BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

ٹرمپ کے معاونین ایران جنگ میں خاموشی کے خواہاں، نومبر کے انتخابات کے بعد حملوں میں شدت کا امکان

  • امریکا اور ایران کے درمیان رات گئے جوابی حملوں کے تبادلے کے باعث حکمتِ عملی پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلیٰ معاونین نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ کو مزید بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ ریپبلکن پارٹی کو ممکنہ انتخابی نقصان سے بچایا جا سکے۔ اس معاملے سے واقف چار افراد نے بتایا کہ امریکا اور ایران کے درمیان رات گئے ایک دوسرے کے خلاف جوابی حملوں کے باعث یہ حکمت عملی پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے۔

ذرائع کے مطابق وائٹ ہاؤس کے حکام 3 نومبر کے انتخابات کے بعد فوجی کارروائی بڑھانے پر غور کریں گے، تاہم مکمل جنگ کی طرف واپسی ابھی یقینی نہیں۔ ذرائع نے اندرونی معاملات پر بات کرنے کے لیے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ معلومات فراہم کیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی تازہ کارروائیاں خطے میں امریکی افواج اور بحری آمدورفت پر حالیہ حملوں کے جواب میں کی گئیں۔

فی الحال ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران پر مزید اقتصادی دباؤ بڑھانے پر انحصار کرنا چاہتی ہے، تاکہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات میں وہ رعایتیں حاصل کی جا سکیں جو کئی ماہ کی فوجی کارروائی کے باوجود حاصل نہیں ہو سکیں۔

وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے کہا کہ ہم ایران پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہیں، لیکن نومبر ترجیح ہے۔

ذرائع کے مطابق نومبر تک جنگ کو زیادہ تر محدود رکھنے سے اس غیر مقبول تنازع کو خبروں پر حاوی ہونے سے روکا جا سکے گا، جبکہ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی سینیٹ اور ایوان نمائندگان میں اپنی معمولی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے انتخابی مہم چلا رہی ہے۔

رائٹرز/اِپسوس کے اگست کے آخر میں کیے گئے سروے کے مطابق صرف 31 فیصد امریکی جنگ کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ تقریباً 63 فیصد اس کے مخالف ہیں۔ ووٹرز خاص طور پر پٹرول کی بلند قیمتوں سے ناخوش ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ میں عارضی وقفے سے امریکی فوج کو اپنے تیزی سے کم ہوتے گولہ بارود اور میزائلوں کے ذخائر دوبارہ بھرنے کے لیے بھی کچھ وقت مل سکتا ہے۔

تاہم جنگ کو قابو میں رکھنے کی حکمت عملی روز بروز مشکل ہوتی جا رہی ہے۔ اگرچہ تنازع موسم بہار یا موسم گرما کے وسط میں ہونے والی کشیدگی کے مقابلے میں اب بھی کم شدید ہے، لیکن دونوں جانب سے حالیہ دنوں میں ایک دوسرے کے خلاف جوابی حملے کیے گئے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی قیادت آبنائے ہرمز میں کئی ماہ سے بحری آمدورفت متاثر کرنے اور ملک کے اندر نسبتاً کم بے چینی کے باعث مزید پراعتماد ہو چکی ہے، اس لیے وہ وقفے وقفے سے امریکی اور خلیجی اتحادیوں کے اہداف، جن میں فوجی اڈے، بحری جہاز اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ شامل ہیں، کو نشانہ بناتی رہ سکتی ہے۔

امریکا پر جوابی کارروائی کے لیے دباؤ بڑھے گا، جس سے کشیدگی میں اضافے کا ایسا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے جو دونوں ممالک کو دوبارہ مکمل فضائی جنگ کی طرف لے جائے، خواہ امریکی انتظامیہ ایسا چاہتی ہو یا نہیں۔

گزشتہ ہفتے کے اختتام پر امریکا نے ایران کے جزیرے لارک میں راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا، جس کے بعد ایران نے اردن اور متحدہ عرب امارات کی جانب میزائل داغے۔ منگل کو امریکا نے آبنائے ہرمز کے اطراف مزید ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ جولائی کے بعد یہ لڑائی کا سب سے بڑا پھیلاؤ تھا، جس میں ایران میں فوجی اہلکاروں اور شہریوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔

سابق امریکی صدر جو بائیڈن کے دور میں مشرق وسطیٰ کے لیے محکمہ خارجہ کی اعلیٰ عہدیدار رہنے والی باربرا لیف نے کہا کہ ایرانی حکومت کے پاس ’’پُرسکون ماحول‘‘ کو خراب کرنے کی ہر وجہ موجود ہے، کیونکہ انتظامیہ کا واضح مقصد ایران پر اقتصادی دباؤ میں بڑے پیمانے پر اضافہ کرنا ہے۔

ایک اور غیر یقینی عنصر خود ٹرمپ ہیں۔

رائٹرز/اِپسوس کے سروے کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد صدر ٹرمپ کی مقبولیت 40 فیصد سے کم ہو کر 33 فیصد رہ گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ فی الحال وہ کشیدگی بڑھانے میں دلچسپی نہیں رکھتے، لیکن وہ اپنا مؤقف تبدیل کرنے کے لیے مشہور ہیں اور حالات کے مطابق پالیسی تبدیل کر سکتے ہیں۔

