت میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی دوڑ

  • پاکستان کو جس ایف ڈی آئی دوڑ میں کامیابی حاصل کرنی ہے، وہ سرمائے کے حصول کی دوڑ نہیں بلکہ صنعتی صلاحیت پیدا کرنے کی دوڑ ہے
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کو زیادہ سرمایہ کاری کے بجائے بہتر سرمایہ کاری کے حصول کی دوڑ میں شامل ہونا چاہیے، یعنی ایسی سرمایہ کاری جو صرف خبروں کی زینت بننے کے بجائے مقامی سپلائرز، برآمدات اور ہنرمند افرادی قوت کو فروغ دے۔

2025 میں پاکستان کو 1.85 ارب ڈالر کی براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) موصول ہوئی، جبکہ بھارت میں ایف ڈی آئی کی آمد 38.9 ارب ڈالر رہی۔ انڈونیشیا، ویتنام اور ملائیشیا میں بالترتیب 21.4 ارب، 20.35 ارب اور 15.4 ارب ڈالر کی ایف ڈی آئی آئی۔ پاکستان کے مقابلے میں عموماً ایک قابلِ احتیاط مثال سمجھے جانے والے بنگلہ دیش میں بھی ایف ڈی آئی کی مالیت 1.78 ارب ڈالر رہی، جو پاکستان سے معمولی کم ہے۔ پاکستان کے لیے تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ یونائیٹڈ نیشنز کانفرنس آن ٹریڈ اینڈ ڈیولپمنٹ (انکٹاڈ) 2026 کی رپورٹ کے مطابق ایف ڈی آئی 2024 کے 2.67 ارب ڈالر سے کم ہو کر 2025 میں 1.85 ارب ڈالر رہ گئی۔ تاہم اہم سوال یہ نہیں کہ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں کم سرمایہ کاری کیوں حاصل کرتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ ان ممالک نے غیر ملکی سرمائے کو مضبوط صنعتی صلاحیت میں تبدیل کرنے میں کامیابی کیسے حاصل کی۔

یہ سوال اس لیے بھی پہلے سے زیادہ اہم ہے کہ عالمی سطح پر ایف ڈی آئی کی مسابقت کا دائرہ محدود ہو گیا ہے۔ انکٹاڈ 2026 کے مطابق 2025 میں عالمی سطح پر ایف ڈی آئی کا مجموعی حجم 1.6 کھرب ڈالر رہا، جس میں سرمایہ کاری حاصل کرنے والی 20 بڑی معیشتوں کا حصہ 80 فیصد سے زیادہ تھا۔ الیکٹرانکس، ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر، جدید مینوفیکچرنگ، اہم معدنیات اور توانائی کی ٹیکنالوجی جیسے اسٹریٹجک شعبوں نے عالمی گرین فیلڈ منصوبوں کی مجموعی مالیت میں 44 فیصد حصہ ڈالا، جو 2020 میں صرف 16 فیصد تھا۔ اب سرمائے کے حصول کی مسابقت صرف قومی سطح تک محدود نہیں رہی، بلکہ ممالک مخصوص سپلائی چینز کے اندر براہِ راست ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ایسا ملک جو درجنوں شعبوں میں بلاامتیاز ٹیکس مراعات کی پیشکش جاری رکھے ہوئے ہے، دراصل پانچ سال پہلے بڑی حد تک ترک کیے جا چکے طریقۂ کار کے تحت مقابلہ کر رہا ہے۔

پاکستان کے مینوفیکچرنگ کے اعدادوشمار کمزور معاشی منظرنامے میں ایک محدود امید افزا پہلو ضرور پیش کرتے ہیں۔ مجموعی ایف ڈی آئی میں برقی مشینری کا حصہ مالی سال 2024 کے 79 ملین ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 176 ملین ڈالر ہوگیا، جبکہ الیکٹرانکس میں سرمایہ کاری 37 ملین ڈالر سے بڑھ کر 45 ملین ڈالر ہوئی اور مالی سال 2026 کے پہلے 8 ماہ میں 114 ملین ڈالر تک پہنچ گئی۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں بھی بہتری آئی اور مالی سال 2024 میں معمولی خالص اخراج کے بعد مالی سال 2025 میں سرمایہ کاری 48 ملین ڈالر رہی، تاہم مالی سال 2026 کے پہلے 8 ماہ میں یہ نسبتاً معمولی 32 ملین ڈالر رہی۔

