انشورنس کمپنیوں نے 2025 میں 10 لاکھ سے زائد کلیمز نمٹادیے، ایس ای سی پی
- لائف انشورنس کے مجموعی کلیمز کی مالیت 410 ارب روپے رہی، رپورٹ
سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی جانب سے پہلی مرتبہ جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں انشورنس کمپنیوں نے 2025 میں موٹر، حادثات وصحت اور فائر و پراپرٹی انشورنس کے 10 لاکھ سے زائد کلیمز نمٹائے۔
انشورنس انڈسٹری اسٹیٹسٹکس رپورٹ 2025 میں یہ بھی بتایا گیا کہ لائف انشورنس کے مجموعی کلیمز کی مالیت 410 ارب روپے رہی جبکہ نان لائف انشورنس کے کلیمز کی ادائیگیاں تقریباً 138 ارب روپے رہیں جس سے دونوں شعبوں میں کلیمز کے حجم کا واضح اندازہ ہوتا ہے۔
لائف انشورنس کے کلیمز 2024 کے 380 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ گئے۔ ان میں تقریباً 37 ارب روپے کے ڈیتھ کلیمز شامل تھے جو گزشتہ سال 33 ارب روپے رہے تھے۔ نان لائف انشورنس کے کلیمز کی ادائیگیاں 92 ارب روپے سے بڑھ کر تقریباً 138 ارب روپے ہوگئیں۔
نئے جاری کردہ کلیمز کے اعدادوشمار کے مطابق لائف انشورنس کمپنیوں نے سال کے دوران 33 ہزار سے زائد ڈیتھ کلیمز کی ادائیگیاں کیں۔ نان لائف انشورنس کمپنیوں نے 7 لاکھ 20 ہزار سے زائد حادثات و صحت کے کلیمز، 2 لاکھ 82 ہزار سے زائد موٹر کلیمز اور تقریباً 11 ہزار فائر و پراپرٹی کلیمز نمٹائے۔
چیئرمین ایس ای سی پی ڈاکٹر کبیر سدھو نے کہا کہ کلیمز کی ادائیگی انشورنس کمپنیوں کی کارکردگی جانچنے کا ایک اہم پیمانہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کلیمز کی مالیت اور تعداد شائع کرنے سے احتساب مزید مضبوط ہوگا، پالیسی ہولڈرز کا اعتماد بڑھے گا اور پائیدار ترقی کو فروغ ملے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایس ای سی پی انشورنس کمپنیوں کے کلیمز نمٹانے کے طریقۂ کار کا جامع جائزہ لے رہا ہے جس میں کلیمز کے اعدادوشمار کا تجزیہ بھی شامل ہے۔ ایس ای سی پی نے مارکیٹ کنڈکٹ رولز فار انشوررز، 2026 کا مسودہ بھی عوامی مشاورت کے لیے پیش کردیا ہے۔
رپورٹ میں انشورنس انڈسٹری کے مختلف شعبوں میں ترقی ریکارڈ کی گئی۔ انڈسٹری کے مجموعی اثاثوں میں 9 فیصد سے زائد اضافہ ہوا اور یہ 4.1 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے جبکہ مجموعی تحریر شدہ پریمیم 15 فیصد اضافے سے 778 ارب روپے ہوگیا۔ لائف انشورنس کے پریمیم میں 14 فیصد جب کہ نان لائف انشورنس کے پریمیم میں 16 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
نجی لائف انشورنس کمپنیوں میں ہیلتھ انشورنس کے پریمیم میں 49 فیصد اضافہ ہوا اور یہ بڑھ کر 30.4 ارب روپے ہوگئے جبکہ ٹرم لائف انشورنس کے پریمیم میں تقریباً 37 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 19.7 ارب روپے سے تجاوز کرگئے۔ نان لائف انشورنس کے شعبے میں موٹر انشورنس کے پریمیم میں تقریباً 35 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 78.5 ارب روپے سے زائد ہوگئے جبکہ حادثات اور صحت سے متعلق انشورنس کے پریمیم تقریباً 42 فیصد بڑھ کر 35.7 ارب روپے سے تجاوز کرگئے۔
ڈیجیٹل ڈسٹری بیوشن چینلز کے ذریعے حاصل ہونے والے پریمیم میں 71 فیصد اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 6.8 ارب روپے تک پہنچ گئے۔ تکافل کا لائف انشورنس مارکیٹ میں حصہ 16 فیصد جب کہ نان لائف انشورنس مارکیٹ میں 15 فیصد رہا۔
رپورٹ ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔


Comments