سمندری معیشت کے امکانات روشن
- بندرگاہوں کی کارکردگی میں بہتری اور لائنر شپنگ کنیکٹیویٹی انڈیکس میں اضافے کے ساتھ پاکستان عالمی سپلائی چینز میں اپنے انضمام کو مزید مضبوط بنا رہا ہے
منصوبہ بندی کمیشن نے سمندری معیشت کے تصور کے تحت پاکستان کے بحری شعبے کو متحرک کرنے کے لیے ایک مفید لائحۂ عمل پیش کیا ہے، جس کے مختلف پہلو ہیں۔ اس مضمون میں بالخصوص مقصد نمبر 2 (بنیادی ڈھانچے سمیت پاکستانی بندرگاہوں کی کارکردگی بہتر بنانا)، مقصد نمبر 3 (سیاحت کے فروغ کے لیے ساحلی بنیادی ڈھانچہ ترقی دینا) اور مقصد نمبر 5 (علاقائی اور قومی کثیرالوسائل رابطوں کو فروغ دینا) کا جائزہ لیا جائے گا، کیونکہ مصنف کو ان شعبوں میں وسیع تجربہ حاصل ہے۔
سمندری معیشت ایک عالمی تصور کے طور پر ابھری ہے، جس کا مقصد سمندری اور ساحلی وسائل کو پائیدار بنیادوں پر بروئے کار لاکر معاشی ترقی، روزگار، تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرنا ہے، جبکہ سمندری ماحول کے طویل مدتی تحفظ کو بھی یقینی بنایا جائے۔ پاکستان جیسے ملک کے لیے، جسے ایک ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی پٹی حاصل ہے اور جو مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے سنگم پر ایک اہم جغرافیائی محلِ وقوع رکھتا ہے، سمندری معیشت ایک غیر معمولی موقع فراہم کرتی ہے، جس سے کئی دہائیوں سے خاطرخواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔
پاکستان کا بحری شعبہ محض بندرگاہوں اور جہاز رانی تک محدود نہیں بلکہ اس میں ماہی گیری، ساحلی سیاحت، سمندر سے توانائی کا حصول، جہاز سازی، لاجسٹکس، بحری خدمات اور متعدد ذیلی صنعتیں شامل ہیں۔ مجموعی طور پر ان شعبوں میں جی ڈی پی، روزگار کے مواقع اور زرمبادلہ کی آمدنی میں نمایاں اضافہ کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ منصوبہ بندی کمیشن اس امر کو تسلیم کرنے پر تحسین کا مستحق ہے کہ سمندری معیشت کو پاکستان کی آئندہ معاشی ترقی کے محرکات میں شامل ہونا چاہیے اور اس شعبے کی ترقی کے لیے مربوط پالیسی معاونت، ادارہ جاتی اصلاحات اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت ضروری ہے۔
پاکستان کے بحری شعبے نے بالخصوص 1990ء کی دہائی کے اواخر میں لینڈ لارڈ پورٹ ماڈل کے نفاذ کے بعد نمایاں ترقی کی ہے۔ اس ماڈل کے تحت مال برداری اور سامان کی ہینڈلنگ سے متعلق بیشتر سرگرمیاں طویل مدتی رعایتی معاہدوں کے ذریعے نجی شعبے کو سونپ دی گئیں، جبکہ بندرگاہی حکام کو کرایوں اور رائلٹی کی مد میں آمدنی حاصل ہوتی رہی۔
لینڈ لارڈ پورٹ ماڈل اختیار کرنا پاکستان کی بندرگاہوں کے لیے ایک اہم اصلاحاتی قدم ثابت ہوا۔ اس ماڈل کے تحت بندرگاہی حکام نے اراضی کے ذخائر، بحری گزرگاہوں اور مشترکہ بنیادی ڈھانچے جیسے اسٹریٹجک اثاثوں کی ملکیت برقرار رکھی، جبکہ نجی سرمایہ کاروں کو طویل مدتی رعایتی معاہدوں کے ذریعے مخصوص نوعیت کے ٹرمینلز کی تعمیر، ترقی اور آپریشن کے لیے سرمایہ کاری کی دعوت دی گئی۔ اس انتظام سے حکومت کو سرکاری شعبے پر اضافی مالی بوجھ ڈالے بغیر خاطرخواہ نجی سرمایہ کاری حاصل کرنے میں مدد ملی۔ اس کے علاوہ جدید کارگو ہینڈلنگ آلات متعارف ہوئے، آپریشنل کارکردگی بہتر ہوئی اور جہازوں کے بندرگاہ پر قیام اور مال اتارنے چڑھانے میں لگنے والے وقت میں نمایاں کمی آئی۔
آج پاکستان کے کارگو ٹرمینلز پیداواری صلاحیت اور آپریشنل معیار کے لحاظ سے خطے کی متعدد بندرگاہوں کا مقابلہ کرتے ہیں۔ جدید کارگو ہینڈلنگ آلات، کمپیوٹرائزڈ ٹرمینل آپریٹنگ سسٹمز، تربیت یافتہ افرادی قوت اور ٹرمینل آپریٹرز کی جانب سے مسلسل سرمایہ کاری نے بڑھتی ہوئی تجارتی سرگرمیوں سے نمٹنے کی ملک کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ رعایتی معاہدوں کے ماڈل نے بندرگاہی حکام کے لیے رعایتی فیس، اراضی کے کرایوں اور رائلٹی کی مد میں مستحکم اور قابلِ پیش گوئی آمدنی کے ذرائع فراہم کیے ہیں، جبکہ تجارتی اور آپریشنل خطرات نجی سرمایہ کاروں کو منتقل ہوگئے ہیں۔
ہمارے بندرگاہی حکام کے پاس خاطرخواہ آمدنی اور ذخائر موجود ہیں اور وہ ترقیاتی بجٹ کے لیے پی ایس ڈی پی کی مختص رقوم پر انحصار کیے بغیر اپنے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات خود پورے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پاکستان کے بحری اثاثوں سے زیادہ سے زیادہ قدر حاصل کرنے کے لیے لینڈ لارڈ پورٹ پالیسی کا دائرہ وسیع کیا جانا چاہیے۔ لینڈ لارڈ پورٹ پالیسی کے نتائج ذیل میں دی گئی جدولوں میں بیان کیے گئے ہیں۔
پی کیو اے:
| ٹرمینلز | سرمایہ کاری |
|---|---|
| کیو آئی سی ٹی 1 | 15 کروڑ امریکی ڈالر |
| کیو آئی سی ٹی 2 | 30 کروڑ امریکی ڈالر |
| ایف او ٹی سی او آئل ٹرمینل | 10 کروڑ امریکی ڈالر |
| ای وی ٹی ایل — اینگرو ووپاک لیکوئڈ کیمیکلز ٹرمینل | 10 کروڑ امریکی ڈالر |
| ایل سی ٹی — لیکوئڈ کارگو ٹرمینل | 5 کروڑ امریکی ڈالر |
| ایف اے پی گرین اینڈ فرٹیلائزر ٹرمینل | 13 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر |
| ایس ایس جی سی ایل پی جی ٹرمینل | 5 کروڑ امریکی ڈالر |
| پی آئی بی ٹی کول، کلنکر اینڈ سیمنٹ ٹرمینل | 28 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر |
| ای ای ٹی ایل ایل این جی ٹرمینل | 12 کروڑ امریکی ڈالر |
| پی جی پی سی ایل ایل این جی ٹرمینل | 13 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر |
| کل | 1 ارب 42 کروڑ 50 لاکھ امریکی ڈالر |
کے پی ٹی:
| ٹرمینلز | سرمایہ کاری |
|---|---|
| کے آئی سی ٹی | 12 کروڑ امریکی ڈالر |
| کے جی ٹی ایل | 10 کروڑ امریکی ڈالر |
| کے جی ٹی ایم ایل | 15 کروڑ امریکی ڈالر |
| ایس اے پی ٹی ایل | 1 ارب امریکی ڈالر |
| کل | 1 ارب 37 کروڑ امریکی ڈالر |
اس وقت نجی شعبہ زیادہ تر کارگو اور ٹرمینل آپریشنز تک محدود ہے۔ تاہم بندرگاہی سرگرمیوں کے متعدد ایسے شعبے اب بھی موجود ہیں جہاں نجی سرمایہ کاری اور مہارت نمایاں کردار ادا کرسکتی ہے۔ ٹگ بوٹ آپریشنز، پائلٹ سروسز میں معاونت، ڈریجنگ، مرمت و دیکھ بھال، تحفظ و سلامتی، بحری انجینئرنگ، فضلے کے انتظام اور بندرگاہی معاون خدمات جیسے شعبوں میں نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت سے خاطرخواہ فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ عالمی تجربہ بارہا ثابت کرچکا ہے کہ مسابقت سے کارکردگی اور جدت میں اضافہ ہوتا ہے، خدمات کا معیار بہتر ہوتا ہے اور سرکاری اداروں پر مالی بوجھ کم ہوتا ہے۔
مستقبل کی پالیسی میں صرف ٹرمینلز کے رعایتی معاہدوں تک محدود رہنے کے بجائے بین الاقوامی سطح پر ثابت شدہ مہارت رکھنے والے خصوصی آپریٹرز کو شفاف ضابطہ جاتی نگرانی کے تحت ان معاون خدمات میں حصہ لینے کی ترغیب دی جانی چاہیے۔ اس سے نہ صرف آپریشنل کارکردگی بہتر ہوگی بلکہ روزگار کے مواقع، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مقامی استعدادِ کار میں بھی اضافہ ہوگا۔ حکومت کا کردار بھی بتدریج آپریٹر کے بجائے ایک مؤثر نگران اور سہولت کار کا ہونا چاہیے، جو منصفانہ مسابقت، حفاظتی معیارات اور ماحولیاتی تقاضوں پر عمل درآمد یقینی بنائے۔
ایک اور بڑا موقع پاکستان کی بندرگاہی اتھارٹیز کی ملکیت میں موجود وسیع اراضی کے ذخائر ہیں۔ یہ قیمتی ساحلی اثاثے ملک کے ان معاشی وسائل میں شامل ہیں جنہیں اب تک مطلوبہ حد تک بروئے کار نہیں لایا جاسکا۔ ان اراضی کو خالی چھوڑنے یا کم قدر والی سرگرمیوں کے لیے استعمال کرنے کے بجائے سوچے سمجھے اور مؤثر طریقے سے تشکیل دی گئی سرکاری و نجی شراکت داری کے ذریعے مربوط تجارتی، رہائشی، آپریشنل اور تفریحی منصوبوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
ان اراضی کے ذخائر کی ترقی کا مقصد محض رئیل اسٹیٹ منصوبے بنانا نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مجموعی بحری ماحولیاتی نظام کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ سنگاپور، دبئی، روٹرڈیم اور ہیمبرگ کی مثالیں ظاہر کرتی ہیں کہ کس طرح ساحلی علاقوں کی ترقی کے ذریعے بندرگاہی ماحول میں لاجسٹکس، تجارت، سیاحت اور تفریح کو یکجا کرکے انہیں بڑے معاشی اثاثوں میں تبدیل کیا گیا۔ پاکستان کے پاس بھی بالخصوص کراچی پورٹ، پورٹ قاسم اور گوادر میں ایسے ہی مواقع موجود ہیں، جہاں مستقبل کی ترقی کے لیے قابلِ ذکر ساحلی اراضی دستیاب ہے۔
بندرگاہی حکام زمین کو بطور ایکویٹی فراہم کرسکتے ہیں، جبکہ نجی شعبہ ان سہولتوں کی منصوبہ بندی، سرمایہ کاری، تعمیر، آپریشن اور انتظام سنبھالے۔ اس ماڈل کے ذریعے بندرگاہیں بڑے پیمانے پر سرمایہ خرچ کیے بغیر اپنے اثاثوں کی حقیقی تجارتی قدر سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں، جبکہ منافع میں شراکت، لیز اور رعایتی فیس کے ذریعے مستقل آمدنی بھی حاصل ہوتی رہے گی۔ اس طریقہ کار سے مقامی اور غیرملکی براہِ راست سرمایہ کاری کو بھی فروغ ملے گا اور ہزاروں براہِ راست و بالواسطہ روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
