BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
اداریہ

دہشتگردی، بھارتی موقف برقراررکھنا مشکل ہوگیا

  • پاکستان کئی برسوں سے اپنی سرزمین پر ہونے والے تشدد میں بھارتی مداخلت کے شواہد پیش کرتا آیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پاکستان کی جانب سے یہ الزام کہ بھارت نے دہشت گردی کو اپنی پالیسی کے ایک آلے میں تبدیل کر دیا ہے، ماضی میں نئی دہلی میں اسے دو پرانے حریفوں کے درمیان جاری روایتی مخاصمت کی ایک اور کڑی قرار دے کر باآسانی مسترد کردیا جاتا تھا۔ اب اس مؤقف کو برقرار رکھنا خاصا مشکل ہوگیا ہے۔

پاکستان کئی برسوں سے اپنی سرزمین پر ہونے والے تشدد میں بھارتی مداخلت کے شواہد پیش کرتا آیا ہے، لیکن بھارتی روابط رکھنے والی کارروائیوں کے الزامات اب جنوبی ایشیا سے کہیں آگے، امریکا اور کینیڈا جیسے دور اور طاقتور ممالک تک بھی پہنچ چکے ہیں۔

یہ تبدیلی خاص طور پر نریندر مودی کے بھارتیہ جنتا پارٹی کے دور میں نمایاں ہوئی ہے، جو 2014 میں شروع ہوا۔ پاکستان بارہا بھارت پر الزام عائد کرچکا ہے کہ وہ ملک کے اندر حملوں کے ذمہ دار عسکریت پسند گروہوں، جن میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) شامل ہیں، کو مالی معاونت اور حمایت فراہم کرتا ہے۔ نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔

اسلام آباد کے مؤقف کو خاص طور پر کلبھوشن جادھو کے معاملے سے نمایاں حیثیت ملی، جو بھارتی بحریہ کا سابق افسر ہے اور پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی کے الزامات میں سزا یافتہ ہے۔ بھارت اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ کلبھوشن جادھو بھارتی شہری ہے، تاہم اس نے پاکستان کی جانب سے اس کی سرگرمیوں اور اس کی گرفتاری کے حالات سے متعلق مؤقف کو متنازع قرار دیا ہے۔ اس کے بعد عالمی عدالت انصاف نے قونصلر حقوق سے متعلق بھارت کی شکایت پر کارروائی کی، تاہم کلبھوشن جادھو کی سرگرمیوں سے متعلق دونوں فریقوں کے متضاد الزامات میں سے کسی کو درست قرار نہیں دیا۔

جنوبی ایشیا سے کہیں دور پیش آنے والے واقعات نے اس وسیع تر معاملے کو پاکستانی دعووں تک محدود رکھنا مزید مشکل بنا دیا ہے۔ امریکا میں بھارتی شہری نکھیل گپتا نے رواں سال فروری میں نیویارک میں ایک سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش سے متعلق کرائے کے عوض قتل اور دیگر الزامات میں جرم قبول کیا۔ امریکی استغاثہ کے مطابق گپتا نے وکاش یادیو کی ہدایت پر کام کیا، جو بھارتی حکومت کا ایک ملازم ہے۔ وکاش یادیو پر الگ سے فرد جرم عائد کی گئی ہے اور اس پر بھارت سے اس کارروائی کی ہدایت دینے کا الزام ہے۔ بھارت نے حکومتی مداخلت سے انکار کیا ہے۔ نئی دہلی کا مؤقف کچھ بھی ہو، امریکی استغاثہ کی جانب سے ایک مبینہ بھارتی عہدیدار سے منسلک قتل کی سازش کے مقدمے کی پیروی بین الاقوامی سطح پر ایسی سرگرمیوں سے متعلق تشویش میں غیر معمولی اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

کینیڈا میں بھی 2023 میں برٹش کولمبیا میں سکھ کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل کے معاملے نے اسی نوعیت کے سنگین الزامات کو جنم دیا، جہاں کینیڈین حکام نے بھارتی ایجنٹوں پر ملوث ہونے کا الزام عائد کیا، جبکہ بھارت نے اس الزام کو مسترد کردیا۔ مجموعی طور پر امریکی اور کینیڈین مقدمات نے اس تناظر کو بنیادی طور پر تبدیل کردیا ہے جس میں پاکستان کی دیرینہ شکایات کو دیکھا جانا چاہیے۔ اب اسلام آباد کو محض واحد ایسا دارالحکومت قرار دے کر پیش نہیں کیا جاسکتا جو یہ الزام عائد کررہا ہو کہ بھارتی سلامتی کے مفادات بھارت کی سرحدوں سے باہر خفیہ کارروائیوں کے ذریعے آگے بڑھائے جارہے ہیں۔

لہٰذا اقوام متحدہ میں پاکستان کی بات چیت بین الاقوامی سطح پر سنجیدہ توجہ کی مستحق ہے۔ پاکستان کا یہ دعویٰ کہ رواں صدی کے آغاز سے اب تک تقریباً ایک لاکھ پاکستانی دہشت گردی کے ہاتھوں مارے جاچکے ہیں، اس بڑے دہشت گردی کے خطرے سے وابستہ انسانی نقصان کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس پوری ہلاکتوں کی تعداد کی ذمہ داری بھارت پر عائد نہیں کی جاسکتی اور بھارتی سرپرستی سے متعلق پاکستان کے مخصوص الزامات کو شواہد کی بنیاد پر ہی درست یا غلط ثابت ہونا چاہیے۔ تاہم مختلف نیٹ ورکس، کارروائیوں میں ملوث افراد اور مالی معاونت سے متعلق پیش کیے گئے شواہد کی تحقیقات ہونی چاہئیں، بجائے اس کے کہ انہیں صرف اس بنیاد پر خودکار طور پر مسترد کردیا جائے کہ وہ اسلام آباد سے آئے ہیں۔

یہاں ایک وسیع تر اصول بھی داؤ پر ہے۔ ریاستیں اپنی خودمختاری کے تحفظ کا حق اس وقت برقرار نہیں رکھ سکتیں جب وہ کسی مخالف، منحرف شخص یا علیحدگی پسند کے وہاں موجود ہونے کی صورت میں دوسری ریاست کی خودمختاری کو قابلِ گفت و شنید سمجھنے لگیں۔ اگر حکومتیں قتل کی سازشوں، پراکسی تشدد یا خفیہ سرپرستی کو خارجہ پالیسی کے ذرائع کے طور پر معمول بنانا شروع کردیں تو اپنے تحفظ کیلئے جن بین الاقوامی اصولوں کا وہ حوالہ دیتی ہیں، وہ بتدریج بے معنی ہوجائیں گے۔

پاکستان کئی برسوں سے بھارت کے بارے میں یہی مؤقف پیش کرتا آیا ہے۔ نئی دہلی کیلئے پریشان کن تبدیلی یہ ہے کہ اب پاکستان واحد ملک نہیں رہا جو یہ سوالات اٹھا رہا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف