اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس 500 سے زائد پوائنٹس گرگیا
- بینچ مارک انڈیکس 176,466.99 پوائنٹس پر بند ہوا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں منگل کو اتار چڑھاؤ کے بعد کاروبار کے اختتام پر 500 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
کے ایس ای 100 انڈیکس نے کاروباری سیشن کا آغاز مثبت انداز میں کیا اور دورانِ کاروبار 177,800.28 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
تاہم کاروبار کے آخری اوقات میں فروخت کا دباؤ دیکھا گیا، جس کے باعث انڈیکس 176,375.01 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 508.69 پوائنٹس یا 0.29 فیصد کمی کے بعد 176,466.99 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی مارکیٹ رپورٹ میں کہا کہ مقامی اسٹاک مارکیٹ میں آج اتار چڑھاؤ کا رجحان رہا اور جاری امریکا ایران تنازع اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں پر اس کے اثرات کے باعث بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے درمیان مارکیٹ مسلسل تیزی اور مندی کے درمیان جھولتی رہی۔
رپورٹ کے مطابق ریفائنری سیکٹر آج بھی سرمایہ کاروں کی توجہ کا مرکز رہا، جہاں نمایاں سرمایہ کاری دلچسپی دیکھی گئی اور کاروباری حجم میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ مارکیٹ میں یہ بات زیرِ گردش ہے کہ پانچ ریفائنریز رواں ہفتے اپنے طویل عرصے سے زیرِ التوا اپ گریڈیشن معاہدوں پر دستخط کرسکتی ہیں، جس سے پورے شعبے میں قیاس آرائیوں اور خریداری کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہوا۔ سرمایہ کاروں کی توجہ بدستور اس شعبے پر مرکوز رہی، جس کے باعث ریفائنریز مقامی اسٹاک مارکیٹ میں سب سے زیادہ زیرِ بحث شعبوں میں شامل رہیں۔
ٹاپ لائن کے مطابق مثبت کردار ادا کرنے والے نمایاں حصص میں ایس وائی ایس، اینگرو، ای ایف ای آر ٹی، او جی ڈی سی اور اے جی پی شامل رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں تقریباً 359 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔
دوسری جانب ایم ای بی ایل، ایم سی بی اور بی اے ایف ایل نمایاں منفی اثر ڈالنے والے حصص رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس سے تقریباً 294 پوائنٹس کم کیے۔
ادھر پیر کو امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافے نے پی ایس ایکس میں سرمایہ کاروں کے جذبات کو متاثر کیا۔ 100 انڈیکس 720.83 پوائنٹس یا 0.41 فیصد کی کمی سے 176,975.68 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر منگل کو بانڈز کی فروخت کے باعث ییلڈز نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی جبکہ مشرق وسطیٰ میں دوبارہ شروع ہونے والی لڑائی نے تیل کی قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر دیں اور دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں پر دباؤ بڑھا دیا۔
امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ، جو مختلف اثاثہ جاتی طبقات کی قیمتوں کے لیے ایک اہم پیمانہ ہے 2.2 بیسس پوائنٹس بڑھ کر تقریباً 20 ماہ کی بلند ترین سطح 4.78 فیصد پر پہنچ گئی۔ جاپان کی 10 سالہ بینچ مارک ییلڈ بھی 3 فیصد کے قریب پہنچ گئی۔
امریکی فیوچرز میں استحکام رہا جبکہ وال اسٹریٹ کے انڈیکسز گزشتہ شب معمولی کمی کے ساتھ بند ہوئے۔ تاہم جمعہ کو جاری ہونے والے امریکی روزگار کے اعدادوشمار سے قبل سرمایہ کار محتاط نظر آئے کیونکہ یہ اعدادوشمار رواں ماہ ہی شرح سود میں اضافے کی راہ ہموار کرسکتے ہیں۔
تیل کی بلند قیمتیں اور امریکا، ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی مہنگائی کے خدشات کو ہوا دے رہی ہیں جو بانڈز کے لیے منفی ہے جبکہ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے شرح سود کے مستقبل کے حوالے سے توقعات تبدیل کر دی ہیں۔ گزشتہ ہفتے کے آخر میں ایک خطاب میں انہوں نے عندیہ دیا تھا کہ اگر قیمتوں کے دباؤ میں کمی کے آثار نظر نہ آئے تو پالیسی ساز اقدامات کرسکتے ہیں۔
جاپان کے نکئی انڈیکس میں ابتدائی کاروبار کے دوران 0.2 فیصد کمی ہوئی جبکہ ہینگ سینگ 0.7 فیصد گر گیا، اور مارکیٹ پر کپڑوں کے ریٹیلر شین گلوبل کے کمزور آغاز کا اثر نمایاں رہا۔
مارکیٹیں بدھ کو نیوزی لینڈ میں شرح سود میں اضافے اور اگلے ہفتے یورپ میں شرح سود بڑھنے کی توقع کر رہی ہیں جبکہ امریکا اور جاپان میں رواں ماہ شرح سود میں اضافے کے امکانات 50 فیصد سے زیادہ ہیں۔
دریں اثنا منگل کو پاکستانی روپے نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی بہتری کا سلسلہ جاری رکھا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کی بہتری کے ساتھ 277.46 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم کم ہوکر 784.46 ملین شیئرز رہا، جو گزشتہ سیشن میں 937.27 ملین شیئرز ریکارڈ کیا گیا تھا۔حصص کی مالیت بھی کم ہوکر 37.41 ارب روپے رہی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 39.13 ارب روپے تھی۔
سب سے زیادہ کاروبار سینرجیکو پی کے کے حصص میں ہوا، جن کے 191.73 ملین شیئرز کا لین دین ہوا۔ اس کے بعد پاک ریفائنری کے 58.15 ملین اور ورلڈ کال ٹیلی کام کے 40.78 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا۔
منگل کو مجموعی طور پر 498 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 174 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 292 میں کمی جبکہ 32 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔



Comments