طویل لوڈشیڈنگ، پی ایل ایل نے 12 سے 16 ستمبر کیلئے ایل این جی ٹینڈر دوبارہ جاری کردیا
- مہنگی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) خریدنے کی پیشکش 2 مرتبہ مسترد کی جاچکی ہے
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) نے مہنگی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) خریدنے کی پیشکش 2 مرتبہ مسترد کرنے کے بعد اتوار کو ایک بار پھر ایل این جی ٹینڈر جاری کردیا ہے، جس میں اب 12 سے 16 ستمبر کے درمیان ایل این جی کارگو کی فراہمی طلب کی گئی ہے۔
پہلے ایل این جی ٹینڈر میں بی پی سنگاپور واحد بولی دہندہ تھا، جس نے 4 سے 8 ستمبر کی ترسیل کے لیے 26.9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کی قیمت پیش کی، تاہم پی ایل ایل نے یہ بولی مسترد کردی۔ دوسرے ٹینڈر میں بی پی سنگاپور نے 8 سے 12 ستمبر کے ایل این جی کارگو کے لیے اپنی پیشکش کم کرکے 26.7128 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کردی، جو پہلے ترسیلی دور کے لیے پیش کردہ 26.9 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو سے کم تھی، تاہم پی ایل ایل نے اسے بھی بہت مہنگا قرار دیا۔
گزشتہ ہفتے پاور ڈویژن نے بالواسطہ طور پر ملک بھر میں طویل لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار پیٹرولیم ڈویژن کو قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ پنجاب میں ایل این جی پر چلنے والے 3 پاور پلانٹس کو چلانے کے لیے درکار آر ایل این جی کی کمی کے باعث بجلی کی پیداوار متاثر ہوئی۔
باخبر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ یہ قلت اس وقت پیدا ہوئی جب قطر سے پی ایل ایل کو فراہم کی جانے والی معاہدہ شدہ گیس کی سپلائی فورس میجر کی صورتحال کے باعث معطل ہوگئی، جس کے بعد کمپنی کو اسپاٹ مارکیٹ سے آر ایل این جی خریدنے پر مجبور ہونا پڑا۔
ایک آر ایل این جی کارگو کی تاخیر سے آمد نے ایندھن کی قلت کو مزید سنگین کردیا، جس کے نتیجے میں بجلی کی پیداوار بھی بری طرح متاثر ہوئی۔
وفاقی حکومت نے رات کے اوقات میں لوڈشیڈنگ پر معذرت کرتے ہوئے اس کی وجہ قطر سے معاہدہ شدہ ایل این جی کی عدم دستیابی کو قرار دیا، جس کے باعث تقریباً 5,000 میگاواٹ مجموعی پیداواری صلاحیت رکھنے والے پاور پلانٹس کام کرنے سے قاصر رہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments