سعودی عرب کی آئل پائپ لائن چند روز میں بحال ہوجائے گی، امریکی وزیر توانائی
- سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن، جو عالمی تیل رسد کا ایک بڑا ذریعہ ہے، چند روز میں مکمل طور پر بحال ہونے کی توقع ہے، کرس رائٹ
امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ نے منگل کو سی این بی سی کو بتایا کہ سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سے چند روز میں دوبارہ خام تیل کی ترسیل شروع ہونے کی توقع ہے، حوثیوں کے حملوں کے بعد مملکت کو عارضی طور پر یہ پائپ لائن بند کرنا پڑی ہے۔
رائٹ نے ہیوسٹن میں جی 20 کے توانائی اجلاس کے موقع پر کہا، ’’ابھی تفصیلی جائزہ جاری ہے، تاہم میرے خیال میں اس میں چند روز لگیں گے۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب امریکی فوج کی معاونت سے آبنائے ہرمز سے زیادہ مقدار میں تیل نکالنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔
جزیرہ نما عرب کے راستے 1,200 کلومیٹر (745 میل) طویل ایسٹ ویسٹ پائپ لائن گزشتہ 6 ماہ سے مشرقِ وسطیٰ کے تیل کی عالمی رسد کے لیے آبنائے ہرمز سے باہر جانے کا مرکزی راستہ رہی ہے، جبکہ ایران اور عمان کے درمیان واقع یہ آبنائے ایران کے خلاف امریکی جنگ کے باعث بڑی حد تک بند ہے۔
یہ پائپ لائن روزانہ 40 لاکھ سے 50 لاکھ بیرل تیل منتقل کر رہی تھی، جو عالمی تیل رسد کے 4 سے 5 فیصد کے برابر ہے۔ اس کے باعث سعودی عرب دیگر خلیجی تیل اور گیس برآمد کنندگان کو مفلوج کرنے والے رسدی بحران کے شدید اثرات سے بڑی حد تک محفوظ رہا۔
واشنگٹن نے اب تک انٹیلی جنس تعاون سے آگے بڑھتے ہوئے براہِ راست فوجی مداخلت کی سعودی درخواستوں پر عمل درآمد سے گریز کیا ہے۔ تین ذرائع نے پیر کو رائٹرز کو بتایا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے اختتام پر کہا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد سے بات کی ہے، جبکہ یمن سے سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملے کرنے والے حوثیوں نے بھی واشنگٹن سے رابطہ کرکے اسے تنازع سے دور رہنے پر زور دیا ہے۔


Comments