پاک، سعودی دفاعی معاہدہ آئندہ ماہ ترک پارلیمنٹ میں پیش ہونے کی توقع ہے، اسپیکر
- نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرح یہ معاہدہ طے کرتا ہے کہ ایک اتحادی پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور ہوگا
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ تاحال منظوری کے لیے ترک پارلیمنٹ میں پیش نہیں کیا گیا، پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قرتولموش نے کہا کہ انہیں توقع ہے کہ پارلیمنٹ کے آئندہ ماہ تعطیلات سے واپس آنے پر معاہدہ باضابطہ منظوری کے لیے پیش کردیا جائے گا۔
تینوں علاقائی طاقتوں نے اگست میں ’’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘‘ پر دستخط کیے تھے۔ یہ معاہدہ ایران کے ساتھ جنگ کے دوران ایران کی حمایت یافتہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملے شروع کرنے سے چند ہفتے قبل طے پایا تھا۔
نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر اس معاہدے میں کہا گیا ہے کہ ایک اتحادی پر حملہ تمام اتحادیوں پر حملہ تصور ہوگا۔
قرتولموش نے انقرہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے مؤثر ہونے کے لیے پارلیمانی منظوری ضروری ہے۔ ان کے مطابق اس وقت معاہدے کے تحت ہونے والے اجلاس تیاری کے مرحلے میں ہیں۔


Comments