امریکا، ایران امن مذاکرات کیلئے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت بدستور مؤثر، دفتر خارجہ
- پاکستان نے امریکہ ایران تنازع کے خاتمے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں
پاکستان نے کہا ہے کہ فوجی کشیدگی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت بیانات کے باوجود اسلام آباد ایم او یو امریکہ ایران مذاکرات کی بحالی کے لیے بدستور قابلِ عمل فریم ورک ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ تنازعات کے فریق کشیدگی میں اضافے کے دوران اکثر ’سخت اور دوٹوک‘ بیانات جاری کرتے ہیں، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو مسترد کردیا گیا ہے۔
ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ اس کے زندہ، مردہ یا نیم مردہ ہونے کا کوئی سوال ہی نہیں۔ امن کے لیے یہ موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو امید ہے کہ جب کشیدگی بڑھانے کا عمل اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائے گا تو فریقین دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آئیں گے۔
پاکستان نے امریکہ ایران تنازع کے خاتمے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے حال ہی میں ایس سی او سربراہ اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی جبکہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے مذاکرات کیے۔
اس سے قبل فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کشیدگی میں کمی کے لیے پاکستان کی کوششوں، آبنائے ہرمز کے معاملے پر تعطل ختم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل کی حوصلہ افزائی کے سلسلے میں تہران کا دورہ کیا تھا۔


Comments