اس کے برعکس خوراک، مشروبات اور تمباکو کے شعبے میں ایف ڈی آئی مالی سال 2024 کے 165 ملین ڈالر سے کم ہو کر مالی سال 2025 میں 46 ملین ڈالر رہ گئی اور مالی سال 2026 کے پہلے 8 ماہ میں 39 ملین ڈالر رہی، جیسا کہ انکٹاڈ 2026 کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے۔ یہ وسیع پیمانے پر صنعتی تبدیلی کا ثبوت نہیں، بلکہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ چند محدود شعبے حقیقی اور پائیدار پیش رفت کر رہے ہیں جبکہ باقی شعبے یا تو جمود کا شکار ہیں یا ان میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ پاکستان کے لیے الیکٹرانکس اور برقی مشینری میں داخلے کا ایک راستہ ضرور موجود ہے، تاہم اس کے آگے ابھی بہت کچھ حاصل کرنا باقی ہے۔

ایف ڈی آئی کی زیادہ آمد کمزور ملکی صنعتی بنیاد کا ازالہ نہیں کر سکتی۔ مالی سال 2026 میں سرمایہ کاری اور جی ڈی پی کا تناسب 14.38 فیصد رہا، جو گزشتہ کئی برس سے تقریباً مستحکم ہے اور علاقائی اوسط سے بھی کم ہے۔ اس خلا کو غیر ملکی سرمایہ کاری کے ذریعے پُر نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم ایف ڈی آئی کا اصل اثر اس کے محرک کردار میں ہونا چاہیے، جس کے ذریعے پاکستانی کمپنیوں کی کارکردگی، ٹیکنالوجی اور مارکیٹنگ کے ذرائع بہتر ہوں، نہ کہ صرف سرمایہ کاری کے ریکارڈ میں غیر ملکی کمپنیوں کے نام شامل ہو جائیں جبکہ مقامی صنعتی صلاحیت میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔

چار ممالک اس حوالے سے چار مختلف اسباق پیش کرتے ہیں اور ہر سبق پاکستان کے لیے ایک ٹھوس راستے کی نشاندہی کرتا ہے۔

ویتنام نے متعدد صنعتوں میں مراعات پھیلانے کے بجائے چند صنعتی کلسٹرز پر توجہ مرکوز کرکے مقامی سپلائرز کا مضبوط نیٹ ورک تشکیل دیا۔ پاکستان بھی اسی طریقۂ کار کو اپناتے ہوئے برقی مشینری اور الیکٹرانکس میں ہونے والی پیش رفت سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اسے چند صنعتی کلسٹرز کا انتخاب کرکے ان کے لیے مقامی پرزہ جات بنانے والے سپلائرز تیار کرنے چاہئیں۔

ملائیشیا نے الیکٹرانکس کے شعبے میں ٹیسٹنگ کی سہولیات، سرٹیفکیشن، پرزہ جات کی تیاری اور بالآخر ڈیزائن کے شعبے تک اپنی ویلیو چین کو وسعت دی۔ پاکستان میں اس شعبے میں بڑھتے ہوئے اعدادوشمار اسی نوعیت کے موقع کا آغاز ہیں، بشرطیکہ پالیسی کا ہدف محض اسمبلنگ نہ ہو بلکہ پوری صنعتی زنجیر کی ترقی ہو۔

انڈونیشیا نے خام معدنیات کی برآمد روک کر ان کی مقامی سطح پر پروسیسنگ شروع کی۔ پاکستان کے لیے بھی تانبے اور دیگر معدنیات سے متعلق منصوبوں میں ابتدا ہی سے ریفائنریوں کے قیام کو منصوبے کا حصہ بنانا ضروری ہے، بجائے اس کے کہ اسے بعد میں کسی الگ پالیسی معاملے کے طور پر زیرِ غور لایا جائے۔ پاکستان کو انڈونیشیا کے تجربے سے یہی سبق حاصل کرنا چاہیے۔