ممکنہ منصوبوں میں جدید لاجسٹکس پارکس، بانڈڈ گوداموں کے کمپلیکس، تقسیم و ترسیل کے مراکز، دفتری عمارات، بحری کاروباری اضلاع، ہوٹل، کانفرنس کی سہولتیں، جہازوں کے عملے کے لیے رہائشی مراکز، بحری تربیتی ادارے، جہازوں کی ہینڈلنگ کے مراکز اور تجارتی ریٹیل منصوبے شامل ہوسکتے ہیں۔ یہ سہولتیں نہ صرف پاکستانی بندرگاہوں کی کشش میں اضافہ کریں گی بلکہ انہیں ان علاقائی بندرگاہوں کے مقابلے میں بھی زیادہ مسابقتی بنائیں گی جو پہلے ہی ایسی جامع اضافی خدمات فراہم کررہی ہیں۔
تفریحی شعبے میں کروز سیاحت اور ساحلی تفریحی سہولتوں کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کی ساحلی پٹی قدرتی حسن سے مالا مال ہے، تاہم سیاحت کے نقطۂ نظر سے اس کی صلاحیت بڑی حد تک بروئے کار نہیں لائی جاسکی۔ ملکی اور غیرملکی مسافروں کے لیے کروز ٹرمینلز، ان کے ساتھ واک ویز، ریستوران، کیفے، خریداری کے مراکز، ثقافتی مراکز اور عوامی تفریحی مقامات قائم کرکے منتخب ساحلی علاقوں کو پرکشش سیاحتی مراکز میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔
دنیا کی متعدد کامیاب بندرگاہوں نے ثابت کیا ہے کہ تجارتی بندرگاہیں اور تفریحی ساحلی علاقے کامیابی سے ساتھ ساتھ وجود رکھ سکتے ہیں۔ دبئی مرینا، سنگاپور کا کلارک کوئے اور سڈنی و وینکوور کے ساحلی اضلاع جیسے منصوبوں نے شہری زندگی کے معیار کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نمایاں معاشی سرگرمی بھی پیدا کی ہے۔ پاکستان بھی مقامی سماجی اور ثقافتی اقدار کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایسے تصورات اختیار کرسکتا ہے۔
یہ تجویز بھی زیرغور لائی جاسکتی ہے کہ مخصوص اور مناسب ضابطہ کاری کے تحت ایسی مہمان نوازی کی سہولتیں قائم کی جائیں، جن میں بین الاقوامی کروز مسافروں اور غیرملکی سیاحوں کے لیے شراب خانے بھی شامل ہوں۔ ایسی سہولتیں موجودہ قوانین اور بین الاقوامی مہمان نوازی کے معیارات کے تحت چلائی جاسکتی ہیں، جس سے قومی ضوابط کی خلاف ورزی کیے بغیر پاکستان کی بطور علاقائی کروز سیاحتی مرکز کشش میں اضافہ ہوگا۔
مشرق وسطیٰ میں حالیہ جغرافیائی سیاسی پیش رفت نے غیرمتوقع طور پر پاکستان کی تزویراتی بحری اہمیت کو نمایاں کردیا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان تنازع اور اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کے حوالے سے پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے بعد شپنگ لائنز نے آپریشنل خطرات کم کرنے اور ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے متبادل بحری راستوں کا جائزہ لینا شروع کردیا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شامل ہے، جہاں سے عالمی تیل برآمدات اور کنٹینرائزڈ تجارت کا ایک قابلِ ذکر حصہ روزانہ گزرتا ہے۔ اس میں عارضی یا طویل المدتی کسی بھی قسم کی رکاوٹ کے عالمی جہاز رانی کے نظام الاوقات، انشورنس پریمیم اور مال برداری کے اخراجات پر فوری اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ چنانچہ شپنگ کمپنیاں ایسے قابلِ اعتماد متبادل بندرگاہوں کی مسلسل تلاش میں رہتی ہیں جو علاقائی عدم استحکام کی صورت میں ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھال سکیں۔
پاکستان کی بندرگاہوں کو اس صورتحال سے فائدہ ہوا۔ ملک میں ٹرانزٹ اور ٹرانس شپمنٹ کارگو میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا جبکہ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں بندرگاہوں پر آنے والے جہازوں کی تعداد بھی بڑھی۔ گوادر پورٹ پر بھی حالیہ برسوں کے مقابلے میں سرگرمی میں اضافہ ہوا، جو پاکستان کے تزویراتی محلِ وقوع میں عالمی دلچسپی بڑھنے کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ یہ پیش رفت بنیادی طور پر غیرمعمولی جغرافیائی سیاسی حالات کے نتیجے میں ہوئی، تاہم اس سے پاکستان کی بندرگاہوں میں علاقائی لاجسٹکس مراکز کے طور پر خدمات انجام دینے کی پوشیدہ صلاحیت ضرور نمایاں ہوئی۔
تاہم اضافی کنٹینر ٹریفک کا بیشتر حصہ کراچی پورٹ نے سنبھالا، جہاں پاکستان کا پہلا جدید ترین گہرے پانی کا کنٹینر ٹرمینل، ساؤتھ ایشیا پاکستان ٹرمینلز لمیٹڈ (ایس اے پی ٹی ایل)، موجود ہے۔ اس سہولت میں مناسب گہرائی، جدید شپ ٹو شور کرینیں اور بڑی مادر شپ کے لیے کافی آپریشنل گنجائش موجود ہے، جو علاقائی اور بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں مصروف ہوتی ہیں۔ یہ پاکستان کے اہم ترین مسابقتی فوائد میں سے ایک ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب شپنگ لائنز معاشی پیمانے کے فوائد حاصل کرنے کے لیے بڑے جہازوں کو اپنے بیڑے میں شامل کررہی ہیں۔
بڑے کنٹینر بردار جہازوں کو لنگرانداز کرنے کی صلاحیت عالمی لائنر شپنگ میں تیزی سے اہم ہوتی جارہی ہے۔ 18 ہزار سے زائد ٹی ای یوز کی گنجائش رکھنے والے جدید کنٹینر جہازوں کے لیے زیادہ گہری بحری گزرگاہیں، مضبوط گھاٹ کا بنیادی ڈھانچہ، بڑی کرینیں اور انتہائی مؤثر ٹرمینل آپریشنز درکار ہوتے ہیں۔ جو بندرگاہیں ان تکنیکی تقاضوں کو پورا نہ کرسکیں، انہیں علاقائی حریف بندرگاہوں کے حق میں نظرانداز کیے جانے کا خطرہ رہتا ہے۔ پاکستان اس سمت میں پہلے ہی اہم سرمایہ کاری کرچکا ہے، تاہم ملک کو خطے میں ترجیحی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے مسلسل ڈریجنگ، بنیادی ڈھانچے کی جدید کاری اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری ناگزیر ہے۔
آبنائے ہرمز کے بحران سے پیدا ہونے والے موقع پر پاکستان کی شپنگ برادری کی بھی نظر رہی۔ اضافی ٹرانس شپمنٹ کارگو حاصل کرنے کے امکانات کو محسوس کرتے ہوئے پاکستان شپز ایجنٹس ایسوسی ایشن (پی ایس اے اے) نے فوری طور پر حکومت کو عملی تجاویز پیش کیں تاکہ موجودہ صورتحال سے پاکستان زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا سکے۔
ایسوسی ایشن نے سفارش کی کہ موجودہ کسٹمز قوانین اور آپریشنل طریقہ کار میں مناسب ترامیم کرکے آف ڈاک ٹرمینلز پر ٹرانس شپمنٹ کارگو ذخیرہ کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس اقدام سے بندرگاہ کے اندر بھیڑ کم کرکے، کارگو ہینڈلنگ کی کارکردگی بہتر بناکر اور طلب میں اضافے کے ادوار میں ٹرمینلز کو زیادہ حجم میں کارگو سنبھالنے کے قابل بناکر پاکستان کی لاجسٹکس چین میں نمایاں لچک پیدا کی جاسکتی ہے۔ دنیا بھر میں آف ڈاک سہولتیں جدید بندرگاہی لاجسٹکس کا لازمی حصہ بن چکی ہیں، جو بندرگاہوں کو محدود ساحلی گنجائش کا زیادہ مؤثر استعمال کرنے اور ٹرمینلز، گوداموں اور اندرونِ ملک مقامات کے درمیان کارگو کی روانی برقرار رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔
ایسوسی ایشن نے ٹرانس شپمنٹ کے لیے کم از کم ایک مکمل کنٹینر سے کم مال، یعنی ایل سی ایل کارگو، کی ہینڈلنگ کی اجازت دینے کی بھی سفارش کی۔ اگرچہ ایل سی ایل کارگو مختلف شپروں سے تعلق رکھنے والی نسبتاً چھوٹی کھیپوں پر مشتمل ہوتا ہے، تاہم یہ بین الاقوامی تجارت کا ایک اہم حصہ ہے، جو تقریباً 25 فیصد بنتا ہے۔ خطے کے متعدد لاجسٹکس مراکز نے ایل سی ایل کارگو کو یکجا کرنے اور منزل پر الگ الگ کرنے کی خصوصی خدمات کامیابی سے متعارف کرائی ہیں، جس سے اضافی آمدنی، روزگار اور اضافی قدر کی حامل لاجسٹکس سرگرمیاں پیدا ہوئی ہیں۔ پاکستان کو اس شعبے میں شرکت کی اجازت دینے سے علاقائی تقسیم اور کارگو یکجائی کے مرکز کے طور پر اس کی پوزیشن مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔
یہ امر حوصلہ افزا ہے کہ حکومت نے ان سفارشات پر مثبت ردعمل دیتے ہوئے نسبتاً مختصر مدت میں ضروری قانونی ضوابط، یعنی ایس آر اوز، جاری کردیے۔ اسی دوران بندرگاہی حکام نے پاکستان کی مسابقتی حیثیت بہتر بنانے کے لیے ٹرانس شپمنٹ کارگو پر عائد مختلف چارجز میں بھی کمی کردی۔ حکومتی اداروں، ریگولیٹرز، بندرگاہی حکام اور نجی شعبے کے درمیان بروقت ہم آہنگی اس امر کی مثال ہے کہ جب پالیسی فیصلوں کو ابھرتی ہوئی تجارتی حقیقتوں سے ہم آہنگ کیا جائے تو کیا نتائج حاصل کیے جاسکتے ہیں۔
تاہم محض عارضی پالیسی اقدامات پاکستان کو مستقل علاقائی ٹرانس شپمنٹ مرکز بنانے کے لیے کافی نہیں ہوں گے۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ اس قلیل مدتی موقع کو ایک پائیدار طویل مدتی کاروباری ماڈل میں تبدیل کیا جائے، جو علاقائی جغرافیائی سیاسی حالات معمول پر آنے کے بعد بھی شپنگ لائنز کو پاکستان کی طرف راغب کرسکے۔ شپنگ کمپنیاں اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے عارضی مراعات کے بجائے قابلِ اعتماد خدمات، کارکردگی، مسابقتی لاگت اور طویل مدتی پالیسی استحکام کی بنیاد پر کرتی ہیں۔
چنانچہ پاکستان کو اب وزارتِ بحری امور، بندرگاہی حکام، ٹرمینل آپریٹرز، کسٹمز حکام اور نجی شعبے کی مشترکہ کوششوں سے ایک جامع تجارتی اور مارکیٹنگ حکمت عملی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت بین الاقوامی شپنگ لائنز، عالمی لاجسٹکس کمپنیوں اور کارگو مالکان کے سامنے پاکستان کی بندرگاہوں کو فعال طور پر اجاگر کیا جانا چاہیے، جس میں ملک کے تزویراتی جغرافیائی محلِ وقوع، جدید ٹرمینل بنیادی ڈھانچے، مسابقتی لاگت اور بہتر ہوتے رابطوں کو نمایاں کیا جائے۔ ہماری بندرگاہوں کی بین الاقوامی مارکیٹنگ کو غیرمعمولی حالات کے جواب تک محدود رکھنے کے بجائے مسلسل جاری رہنے والی سرگرمی بنانا چاہیے۔
اسی طرح طریقہ کار کو آسان بنانا، کسٹمز کلیئرنس تیز کرنا، ڈیجیٹلائزیشن بہتر بنانا، دستاویزات کی ضروریات کم کرنا اور ضابطہ جاتی عمل کو قابلِ پیش گوئی بنانا بھی نہایت اہم ہے۔ عالمی شپنگ لائنز یقین دہانی اور کارکردگی کو بہت زیادہ اہمیت دیتی ہیں۔ جہاز کے بندرگاہ پر قیام کے دورانیے، دستاویزی کارروائی اور کارگو کلیئرنس کے وقت میں معمولی بہتری بھی روٹنگ سے متعلق فیصلوں پر نمایاں اثر ڈال سکتی ہے اور اس کے نتیجے میں لاکھوں ڈالر کی اضافی آمدنی حاصل ہوسکتی ہے۔
علاقائی ٹرانس شپمنٹ مارکیٹ کا حجم سالانہ تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ ٹی ای یوز لگایا جاتا ہے۔ اس مارکیٹ میں معمولی سا حصہ بھی حاصل کرنا پاکستان کے بحری شعبے کے لیے بڑی تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹرانس شپمنٹ سرگرمیوں میں اضافے سے نہ صرف بندرگاہوں اور ٹرمینل آپریٹرز کو اضافی آمدنی حاصل ہوتی ہے بلکہ شپنگ ایجنٹس، فریٹ فارورڈرز، ٹرانسپورٹ کمپنیوں، گودام آپریٹرز، کسٹمز ایجنٹس، بینکوں، انشورنس کمپنیوں اور متعدد ذیلی خدمات فراہم کرنے والوں کو بھی فائدہ پہنچتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا ضربی اثر پوری قومی معیشت تک پھیلتا ہے، روزگار کے مواقع پیدا کرتا ہے اور علاقائی و عالمی سپلائی چینز میں پاکستان کی پوزیشن مضبوط بناتا ہے۔
عالمی بینک گروپ اور ایس اینڈ پی گلوبل مارکیٹ انٹیلی جنس کی مشترکہ طور پر شائع کردہ کنٹینر پورٹ پرفارمنس انڈیکس 2025 کے مطابق، پورٹ قاسم اتھارٹی کا اسکور 2020 میں 8 کی بنیادی سطح سے بڑھ کر 2025 میں 60.1 ہوگیا، یعنی 52 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ اس طرح 2020 سے 2025 کے دوران دنیا کی تیزی سے بہتری دکھانے والی 20 کنٹینر بندرگاہوں میں اسے پانچویں پوزیشن حاصل ہوئی۔ اسی دوران کراچی پورٹ ٹرسٹ 30 درجے بہتری کے ساتھ 99ویں سے 69ویں نمبر پر آگیا۔
ایک اور حالیہ حوصلہ افزا پیش رفت پاکستان کے لائنر شپنگ کنیکٹیویٹی انڈیکس میں بہتری ہے، جو 150.90 سے بڑھ کر 161.55 ہوگیا ہے۔ اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (انکٹاڈ) نے یہ انڈیکس 2004 میں متعارف کرایا تھا اور اب لائنر شپنگ رابطوں کے اعتبار سے پاکستان دنیا کے سرفہرست 5 فیصد ممالک میں شامل ہے۔ بظاہر یہ محض ایک شماریاتی اشاریہ دکھائی دے سکتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ عالمی لائنر شپنگ نیٹ ورکس میں کسی ملک کے انضمام کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ پیمائش ہے۔ زیادہ کنیکٹیویٹی انڈیکس بہتر شپنگ خدمات، جہازوں کی زیادہ آمد، نیٹ ورک کی بہتر کوریج اور درآمد کنندگان و برآمد کنندگان کے لیے زیادہ انتخاب، یعنی زیادہ مسابقت، کی عکاسی کرتا ہے۔ بالآخر مضبوط بحری رابطے لاجسٹکس لاگت میں کمی، سپلائی چین کی مزاحمت میں بہتری اور ملکی بین الاقوامی تجارت کی مسابقتی صلاحیت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔
لہٰذا پاکستان کے کنیکٹیویٹی انڈیکس میں حالیہ بہتری کو بذاتِ خود منزل سمجھنے کے بجائے اس حوصلہ افزا اشارے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے کہ گزشتہ کئی برسوں کے دوران کی جانے والی اصلاحات اب مثبت نتائج دینا شروع ہوگئی ہیں۔ اس رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے بندرگاہی بنیادی ڈھانچے، بحری گزرگاہوں کی گہرائی میں اضافے، ڈیجیٹل تبدیلی، ضابطہ جاتی جدید کاری اور سرکاری اداروں و نجی شراکت داروں کے درمیان قریبی تعاون میں مسلسل سرمایہ کاری ضروری ہوگی۔
سمندری معیشت کا فریم ورک پاکستان کو قومی معیشت میں بحری شعبے کے کردار پر ازسرنو غور کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ بندرگاہوں کو محض درآمدات و برآمدات کے دروازوں کے طور پر دیکھنے کے بجائے انہیں تیزی سے معاشی ترقی کے محرکات کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہیے، جو سرمایہ کاری متوجہ کرنے، صنعت کو سہارا دینے، علاقائی تجارتی روابط مضبوط بنانے، روزگار پیدا کرنے اور سیاحت کے فروغ کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کامیابی کا انحصار صرف بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری پر نہیں بلکہ مؤثر حکمرانی، تجارتی سوچ اور بین الاقوامی بہترین طریقہ ہائے کار اپنانے کی آمادگی پر بھی ہوگا۔
پاکستان کے پاس خطے میں ایک اہم بحری اور لاجسٹکس مرکز بننے کے لیے جغرافیائی برتری، بنیادی ڈھانچہ اور نجی شعبے کی مطلوبہ صلاحیت موجود ہے۔ پالیسی سازوں کے سامنے چیلنج یہ ہے کہ اب تک حاصل ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھایا جائے، ابھرتے ہوئے مواقع سے فائدہ اٹھایا جائے اور ایسی طویل مدتی پالیسیاں تشکیل دی جائیں جو سرمایہ کاروں اور بین الاقوامی شپنگ برادری کا اعتماد بحال رکھیں۔ اگر اس وژن کو مستقل مزاجی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو سمندری معیشت محض ایک پالیسی دستاویز تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پائیدار معاشی ترقی کے ایک طاقتور محرک میں تبدیل ہوسکتی ہے اور آنے والی دہائیوں میں پاکستان کے بحری شعبے کو ملک کے سب سے قیمتی تزویراتی اثاثوں میں شامل کرسکتی ہے۔
بنیاد پہلے ہی رکھ دی گئی ہے۔ اب پاکستان کو پالیسیوں میں تسلسل، مسلسل سرمایہ کاری اور سرکاری و نجی شعبوں کے مشترکہ عزم کی ضرورت ہے تاکہ ملک کی سمندری معیشت کی مکمل صلاحیت کو بروئے کار لایا جاسکے۔


Comments