ٹرمپ نے منگل کو دھمکی دی کہ اگر ایران نے تازہ امریکی حملوں کا جواب دیا تو وہ تنازع مزید بڑھا دیں گے۔

انہوں نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اگر ایران نے اس ’’بالکل جائز حملے‘‘ کا جواب دیا تو اسے اس سے کہیں زیادہ سخت حملے کا سامنا کرنا پڑے گا، تاہم یہ سب سے بڑا حملہ نہیں ہوگا کیونکہ ’’وہ حملہ ابھی پردے کے پیچھے تیار ہے۔‘‘

لاجسٹک اور سیاسی رکاوٹیں

ٹرمپ عوامی طور پر کہہ چکے ہیں کہ آنے والے انتخابات ایران سے متعلق ان کی حکمت عملی میں کوئی کردار ادا نہیں کر رہے۔

تاہم جنگ ساتویں ماہ میں داخل ہونے کے ساتھ ہی وائٹ ہاؤس کو لاجسٹک اور سیاسی حقائق کی وجہ سے بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا، ’’ٹائم ٹیبل تبدیل ہو چکا ہے۔‘‘ ایک اور عہدیدار نے کہا کہ ’’کیلنڈر ایران سے متعلق فیصلوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔‘‘

رائٹرز نے اگست میں رپورٹ کیا تھا کہ امریکی فوج نے بعض جدید اور درست نشانہ لگانے والے میزائلوں کے اپنے ذخیرے کا ’’تقریباً تمام‘‘ حصہ استعمال کر لیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے اتوار کو رپورٹ کیا کہ بری فوج، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں نے پینٹاگون کے سربراہ پیٹ ہیگستھ کو ایک تحریری جائزے میں خبردار کیا کہ جنگ کو طول دینا قابلِ عمل نہیں اور اس سے دیگر محاذوں پر امریکی فوج کی تیاری متاثر ہوگی۔

پینٹاگون کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کے پاس اپنے مشن کو انجام دینے کے لیے ’’تمام ضروری وسائل‘‘ موجود ہیں۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان اولیویا ویلز نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو تباہ کر دیا ہے اور تاریخ کی طاقتور ترین بحری ناکہ بندی اور سخت پابندیوں کے ذریعے اس کی کمزور معیشت کو مزید مفلوج کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر امریکا کے اندر اور بیرون ملک مفادات کو آگے بڑھاتے رہیں گے اور ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

علاقائی سفارت کاروں کے مطابق امریکا کے خلیجی اتحادیوں، جن میں سے بعض نے جنگ کے ابتدائی مرحلے میں ایران کو کمزور کرنے کے لیے جارحانہ کارروائی کی حمایت کی تھی، نے جولائی کے آخر میں حملوں کے ایک حالیہ سلسلے کے بعد وائٹ ہاؤس پر کشیدگی کم کرنے کے لیے زور دیا۔

وائٹ ہاؤس کے دو عہدیداروں کے مطابق نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو ان اعلیٰ سطح کے ٹرمپ معاونین میں شامل ہیں جو نومبر تک ایران کے ساتھ تنازع کو نسبتاً ’’پُرسکون‘‘ رکھنے کی حکمت عملی کی حمایت کرتے ہیں۔

حالیہ ہفتوں میں امریکی انتظامیہ نے اس کے بجائے ایران کو اقتصادی طور پر تنہا کرنے کی مہم تیز کر دی ہے۔ امریکا نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر بھاری پابندیاں عائد کرنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی اپنی ناکہ بندی بھی برقرار رکھی ہے۔

تاہم تجزیہ کاروں اور حکام کے مطابق تجارت پر مرکوز اس حکمت عملی کی بھی اپنی حدود ہیں۔

ایران کئی دہائیوں سے امریکی اور بین الاقوامی پابندیوں کی مختلف تہوں کا سامنا کر رہا ہے، جنہوں نے اس کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا، لیکن اس کی قیادت کو اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کیا۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اتوار کو کہا کہ دباؤ کی یہ مہم ایران کو فوجی ردعمل پر مجبور کر سکتی ہے، جس سے یہ خدشہ پیدا ہو رہا ہے کہ اقتصادی دباؤ کی مہم خود بھی فوجی کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔

اس کے علاوہ چین جیسی بعض بڑی عالمی طاقتوں نے ایران کو تنہا کرنے کی واشنگٹن کی کوشش میں ساتھ نہیں دیا، جس سے اس مہم کی مؤثریت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو الیکس پلیٹساس نے کہا کہ نئی پابندیوں کا مقصد بحری ناکہ بندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اقتصادی دباؤ میں مزید اضافہ کرنا اور ایران کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ نے فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے مقابلے میں اسے بہتر راستہ قرار دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کو اس دباؤ پر تشویش ہے، لیکن چین پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ واشنگٹن کا ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں، جس سے اس حکمت عملی کی مؤثریت پر سوال اٹھتا ہے۔

Comments

200 حروف