BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.29%)
KSE100 Increased By (0%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.33 Decreased By ▼ -0.02 (-0.07%)
CNERGY 13.08 Decreased By ▼ -0.04 (-0.3%)
DFML 16.67 Increased By ▲ 0.77 (4.84%)
DGKC 192.00 Decreased By ▼ -0.45 (-0.23%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.73 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.30 Decreased By ▼ -0.26 (-1.33%)
HBL 306.88 Increased By ▲ 0.78 (0.25%)
HUBC 201.40 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.29 Decreased By ▼ -1.44 (-0.45%)
PAEL 35.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.11%)
PIBTL 14.85 Increased By ▲ 0.17 (1.16%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.15 Decreased By ▼ -2.76 (-1.22%)
PRL 93.30 Increased By ▲ 0.28 (0.3%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.84 Increased By ▲ 0.04 (0.51%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.60 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

اسٹیٹ بینک کا شرحِ سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ

  • مارکیٹ کے شرکا کی توقعات بڑی حد تک سالانہ مہنگائی کی توقعات سے متاثر ہیں
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے شرح سود کو 11.5 فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا رواں کیلنڈر سال میں یہ چھٹا اجلاس ہے، پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کا فیصلہ مارکیٹ توقعات کے عین مطابق ہے۔

اسٹیٹ بینک نے ماہ اپریل کے دوران شرح سود میں 100 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد سے پالیسی ریٹ برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہ تقریباً تین سال میں شرح سود میں پہلا اضافہ تھا، جس سے قبل دسمبر 2025 میں اچانک 50 بیسس پوائنٹس کمی کی گئی تھی، جبکہ جنوری اور مارچ میں شرح سود برقرار رکھی گئی تھی۔

اپنے بیان میں مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے کہا کہ شرح سود موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ 10 میں سے 7 ارکان کی اکثریت نے کیا۔

ایم پی سی نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری طویل جنگ کی حالیہ شدت کے نتیجے میں پہلے ہی بلند عالمی اجناس کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا ہے، جبکہ سپلائی چین میں رکاوٹیں بھی برقرار ہیں۔

تاہم کمیٹی کے مطابق حالیہ ملکی معاشی اعدادوشمار مجموعی طور پر ایم پی سی کی توقعات کے مطابق رہے۔ اگست میں سالانہ بنیادوں پر ہیڈ لائن مہنگائی جولائی کی 9.2 فیصد سے بڑھ کر 11.1 فیصد ہوگئی، جبکہ بنیادی مہنگائی توقعات سے معمولی کم رہی۔ بیرونی کھاتے پر دباؤ بھی قابو میں رہا، جس میں کارکنوں کی ترسیلات زر اور مالیاتی آمد میں اضافے نے اہم کردار ادا کیا۔

دریں اثنا مالی سال 2026 کی چوتھی سہ ماہی میں سست روی کے بعد معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوئی، جس کی عکاسی حالیہ قلیل مدتی معاشی اشاریوں سے ہوتی ہے۔

ایم پی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ اس صورتحال میں کمیٹی نے جائزہ لیا ہے کہ موجودہ مانیٹری پالیسی مؤقف درمیانی مدت میں مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی حدود میں لانے کے لیے موزوں ہے مگر مستقبل کے معاشی منظرنامے سے متعلق غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے، بالخصوص بگڑتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال کے باعث۔

گزشتہ ایم پی سی اجلاس کے بعد اہم پیش رفت

ایم پی سی نے اپنے گزشتہ اجلاس کے بعد ہونے والی اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ اول یہ کہ موڈیز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بڑھا کر بی تھری کردی ہے اور اس کا آؤٹ لک مستحکم رکھا ہے۔ دوم یہ پاکستان نے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں کامیابی سے رسائی حاصل کرتے ہوئے یورو بانڈز کے ذریعے 3 ارب ڈالر حاصل کیے، جبکہ زرمبادلہ کی مسلسل خریداری کے ساتھ اس پیش رفت نے اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 21 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے میں مدد دی۔

سوم یہ کہ ستمبر میں کاروباری اداروں اور صارفین دونوں کی مہنگائی سے متعلق توقعات میں اضافہ ہوا، جبکہ ان کے اعتماد میں کمی آئی۔ چہارم یہ جون میں بڑے پیمانے کی صنعتی پیداوار میں 3.5 فیصد کمی ہوئی، جس کے بعد مالی سال 2026 میں مجموعی پیداوار میں اضافہ 5 فیصد رہا۔

پنجم یہ کہ مالی سال 2026 کے دوران مالیاتی استحکام بجٹ میں مقررہ ہدف سے بہتر رہا۔ اس کے علاوہ مالی سال 2027 کے جولائی اور اگست میں ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں ہدف کے مطابق رہیں، جبکہ اسٹیٹ بینک نے حکومت کو بجٹ میں مختص 1.4 ٹریلین روپے کے مقابلے میں 1.9 ٹریلین روپے کا زیادہ منافع منتقل کیا۔

آخر میں عالمی معاشی حالات میں مشکلات کے باعث مرکزی بینک زیادہ محتاط ہوگئے ہیں۔

جغرافیائی سیاسی اور موسمیاتی رکاوٹوں سے معاشی منظرنامے کو خطرات

مرکزی بینک نے کہا کہ وہ موصول ہونے والے اعدادوشمار اور مشرق وسطیٰ کی جاری صورتحال کا مسلسل قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔

کمیٹی نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ناموافق جغرافیائی سیاسی واقعات اور موسمیاتی رکاوٹوں جیسے جھٹکے زیادہ تواتر سے سامنے آ رہے ہیں اور بدستور معاشی منظرنامے کے لیے خطرات کا باعث ہیں۔

اس پس منظر میں ایم پی سی نے محتاط مانیٹری اور مالیاتی پالیسیوں کے امتزاج کو برقرار رکھنے اور سپلائی کے جھٹکوں کا سامنا کرنے کے لیے حفاظتی ذخائر مزید بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

کمیٹی کے مطابق اس کے ساتھ ساتھ ساختی اصلاحات پر بروقت عملدرآمد بھی ضروری ہے، تاکہ معیشت کی لچک بہتر، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور بلند و پائیدار معاشی نمو کو فروغ دیا جا سکے۔

پچھلی مانیٹری پالیسی

27 جولائی کو ہونے والے گزشتہ اجلاس میں مرکزی بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے پاکستان کے معاشی منظرنامے میں بہتری کے آثار کے باوجود پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھا تھا اور مشرق وسطیٰ میں تنازع دوبارہ شروع ہونے کے بعد بیرونی خطرات میں اضافے کو اس کی وجہ قرار دیا تھا۔

اس وقت کمیٹی نے کہا تھا کہ مانیٹری پالیسی کا موجودہ مؤقف درمیانی مدت کے دوران مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے ہدف کی حدود میں لانے کے لیے موزوں ہے۔

اس سے قبل متعدد تجزیہ کاروں نے بھی توقع ظاہر کی تھی کہ اسٹیٹ بینک موجودہ پالیسی ریٹ برقرار رکھے گا کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں کے باعث بڑھتے ہوئے مہنگائی کے دباؤ سے مانیٹری پالیسی میں نرمی کی گنجائش محدود ہوسکتی ہے۔

اسماعیل اقبال سیکیورٹیز نے کہا کہ ہم توقع کرتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھے گا اور بیرونی مالیاتی بفرز میں بہتری اور مہنگائی کے دوبارہ بڑھتے ہوئے دباؤ کے درمیان متوازن حکمت عملی اختیار کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ مستقبل کی مہنگائی اوسطاً ایک ہندسے میں رہنے کی توقع ہے، تاہم توانائی کی قیمتوں میں بڑھتا ہوا دباؤ اور علاقائی غیر یقینی صورتحال مہنگائی کے منظرنامے کے لیے اضافے کے خطرات برقرار رکھ سکتی ہے، جس کے باعث محتاط مؤقف اختیار کرنا ضروری ہے۔

اسی طرح ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں 84 فیصد جواب دہندگان نے توقع ظاہر کی کہ پالیسی ریٹ برقرار رہے گا۔ دریں اثنا، 14 فیصد نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے جبکہ 2 فیصد نے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی توقع ظاہر کی۔

مارکیٹ کے شرکا کی توقعات بڑی حد تک سالانہ مہنگائی کی توقعات سے متاثر ہیں، جو موجودہ 95 ڈالر فی بیرل کی تیل کی قیمتوں پر مالی سال 2027 کی اوسط بنیاد پر 9 فیصد سے کافی کم رہنے کی توقع ہے۔ اس سے 250 بیسس پوائنٹس سے زیادہ کا مثبت حقیقی شرح سود کا فرق بنتا ہے، جو تاریخی حقیقی شرحوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور کرنٹ اکاؤنٹ کے خسارے پر قابو بھی پالیسی ریٹ برقرار رہنے کی توقع کو تقویت دے رہے ہیں۔

ٹاپ لائن کے تجزیہ کار بھی توقع رکھتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھے گا، جس کی بنیادی وجوہات مناسب حقیقی شرح سود کا فرق اور بیرونی معاشی منظرنامے میں بہتری ہیں، خصوصاً حالیہ 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈ کے اجرا کے بعد۔

تاہم، اگر تیل کی قیمتیں اور غذائی مہنگائی بلند سطح پر برقرار رہتی ہیں تو آنے والے ایم پی سی اجلاسوں، خصوصاً اکتوبر یا دسمبر 2026 میں، شرح سود میں 50 سے 100 بیسس پوائنٹس اضافے کی ضرورت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔

ایک اور بروکریج ہاؤس، جے ایس گلوبل، بھی توقع رکھتا ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھے گی۔ جے ایس گلوبل نے کہا کہ اگر جغرافیائی سیاسی کشیدگی دسمبر کی سہ ماہی تک برقرار رہتی ہے تو اگلا قدم شرح سود میں اضافہ ہوگا۔

بروکریج ہاؤس نے مزید کہا کہ یہ خطرہ اب زیادہ قابلِ اعتبار ہوتا جارہا ہے، کیونکہ ہمارے حالیہ سروے میں ایک تہائی جواب دہندگان نے دسمبر 2026 تک شرح سود میں اضافے کی توقع ظاہر کی ہے۔

Comments

200 حروف