BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.20 (-0.35%)
BIPL 24.74 Decreased By ▼ -0.22 (-0.88%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.95 Decreased By ▼ -0.17 (-1.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 186.54 Decreased By ▼ -5.91 (-3.07%)
FABL 93.60 Decreased By ▼ -0.54 (-0.57%)
FCCL 51.50 Decreased By ▼ -1.29 (-2.44%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 18.96 Decreased By ▼ -0.60 (-3.07%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 198.85 Decreased By ▼ -2.57 (-1.28%)
HUMNL 9.80 Decreased By ▼ -0.36 (-3.54%)
KEL 6.03 Decreased By ▼ -0.06 (-0.99%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.00 Decreased By ▼ -2.16 (-2.32%)
OGDC 313.67 Decreased By ▼ -3.06 (-0.97%)
PAEL 35.27 Decreased By ▼ -0.36 (-1.01%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.18 Decreased By ▼ -5.73 (-2.53%)
PRL 90.91 Decreased By ▼ -2.11 (-2.27%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.60 Decreased By ▼ -0.37 (-2.85%)
TRG 55.91 Decreased By ▼ -0.65 (-1.15%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

متنازع ٹیلی کام بل سینیٹ سے واپس لے لیا گیا

  • رواں سال 15 جون کو وزیرِ آئی ٹی نے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

حکومت نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا سے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل 2026 واپس لے لیا۔

وزیرِ مملکت طلال چوہدری نے وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ کی جانب سے سینیٹ کے 363ویں اجلاس کے آخری روز بل کی واپسی کے لیے ایک تحریک پیش کی۔

شزا فاطمہ خواجہ اجلاس میں موجود نہیں تھیں۔

ایوان کی طرف سے قرارداد کی منظوری کے بعد بل واپس لے لیا گیا۔

رواں سال 15 جون کو وزیرِ آئی ٹی نے یہ بل سینیٹ میں پیش کیا تھا۔

بل کے ذریعے حکومت کو یہ اختیار دینے کی تجویز دی گئی تھی کہ وہ کسی بھی ایسے مالک لیز دار، کرایہ دار یا ادارے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرسکے جو ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کے لائسنس یافتہ ادارے کو حقوق دینے میں رکاوٹ ڈالے یا تاخیر کرے۔

بل متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔

اس سے قبل قومی اسمبلی یہ بل پہلے ہی منظور کرچکی تھی۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) (ترمیمی) بل 2026 کے ذریعے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 میں ترمیم کی تجویز دی گئی تھی، جس کے تحت دفعہ 27B شامل کی جانی تھی۔ اس دفعہ میں کہا گیا تھا کہ ’’متعلقہ حکومت کسی بھی ایسے مالک، لیز دار، کرایہ دار یا ادارے پر 5 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرسکتی ہے جو ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم کے لائسنس یافتہ ادارے کو حق دینے میں رکاوٹ ڈالے یا تاخیر کرے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف