یہ بات اب زیادہ سے زیادہ ناقابلِ تردید ہوتی جارہی ہے کہ پاکستان کا موجودہ نظامِ حکمرانی تقریباً 25 کروڑ آبادی کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تاہم اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا نئے صوبے یا انتظامی یونٹس قائم کرنے سے اس ناکامی کا ازالہ ہوگا یا محض اسی ناکامی کو نئے انتظامی ڈھانچے میں منظم کردیا جائے گا۔
چونکہ اعلیٰ سیاسی اور ریاستی شخصیات ملک کے انتظامی نقشے میں تبدیلیوں پر کھل کر گفتگو کررہی ہیں، اس لیے اس بحث کو نعروں سے آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان واقعی وفاقی ڈھانچے میں کسی بڑی تنظیمِ نو کی جانب بڑھ رہا ہے تو سیاسی جوش و خروش کی پالیسی کی شکل اختیار کرنے سے پہلے اس کے اخراجات، آئینی مضمرات اور حکمرانی میں متوقع فوائد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
چھوٹے انتظامی یونٹس کے حق میں دی جانے والی دلیل بے بنیاد نہیں۔ کروڑوں آبادی پر مشتمل صوبے خود انتہائی مرکزیت کا شکار ڈھانچے بن سکتے ہیں، جہاں اختیارات اور وسائل صوبائی دارالحکومتوں تک محدود ہو جاتے ہیں جبکہ دور دراز اضلاع کو مناسب سہولیات نہیں ملتیں۔ چھوٹے صوبے انتظامی فاصلے کم کر سکتے ہیں، عوامی مسائل پر ردعمل بہتر بنا سکتے ہیں اور نظرانداز کیے گئے علاقوں کو سیاسی طور پر زیادہ مؤثر آواز فراہم کر سکتے ہیں۔ اسلام آباد کو ممکنہ طور پر ایک صوبہ بنایا جا سکتا ہے، جنوبی پنجاب میں طویل عرصے سے الگ صوبے کے مطالبات سامنے آتے رہے ہیں جبکہ دیگر امکانات پر بھی معقول انداز میں بحث کی جا سکتی ہے۔
تاہم ہر نئے صوبے کے قیام کے دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ اس کے لیے آئینی ترامیم کے ساتھ ضروری سیاسی اتفاقِ رائے بھی درکار ہوگا اور جہاں صوبائی حدود میں تبدیلی کی جائے وہاں متاثرہ صوبائی اسمبلی کی منظوری بھی لازمی ہوگی۔ نئی صوبائی حکومتوں کے لیے قانون ساز ادارے، کابینہ، سیکریٹریٹ، بیوروکریسی اور انتظامی ڈھانچہ قائم کرنا پڑے گا۔ وفاقی محاصل کی تقسیم کے نظام میں ان کا حصہ بھی طے کرنا ہوگا۔ مثال کے طور پر اگر اسلام آباد کو صوبہ بنا دیا جائے تو غالباً این ایف سی فریم ورک کے تحت قومی وسائل میں اس کا متفقہ حصہ مقرر کرنا پڑے گا۔ سوال یہ ہے کہ ایسی تبدیلیوں کے مالی اثرات، مستقل انتظامی اخراجات اور ان کے نفاذ میں درپیش رکاوٹوں اور خلل کا حساب کس نے لگایا ہے؟
اس کے علاوہ حکمرانی سے متعلق ایک اور زیادہ اہم سوال بھی موجود ہے۔ اگر نئے انتظامی یونٹس کے اندر کام کرنے والی سیاسی اور انتظامی ثقافت میں کوئی تبدیلی نہ آئے تو نئے یونٹس کے قیام سے آخر کتنا حاصل ہوگا؟ چھوٹے صوبے بھی نئے صوبائی دارالحکومتوں میں اختیارات کو مرکزیت دے سکتے ہیں، اسی نوعیت کی بیوروکریٹک کمزوریوں کو برقرار رکھ سکتے ہیں اور شہریوں کو ان کے علاقوں سے دور کیے جانے والے فیصلوں کا انتظار کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس لیے ملک کو یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ آیا مؤثر حکمرانی کی راہ میں واقعی جغرافیہ ہی بنیادی رکاوٹ ہے۔
یہ بات لازماً مقامی حکومت کے نظام کو بھی بحث کا حصہ بنا دیتی ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی بامعنی سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے ذریعے حکومت کو عوام کے قریب لانے کا ایک طریقہ کار موجود ہے۔ تاہم، صوبائی حکومتیں مسلسل منتخب بلدیاتی اداروں کو خاطر خواہ اختیارات اور وسائل منتقل کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں۔ بلدیات اور اضلاع وہ سطحیں ہیں جہاں روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے والی بہت سی بنیادی خدمات عملاً فراہم کی جاتی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ سیاسی نظام کی سب سے کمزور سطح ہیں۔
یہ تضاد نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ گزشتہ چند دہائیوں میں بااختیار بلدیاتی حکومت کے قیام کی سب سے بڑی کوشش جنرل پرویز مشرف کے دور میں ہوئی جو ایک فوجی حکمران تھے۔ جمہوری نظام کی بحالی کے بعد منتخب سیاسی قیادتوں نے تیسری سطحِ حکومت کو مضبوط بنانے میں بارہا کہیں کم جوش و خروش کا مظاہرہ کیا، حتیٰ کہ عدالتوں کی جانب سے بلدیاتی انتخابات اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی پر زور دیے جانے کے باوجود بھی۔ جب اختیارات اسلام آباد سے صوبوں کو منتقل ہو رہے ہوں تو صوبائی خودمختاری کا بھرپور دفاع کیا جاتا ہے۔ تاہم یہی اصول جب وسائل اور فیصلہ سازی کے اختیارات صوبائی دارالحکومتوں سے اضلاع، قصبوں اور محلوں تک منتقل کرنے کا تقاضا کرتا ہے تو اس حوالے سے جوش و خروش نمایاں طور پر کم ہوجاتا ہے۔
اس ہچکچاہٹ کی ایک واضح سیاسی وجہ ہے۔ حقیقی بااختیار بلدیاتی نظام سرپرستی، اخراجات کے اختیارات اور انتظامی کنٹرول کو نچلی سطح تک تقسیم کر دیتا ہے۔ اس سے وسائل ووٹرز کے قریب آ جاتے ہیں اور مقامی برادریوں کا صوبائی ارکانِ اسمبلی اور جماعتی قیادت کے ڈھانچوں پر انحصار کم ہو جاتا ہے۔ اختیارات کی یہ تقسیم ان لوگوں کو شاذ و نادر ہی پسند آئی ہے جو اس وقت ان اختیارات کے مالک ہیں۔
یقیناً، ان تمام نکات سے نئے صوبوں کے قیام کے خلاف بحث ختم نہیں ہو جاتی۔ ممکن ہے کہ بالآخر نئے صوبے ناگزیر ثابت ہوں اور ان کے قیام پر سنجیدہ قومی بحث کا وقت بھی آچکا ہے۔ تاہم، اس بحث میں ٹھوس اعداد و شمار، آئینی طریقہ کار، مالی اثرات اور اس امر کے واضح شواہد شامل ہونے چاہئیں کہ چھوٹے انتظامی یونٹس عوامی خدمات کی فراہمی کو کس طرح بہتر بنائیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس سوال کا سامنا بھی کرنا ہوگا کہ حقیقی اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کی مخالفت اتنے طویل عرصے سے کیوں کی جاتی رہی ہے۔
ممکن ہے پاکستان کو واقعی ایک مختلف انتظامی نقشے کی ضرورت ہو۔ تاہم نیا نقشہ ترتیب دینے سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ مجوزہ اصلاحات واقعی اختیارات کو شہری کے قریب لے کر آئیں گی یا محض ایسے مزید مقامات پیدا کریں گی جہاں اختیارات بدستور مرکوز رہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments