فچ نے پاکستان کے ڈالر بانڈ اور میڈیم ٹرم نوٹ پروگرام کو بی مائنس ریٹنگ دیدی
- یہ ریٹنگ پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی ایشوئر ڈیفالٹ ریٹنگ (آئی ڈی آر) کے مطابق ہے
فچ ریٹنگز نے پاکستان کے مجوزہ امریکی ڈالر بانڈ اور میڈیم ٹرم نوٹ (ایم این ٹی) پروگرام کو بی مائنس ریٹنگ تفویض کردی ہے، جبکہ ریکوری ریٹنگ آر آر فور مقرر کی گئی ہے۔ ریٹنگ ایجنسی نے کہا ہے کہ خودمختار ڈیفالٹ کی صورت میں سرمایہ کاروں کے لیے قرض کی واپسی کے امکانات اوسط درجے کے ہیں۔
یہ ریٹنگ پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی ایشوئر ڈیفالٹ ریٹنگ (آئی ڈی آر) کے مطابق ہے، جبکہ آر آر فور ریکوری ریٹنگ ڈیفالٹ کی صورت میں سرمایہ کاروں کے لیے اوسط درجے کی وصولی کے امکانات ظاہر کرتی ہے۔
فچ کے مطابق پاکستانی حکام ایم این ٹی پروگرام کے تحت جاری کیے جانے والے نوٹس سے حاصل رقم کو عمومی بجٹ اور خودمختار مالیاتی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ریٹنگ ایجنسی نے کہا کہ مجوزہ بانڈ کی ریٹنگ میں کسی بھی تبدیلی کا انحصار پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی آئی ڈی آر میں تبدیلی پر ہوگا۔ فچ نے 13 اپریل 2026 کو پاکستان کی لانگ ٹرم فارن کرنسی آئی ڈی آر کو بی مائنس پر برقرار رکھتے ہوئے آؤٹ لک مستحکم قرار دیا تھا۔
فچ نے بیرونی لیکویڈیٹی کی صورتحال اور سرکاری مالیات کو ایسے اہم عوامل قرار دیا ہے جو ریٹنگ میں کمی کا باعث بن سکتے ہیں۔ بیرونی فنانسنگ کے حالات میں دوبارہ بگاڑ، مثلاً طویل عرصے تک تیل کی بلند قیمتیں یا ترسیلات زر میں نمایاں کمی، ریٹنگ پر منفی دباؤ ڈال سکتی ہے۔
اسی طرح مالیاتی استحکام کے عمل میں رکاوٹ سے حکومتی قرضوں میں نمایاں اضافہ اور قرضوں کی ادائیگی کے اشاریوں میں مزید خرابی بھی ریٹنگ میں منفی اقدام کا سبب بن سکتی ہے۔
دوسری جانب فچ کے مطابق بیرونی فنانسنگ کے خطرات میں نمایاں اور پائیدار کمی ریٹنگ میں بہتری کی راہ ہموار کرسکتی ہے۔ اس میں بیرونی فنڈنگ حاصل کرنے کی زیادہ صلاحیت اور زرمبادلہ کے ذخائر میں موجودہ پیش گوئیوں سے زیادہ پائیدار بہتری شامل ہے۔
حکومتی قرض اور قرضوں کی ادائیگی کے بوجھ میں نمایاں کمی بھی ریٹنگ کو بہتر بنا سکتی ہے، خصوصاً اگر پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پروگرام کے تحت مالیاتی استحکام کے اقدامات کامیابی سے نافذ کرے اور ٹیکس آمدن میں ساختی بہتری حاصل کرے۔
فچ نے پاکستان کے لیے گورننس سے متعلق خطرات کو بھی ریٹنگ کے اہم عوامل میں شامل کیا ہے۔ پاکستان کا ای ایس جی ریلیونس اسکور سیاسی استحکام اور حقوق، قانون کی حکمرانی، ادارہ جاتی و ریگولیٹری معیار اور بدعنوانی پر قابو پانے کے حوالے سے 5 ہے۔
ایجنسی کے مطابق یہ اسکور اس کے خودمختار ریٹنگ ماڈل میں ورلڈ بینک گورننس انڈیکیٹرز (ڈبلیو بی جی آئی) کو دی جانے والی اہمیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ پاکستان کی ڈبلیو بی جی آئی درجہ بندی بدستور کم ہے اور ملک 18ویں پرسنٹائل پر ہے۔
مجوزہ ایم این ٹی پروگرام کا مقصد حکومت کو بیرونی فنانسنگ حاصل کرنے کے لیے ایک اضافی ذریعہ فراہم کرنا ہے، جبکہ پاکستان اپنی مالیاتی پوزیشن مستحکم کرنے اور بیرونی مالیاتی ذخائر میں بہتری لانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
فچ کی ریٹنگ اس امر کی بھی نشاندہی کرتی ہے کہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ پروفائل بیرونی لیکویڈیٹی کے دباؤ، قرضوں کی ادائیگی کی ضروریات اور مالیاتی استحکام کی رفتار کے حوالے سے بدستور حساس ہے۔
بی مائنس ریٹنگ اسپیکیولیٹو کیٹیگری میں شامل ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کی مالی ذمہ داریاں پوری کرنے کی صلاحیت فی الحال مناسب سمجھی جاتی ہے، تاہم اس صلاحیت کو منفی اقتصادی، مالیاتی اور بیرونی عوامل سے خطرات لاحق ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments