پی ٹی آئی کا لانگ مارچ کرک میں رات قیام کے بعد کوہاٹ کی جانب روانہ
- کرک میں موبائل فون اور موبائل انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل کردی گئیں
پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کا جنوبی پنجاب سے شروع ہونے والا لانگ مارچ اپنے پہلے مرحلے کی تکمیل کے بعد طے شدہ روٹ کے اگلے مرحلے کی جانب بڑھ رہا ہے۔
آج نیوز کے مطابق مارچ اتوار کی شام لکی مروت کے گنڈی چوک سے شروع ہوا اور تقریباً 80 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد رات گئے کرک پہنچا، جہاں شرکا نے رات گزاری۔
ابتدائی مرحلے میں بنوں، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، لکی مروت، ٹانک اور ملحقہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے افراد نے مارچ میں شمولیت اختیار کی۔ ڈیرہ اسماعیل خان سے بھی بعض افراد انفرادی حیثیت میں شریک ہوئے، جبکہ بلوچستان سے ژوب کے راستے آنے والے قافلے رکاوٹیں عبور کرنے کے بعد یارک کے مقام پر مارچ میں شامل ہو گئے۔
تاہم خیبر پختونخوا کے سابق وزیرِاعلیٰ علی امین گنڈاپور کی قیادت میں آنے والا قافلہ بروقت مارچ تک نہیں پہنچ سکا۔اسی طرح کرک کے جیل چوک پر ایک بڑا کیمپ قائم کیا گیا، جہاں مظاہرین نے رات گزاری۔
مقامی پولیس حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی کی قیادت میں مارچ کو دوپہر کے وقت کرک سے روانہ ہونا تھا مگر روانگی کا حتمی وقت واضح نہیں تھا۔
سکیورٹی اور انتظامی اقدامات کے تحت کرک اور گردونواح میں موبائل فون اور موبائل انٹرنیٹ سروسز مکمل طور پر معطل کر دی گئی ہیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات شفیع جان نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ قافلہ پیر کی رات کوہاٹ کے قریب لاچی گراؤنڈ میں قیام کرے گا۔
پی ٹی آئی کے شیڈول کے مطابق 6 اکتوبر کو کوہاٹ، ہنگو، کرم اور اورکزئی سے شرکا قافلے میں شامل ہوں گے، جس کے بعد مارچ پشاور کی جانب روانہ ہوگا اور شہر سے تقریباً 30 کلومیٹر دور متنی میں رات قیام کرے گا۔
وزیرِاعلیٰ سہیل آفریدی نے اتوار کو ایکس پر مارچ کا تفصیلی روڈ میپ جاری کرتے ہوئے کہا کہ 7 اکتوبر کو ضلع خیبر اور پشاور کے مختلف علاقوں سے آنے والے افراد کوہاٹ روڈ پل اور بڈھ بیر کے موٹروے ٹول پلازا پر قافلے کا استقبال کریں گے۔ اس کے بعد قافلہ چارسدہ انٹرچینج پر رات قیام کرے گا۔
8 اکتوبر کو چارسدہ اور مہمند سے شرکا مارچ میں شامل ہوں گے، جبکہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے آنے والے قافلے خیرباد کے مقام پر جمع ہوں گے۔ رات قیام کے بعد پارٹی موجودہ حکومتی اور انتظامی صورتِ حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔
دریں اثنا پی ٹی آئی مارچ کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے اٹک اور ٹیکسلا کی سڑکوں پر بڑی تعداد میں کنٹینرز رکھ دیے گئے ہیں۔ سڑکیں بند کرنے کے لیے مٹی اور پتھروں سے بھرے تھیلے بھی جمع کیے گئے ہیں، جبکہ سکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔


Comments