بھارت نے اپنی تکنیکی افرادی قوت کو عالمی پیداواری نظام سے جوڑا۔ پاکستان کی فری لانسنگ پر مبنی سافٹ ویئر برآمدات اس سمت میں بنیاد فراہم کرتی ہیں، لیکن غیر ملکی ملکیت والے انجینئرنگ، ڈویلپمنٹ اور تحقیق و ترقی کے مراکز کو راغب کرنا ایک بالکل مختلف اور زیادہ مشکل کام ہے، جس کے لیے سرمایہ کاروں کو موجودہ حالات کے مقابلے میں کہیں زیادہ قابلِ پیش گوئی کاروباری ماحول فراہم کرنا ہوگا۔

اس پورے طریقۂ کار کو ایف ڈی آئی سے صنعتی صلاحیت کی حکمتِ عملی کہا جا سکتا ہے، جس کی بنیاد چار شعبوں پر ہو۔ اول، الیکٹرانکس اور برقی مشینری، جہاں مقامی سپلائرز، پرزہ جات کی تیاری اور ٹیسٹنگ و سرٹیفکیشن کا انفرااسٹرکچر تیار کرنا ہوگا۔ دوم، معدنیات اور ان کی بعد از استخراج پروسیسنگ، جہاں خام معدنیات کو تیار برآمدی مال سمجھنے کے بجائے کان کنی کو ریفائننگ اور مینوفیکچرنگ سے جوڑا جائے۔ سوم، ڈیجیٹل اور انجینئرنگ خدمات، جہاں کثیر القومی کمپنیوں کے انجینئرنگ اور مشترکہ خدمات کے مراکز کو راغب کیا جائے، بجائے اس کے کہ فری لانس برآمدات کے ازخود بڑھنے کا انتظار کیا جائے۔ چہارم، لاجسٹکس اور علاقائی پیداوار، جہاں پاکستان کا جغرافیائی محلِ وقوع ان کمپنیوں کے لیے پرکشش ثابت ہو سکتا ہے جو اپنی سپلائی چین کو کسی ایک ملک پر انحصار سے نکال کر متنوع بنانا چاہتی ہیں۔

درحقیقت اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے بھی الیکٹرانکس، برقی مشینری، ڈیجیٹل خدمات، لاجسٹکس اور ہلکی مینوفیکچرنگ کو حقیقت پسندانہ اہداف قرار دیا ہے، بشرطیکہ بنیادی تقاضے، یعنی قابلِ اعتماد بجلی، تیز تر منظوریوں اور مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ ان چاروں شعبوں میں مراعات کا رخ بلاامتیاز ٹیکس رعایتوں سے ہٹا کر قابلِ پیمائش نتائج کی طرف ہونا چاہیے، جن میں برآمدات میں اضافہ، افرادی قوت کی تربیت، ٹیکنالوجی میں بہتری، مقامی سپلائرز کی بنیاد مضبوط کرنا اور تحقیق و ترقی شامل ہیں۔

اگلے سال 1.85 ارب ڈالر سے زیادہ ایف ڈی آئی حاصل کرنے کی پاکستان کی خواہش یقیناً قابلِ جواز ہے۔ تاہم اس حکمتِ عملی کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ایف ڈی آئی کا حجم 5 ارب ڈالر یا 10 ارب ڈالر تک پہنچا یا نہیں۔ اصل کامیابی کا اندازہ اس بات سے ہونا چاہیے کہ کتنی پاکستانی کمپنیاں کثیر القومی کمپنیوں کی سپلائی چینز کا حصہ بنیں، برآمدات میں کتنا اضافہ ہوا، کتنی ہنرمند ملازمتیں پیدا ہوئیں اور سرمایہ کاری آگے منتقل ہونے کے بعد کتنی ٹیکنالوجی اور صنعتی صلاحیت ملک میں باقی رہ گئی۔

پاکستان کو جس ایف ڈی آئی دوڑ میں کامیابی حاصل کرنی ہے، وہ سرمائے کے حصول کی دوڑ نہیں بلکہ صنعتی صلاحیت پیدا کرنے کی دوڑ ہے۔

Comments

200 حروف