پمز آتشزدگی، وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران سکندر سمیت 8 افسران معطل کردئیے
- وزیراعظم شہباز شریف نے ذمہ داروں کے خلاف محکمانہ اور فوجداری کارروائی کا حکم دیا ہے
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عمران سکندر سمیت 8 افسران کو فوری طور پر معطل کرنے کا حکم دے دیا۔ ان افسران کو تحقیقاتی کمیٹی نے پمز کے نوزائیدہ بچوں کے وارڈ میں لگنے والی اس آگ کا ذمہ دار قرار دیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم 14 بچے جاں بحق ہوئے۔
وزیراعظم آفس (پی ایم او) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق واقعے پر اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم نے ذمہ دار افراد کے خلاف محکمانہ کارروائی کے ساتھ فوجداری کارروائی شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔
معطل کیے جانے والے افسران میں شامل ہیں:
- پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عمران سکندر
- جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور ڈاکٹر اویس علی شاہ
- شعبہ نوزائیدہ بچوں کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر سعدیہ ریاض
- سینئر رجسٹرار ڈاکٹر نغمہ
- ڈاکٹر نوشیلہ امجد
- پمز کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر سکیورٹی محمد عثمان
- سی ڈی اے کے ڈائریکٹر جنرل ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر عبدالرحمن
وزیراعظم نے پمز میں تعینات سکیورٹی کمپنی اور اس کے متعلقہ حکام کے خلاف بھی کارروائی کی منظوری دے دی۔
انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ (این آئی ایچ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر محمد سلمان کو پمز کا قائم مقام ایگزیکٹو ڈائریکٹر مقرر کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے عہدوں سے ہٹائے گئے افسران کی جگہ فوری طور پر نئے افسران تعینات کرنے کا بھی حکم دیا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ فوری طور پر منظرِ عام پر لائی جائے اور اسے وزارتِ قومی صحت کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کیا جائے۔
وزیراعظم آفس کے بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا، ”مجرمانہ غفلت کے ذمہ دار کسی رعایت کے مستحق نہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی مثالی سزا یقینی بنائی جائے گی تاکہ مجرمانہ غفلت کے باعث کسی ماں کو اس کے بچے سے محروم نہ ہونا پڑے۔
تحقیقاتی کمیٹی نے قرار دیا کہ پمز میں آگ یا دیگر ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے مفصل معیاری طریقۂ کار (ایس او پیز) یا تربیت موجود نہیں تھی۔ اسپتال کے 13 ایس او پیز میں سے صرف دو ذیلی حصوں میں آگ یا ہنگامی صورت حال کا ذکر پایا گیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ واقعے کے وقت کوئی نگران عملہ ڈیوٹی پر موجود نہیں تھا۔ اس وقت وارڈ میں دو نرسیں، ایک خاتون سکیورٹی گارڈ اور ایک ہاؤس آفیسر موجود تھے۔
بریفنگ کے مطابق آگ لگنے کے 6 منٹ بعد ایمرجنسی سروسز کو کال کی گئی، جبکہ پہلی امدادی ٹیم 15 منٹ بعد موقع پر پہنچی۔
وارڈ میں نہ فائر الارم تھا اور نہ اسپرنکلر سسٹم، جبکہ نوزائیدہ بچوں کا شعبہ عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی متعلقہ ضروریات کی خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ جولائی میں پمز کے نرسنگ ہاسٹل میں بھی آگ لگی تھی، تاہم اس کے بعد حفاظتی اقدامات کے لیے کوئی سنجیدہ قدم نہیں اٹھایا گیا۔
اسپتال میں فائر ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے کوئی مخصوص افسر بھی تعینات نہیں تھا، بلکہ یہ ذمہ داری اضافی چارج کے طور پر ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر کو سونپی گئی تھی۔
اجلاس کو اسپتال کی خستہ حالی اور انتظامی بدانتظامی کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے آگ کے دوران اپنی جان خطرے میں ڈال کر ایک بچے کو بچانے والی نرس رضیہ نورین کو ستارۂ خدمت دینے اور ایک کروڑ روپے نقد انعام دینے کی منظوری دی۔
انہوں نے وارڈ میں موجود ایک نرس اور ایک خاتون سکیورٹی گارڈ کو مزید تحقیقات مکمل ہونے تک آفیسرز آن اسپیشل ڈیوٹی (او ایس ڈی) مقرر کرنے کا بھی حکم دیا۔
اجلاس میں تحقیقاتی کمیٹی کی عبوری رپورٹ پیش کی گئی، جس کے ساتھ واقعے کی تقریباً دو منٹ دورانیے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی دکھائی گئی۔
وزیراعظم نے تحقیقاتی کمیٹی کے چیئرمین شاہد خان اور ارکان کا شکریہ ادا کیا اور انہیں تحقیقات مکمل کرکے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔
وفاقی وزرا احسن خان چیمہ، عطااللہ تارڑ اور سید مصطفیٰ کمال، کمیٹی کے چیئرمین شاہد خان، ارکان بیرسٹر نبیل اعوان اور میجر جنرل (ر) خورشید اُترا سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔
پمز آتشزدگی کی تحقیقات: فائر سیفٹی اور طبی سہولیات ’ناکافی‘ قرار
اسلام آباد میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) کی نرسری میں پیش آنے والی المناک آتشزدگی کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ مکمل کرکے وزیراعظم شہباز شریف کو پیش کردی گئی تھی۔ آج نیوز نے ہفتے کو ذرائع کے حوالے سے یہ رپورٹ کیا۔
ذرائع کے مطابق سابق سیکریٹری داخلہ شاہد خان کی سربراہی میں قائم تحقیقاتی کمیٹی نے رپورٹ تیار کرکے وزیراعظم کے مشیر توقیر شاہ کو پیش کی، جنہوں نے بعد ازاں یہ رپورٹ وزیراعظم کو بھجوادی۔
تحقیقاتی کمیٹی کے تمام ارکان کے دستخط شدہ رپورٹ کو تاحال منظرِ عام پر نہیں لایا گیا تھا۔
تحقیقاتی رپورٹ میں پمز میں طبی اور فائر سیفٹی کی ناکافی سہولیات کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا گیا کہ اسپتال میں موجود حفاظتی انتظامات میں سے کوئی بھی بین الاقوامی معیار پر پورا نہیں اترتا۔
کمیٹی نے اسپتال کے منتظمین اور ڈاکٹروں کے تفصیلی بیانات کے ساتھ فائر فائٹرز اور ریسکیو ٹیموں کے بیانات بھی قلم بند کیے۔ رپورٹ میں ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے دوران پیش آنے والی مشکلات کو بھی اجاگر کیا گیا۔
کمیٹی نے واقعے کے وقت ڈیوٹی سے غیر حاضر متعلقہ عملے کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش کی تھی۔
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے فائر ڈیپارٹمنٹ کی ایک سابقہ رپورٹ میں بھی بتایا گیا تھا کہ اسپتال کا فائر ایگزٹ بند اور مستقل طور پر مقفل تھا۔ رپورٹ میں مزید الزام عائد کیا گیا تھا کہ سکیورٹی اہلکاروں نے فائر بریگیڈ کی ٹیموں کو ابتدائی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی۔
دریں اثنا، سانحے کے روز پیش آنے والے واقعات اور انتظامیہ کے ردعمل کی ترتیب کے حوالے سے حکام اور عینی شاہدین کے بیانات میں تضاد سامنے آیا۔
وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آگ 26 اگست کو صبح تقریباً 6 بج کر 38 منٹ پر ایئر کنڈیشنر سے نکلنے والی چنگاری سے شروع ہوئی ہوگی، جبکہ ویڈیو فوٹیج میں لوگوں کو تقریباً 6 بج کر 39 منٹ پر وارڈ خالی کرتے دیکھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ وارڈ میں موجود 14 نومولود بچوں کو آکسیجن لگی ہوئی تھی، جس کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔ ان کے مطابق اسپتال میں خودکار فائر اسپرنکلر سسٹم موجود نہیں تھا اور آگ بجھانے کے لیے 26 فائر ایکسٹنگوشرز استعمال کیے گئے۔
کمال نے کہا کہ اسپتال انتظامیہ کو جاری کیے گئے نوٹسز پر عملدرآمد کی کوششیں کی گئی تھیں۔
تاہم پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر رانا عمران سکندر نے فائر ایگزٹ بند ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی چوری کے سابقہ واقعات کے باعث ایک دروازے تک رسائی محدود تھی، تاہم اسے مقفل نہیں کیا گیا تھا۔
ریسکیو ٹیموں کے جائے وقوعہ پر پہنچنے میں لگنے والے وقت اور متاثرین کی باقیات کی شناخت اور اہلِ خانہ کے حوالے کیے جانے کے معاملے پر بھی سوالات اٹھائے گئے تھے۔
اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے عینی شاہد خرم محمود، جن کی تین روزہ بیٹی آتشزدگی میں جاں بحق ہوئی، نے دعویٰ کیا کہ امدادی کارکنوں کو پہنچنے میں کئی گھنٹے لگے اور متاثرین مدد کے انتظار میں سڑک کنارے پڑے رہے۔
ایک اور عینی شاہد عبدالغفور نے بتایا کہ وارڈ دھویں سے بھر گیا تھا اور دعویٰ کیا کہ ریسکیو ٹیمیں تقریباً دو گھنٹے بعد پہنچیں۔
تاہم وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اطلاع ملنے کے 6 منٹ کے اندر ریسکیو ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ گئی تھیں۔
چوہدری نے مزید کہا کہ تمام 14 نومولود بچوں کی باقیات ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کرنے سے قبل مکمل طور پر شناخت کی تصدیق کی گئی۔ اس مقصد کے لیے بچوں کی کلائیوں پر لگے شناختی بینڈز، طبی ریکارڈ اور دستیاب فرانزک سہولیات سے مدد لی گئی۔
انہوں نے کہا کہ تحقیقات میں یہ بھی تعین کیا جائے گا کہ ہنگامی اخراج کے راستے ناقابلِ رسائی کیوں تھے اور واقعے کے وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کے ردعمل کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔
پمز کی نرسری میں آتشزدگی کے نتیجے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے، جس کے بعد سرکاری اسپتالوں میں احتساب اور فائر سیفٹی و ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کی تیاریوں میں جامع بہتری کے مطالبات سامنے آئے ہیں۔


Comments