ریٹیلرز کو ٹیکس سے بچنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے
- ایف بی آر کے فیلڈ افسران تاجروں کے نمائندوں کے ہمراہ مارکیٹوں کا دورہ کریں گے، انفرادی دکانوں کی نشاندہی کریں گے
وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے ملک بھر میں مارکیٹوں اور انفرادی دکانوں کی میپنگ شروع کرنے کا فیصلہ، حکومت کی ریٹیلرز کے لیے آسان ٹیکس اسکیم کے کمزور ردعمل کے بعد ایک منطقی اگلا قدم ہے، کیونکہ اس اسکیم کے تحت ریٹیلرز کی جانب سے جمع کرائے گئے 1,016 گوشواروں میں سے صرف 91 نئے فائلرز ہیں۔
ایف بی آر کے فیلڈ افسران تاجروں کے نمائندوں کے ہمراہ مارکیٹوں کا دورہ کریں گے، انفرادی دکانوں کی نشاندہی کریں گے اور رجسٹریشن اور گوشوارے جمع کرانے کے حوالے سے آگاہی پیدا کریں گے۔
اس کام کی وسعت کا اندازہ ملک بھر میں موجود تقریباً 43 لاکھ کمرشل واپڈا بجلی کے میٹروں اور ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والے صرف تقریباً 6 لاکھ کمرشل میٹر ہولڈرز کے درمیان موجود فرق سے لگایا جاسکتا ہے۔
آسان ٹیکس اسکیم، ریٹیل شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے آنے والی یکے بعد دیگرے حکومتوں کی متعدد کوششوں میں سے ایک ہے۔ تاہم، اس مرتبہ ایک اہم فرق موجود ہے۔
حکومت بظاہر اس کام کو نسبتاً زیادہ منظم اور مشاورتی انداز میں آگے بڑھاتی دکھائی دیتی ہے، جس میں اسکیم کی تیاری اور اس پر عملدرآمد کے لیے تاجر تنظیموں اور مارکیٹ نمائندوں کو شامل کیا گیا۔ اس نے ریٹیلرز کو باقاعدہ ٹیکس نظام میں داخل ہونے کا نسبتاً آسان راستہ فراہم کیا، طریقہ کار کا بوجھ کم کیا اور بہت سے چھوٹے تاجروں کے لیے فوری ٹیکس واجبات کو محدود رکھا۔
اس کے باوجود اسکیم میں بہتری کی خاصی گنجائش موجود تھی۔ آمدن پر ٹیکس عائد کرنے کے بنیادی اصول پر سختی سے عمل کرنے کے بجائے کاروباری حجم یعنی ٹرن اوور پر ٹیکس عائد کرکے اس نے منصفانہ ٹیکس نظام کے ایک بنیادی اصول سے انحراف کیا۔ تاہم اگر اس کا فوری مقصد کاروباروں کو دستاویزی شکل دینا، ریٹیلرز کو رجسٹر کرنا اور گوشوارے جمع کرانے کا رجحان پیدا کرنا تھا تو یہ ایک مفید نقطۂ آغاز ثابت ہوسکتی تھی۔ تاہم، اب تک یہ موقع بڑی حد تک ضائع ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ایف بی آر کی جانب سے بتائے گئے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 1 لاکھ 90 ہزار ریٹیلرز نے اسکیم کے تحت رجسٹریشن کرائی ہے۔ شعبے کے حجم کے مقابلے میں یہ تعداد اب بھی بہت کم ہے، اور یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسکیم کے لیے رجسٹریشن کرانا گوشوارے جمع کرانے اور واجب الادا ٹیکس ادا کرنے کے مترادف نہیں ہے۔
ایف بی آر اب 5 لاکھ سے 10 لاکھ ریٹیلرز کو ہدف بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ باقی کو نفاذی کارروائی کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے گا۔
لہٰذا میپنگ کا اقدام خوش آئند ہے، لیکن اسے ایک اور ایسی دستاویزی مشق نہیں بننا چاہیے جس کا نتیجہ فہرستوں اور ڈیٹا بیسز کی تیاری سے آگے نہ بڑھ سکے۔
جب حکومت کو معلوم ہوجائے کہ دکانیں کہاں ہیں اور انہیں کون چلا رہا ہے تو اسے اس معلومات پر کارروائی کرنے کے لیے سیاسی عزم کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔ گوشوارے جمع نہ کرانے والوں کو بامعنی نتائج کا سامنا ہونا چاہیے، جبکہ رجسٹریشن اور تعمیل پر آمادہ افراد کو عملی معاونت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
اب تک اعلان کردہ جرمانے — گوشوارہ جمع کرانے کی آخری تاریخ کے بعد پہلے ماہ میں 10 ہزار روپے، دوسرے ماہ میں 25 ہزار روپے اور تیسرے ماہ میں 50 ہزار روپے — کسی ایسے کاروبار کی حوصلہ شکنی کے لیے شاید ہی کافی دکھائی دیتے ہیں جس کی فروخت قابلِ ذکر ہو۔ اگر جرمانوں کے ذریعے رویے میں تبدیلی لانا مقصود ہے تو انہیں اتنا مؤثر ہونا چاہیے کہ ان کا حقیقی اثر پڑے، انہیں مستقل طور پر نافذ کیا جائے اور، سب سے اہم، واقعی وصول بھی کیا جائے۔
اسکیم کے نسبتاً معمولی محصولات کے ہدف پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بعض اندازوں کے مطابق ریٹیلرز کی مجموعی ممکنہ ٹیکس شراکت 3 کھرب روپے تک ہوسکتی ہے، جبکہ اسکیم کا صرف 50 ارب روپے کا ہدف کوئی بہت بڑا مطالبہ نہیں تھا۔ محصولات کے لحاظ سے یہ رقم بہت معمولی ہے۔
تاہم اس مشق کی اہمیت فوری وصولی کے ہدف سے کہیں زیادہ ہے۔ اگر ریاست ایسی اسکیم پر عملدرآمد یقینی نہیں بناسکتی جسے جان بوجھ کر ٹیکس نظام میں داخلے کو آسان بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے تو مستقبل کی ٹیکس اصلاحات کی ساکھ لازماً متاثر ہوگی۔
حکومت نے اب شعبے کی میپنگ کا ایک مناسب قدم اٹھایا ہے۔ اگلا امتحان یہ ہے کہ آیا وہ اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچاتی ہے یا نہیں۔ ریٹیلرز نے بارہا سیاسی دباؤ اور کاروباری سرگرمیوں میں خلل کے ذریعے ٹیکس عائد کیے جانے کی مخالفت کرنے کی اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس مرتبہ اس دباؤ کو ایک بار پھر ریاست کے وسیع تر اور منصفانہ ٹیکس نظام کی تشکیل کے عزم پر غالب نہیں آنا چاہیے، جبکہ ٹیکس کی تعمیل کو مذاکرات کے ذریعے طے کیے جانے والے معاملے کے بجائے ایک ذمہ داری سمجھا جائے اور قواعد کا اطلاق بلاامتیاز سب پر یکساں کیا جائے۔
ٹیکس اصلاحات کی پوری کوشش کی ساکھ کا انحصار بالآخر اسی بات پر ہوگا کہ یہ عزم کتنے مستقل انداز میں برقرار رکھا جاتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments