BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

ٹرمپ انتظامیہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف پابندیوں کی تیاری کر رہی ہے، ذرائع

  • امریکا کی جانب سے بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کا منصوبہ دنیا بھر میں جنگی جرائم کے مقدمات چلانے کے اس کے مشن کو شدید متاثر کرسکتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف مکمل پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کرلی ہے اور جلد ہی اس کا اعلان کرنے کا منصوبہ ہے۔ معاملے سے واقف دو ذرائع نے اتوار کو بتایا کہ یہ اقدام عالمی عدالت کے خلاف امریکی کارروائی کو مزید تیز کردے گا، جو دنیا بھر میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی پیروی کرتی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت کے حوالے سے اپنی ناپسندیدگی کبھی پوشیدہ نہیں رکھی اور اسے کمزور کرنے کے لیے اقدامات کرتی رہی ہے۔ امریکی حکام چاہتے ہیں کہ عدالت اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹس کے ساتھ ساتھ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف ماضی میں کی جانے والی تحقیقات بھی ختم کردے۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جولائی میں عدالت کو تنہا کرنے کی مہم کا اعلان کرتے ہوئے دیگر ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ عدالت سے دستبردار ہوجائیں۔ واشنگٹن پہلے ہی آئی سی سی کے متعدد ججوں اور پراسیکیوٹرز پر پابندیاں عائد کرچکا ہے، تاہم اب تک خود عدالت پر پابندیاں عائد کرنے سے گریز کیا ہے، اگرچہ طویل عرصے سے اس اقدام کو زیرِغور آپشنز میں شامل کیا جاتا رہا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے تبصرے کے لیے کی گئی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

ذرائع نے بتایا کہ عدالت کے خلاف پابندیاں تیار کرلی گئی ہیں، تاہم اعلان کے حتمی وقت کے بارے میں اب بھی کوئی وضاحت نہیں ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل نے امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران رواں ہفتے ہی اس فیصلے کو حتمی شکل دی جاسکتی ہے۔

پوری تنظیم کے ساتھ ساتھ اس کے ساتھ تعاون کرنے والے اداروں کو براہِ راست ہدف بنانا عدالت کے کام کو شدید متاثر کرسکتا ہے۔

اگر امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے پوری تنظیم پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں تو امریکی شہریوں اور کمپنیوں کو محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات کنٹرول (او ایف اے سی) سے اجازت نامے کے بغیر عدالت کو رقوم، اشیا یا خدمات فراہم کرنے سے روک دیا جائے گا۔ بینک اکثر ایسی امریکی پابندیوں پر ضرورت سے زیادہ سختی سے عمل کرتے ہیں، کیونکہ ان کا امریکی مالیاتی نظام تک رسائی پر انحصار ہوتا ہے۔

عدالت کے رجسٹرار اور صدر نے خبردار کیا ہے کہ پوری تنظیم پر پابندیوں سے آئی سی سی کی متعدد سرگرمیاں متاثر ہوسکتی ہیں، جن میں آئی ٹی خدمات اور انشورنس کی خریداری، تفتیش کاروں کی بھرتی اور روزمرہ کے مالی معاملات، مثلاً درجنوں امریکی ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی، شامل ہیں۔

ٹرمپ کی عدالت مخالفت ان کے پہلے دورِ صدارت سے چلی آرہی ہے۔ نومبر 2024 میں ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے اور آئی سی سی کی جانب سے غزہ تنازع میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیے جانے کے بعد عدالت کے حکام کو سزا دینے کی تجویز ایک بار پھر سامنے آئی۔

آئی سی سی کو عالمی برادری نے 2002 میں جنگی جرائم، نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمات چلانے کے لیے قائم کیا تھا۔ عدالت کا کہنا ہے کہ اسے صرف اس صورت میں دائرۂ اختیار حاصل ہوتا ہے جب کوئی رکن ملک خود مظالم کے مقدمات چلانے سے قاصر ہو یا ایسا کرنے پر آمادہ نہ ہو۔

امریکا کبھی بھی اس عدالت کا رکن نہیں رہا۔

Comments

200 حروف