نیپال، تبت سرحد پر لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی جھیل اوور فلو، امدادی کام معطل
- نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 469 ہوگئی، تقریباً ایک ہزار افراد لاپتا
نیپال اور چین کی سرحد پر لینڈ سلائیڈنگ سے بننے والی جھیل اوور فلو ہوگئی جس سے دو روز قبل اچانک آنے والے سیلاب سے تباہ ہونے والے علاقوں کو دوبارہ خطرہ لاحق ہوگیا۔ حکام کو امدادی کارروائیاں عارضی طور پر روکنا پڑیں۔
رائٹرز کے ایک نمائندے کے مطابق چین کے تبت کی سرحد پر واقع نیپال کے ضلع رسوا کے رہائشیوں کو دریا کے پانی میں کسی بھی اضافے سے بچنے کے لئے پہاڑیوں کی طرف تیزی سے بھاگتے ہوئے دیکھا گیا۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے سی سی ٹی وی کے مطابق جھیل کے اوور فلو کے خدشے کے پیش نظر چین کے تمام امدادی اہلکاروں اور گاڑیوں کو محفوظ مقام پر واپس بلا لیا گیا جہاں انہیں صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نیپال کے ایک فوجی افسر نے بتایا کہ نیپالی حکام نے اگلے 90 منٹ کے لیے امدادی کارروائیاں روک دی ہیں۔
بدھ کو خطے میں گلیشیئر کے ٹوٹنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی مصدقہ تعداد نیپال میں بڑھ کر 469 ہوگئی جبکہ نیپال اور تبت میں تقریباً ایک ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں۔
گلیشیئر کے ٹوٹنے کے بعد چٹانوں، برف، کیچڑ اور ملبے پر مشتمل پانی کا ایک بہت بڑا ریلا ہمالیائی پہاڑی دریائی نظام سے گزرتا ہوا تباہی مچاتا رہا۔
سیلاب نے دیہات اور وادیوں میں تباہی مچادی جس کے نتیجے میں بجلی گھر، سڑکیں اور پل تباہ ہوگئے۔ یہ راستہ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کو تبت کے شہر لہاسا سے ملاتا ہے اور سیاحوں، ٹریکرز اور زائرین میں مقبول ہے۔
لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی شہری شامل ہیں۔
سیلاب کے نتیجے میں ملبہ جمع ہونے سے ایک عارضی جھیل بن گئی تھی جس سے تباہ حال زیریں علاقوں کی آبادیوں میں مزید سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا۔
چین نے جمعرات کو جھیل کا فضائی جائزہ لینے اور اس کی تھری ڈی ماڈلنگ کے لیے آٹھ رکنی انجینئرنگ ٹیم تعینات کی۔
جمعہ تک جھیل میں پانی کا ذخیرہ بڑھ کر 25 لاکھ مکعب میٹر سے تجاوز کرگیا جبکہ ایک روز قبل انجینئرنگ ٹیم نے اس میں پانی کی مقدار 15 لاکھ سے 20 لاکھ مکعب میٹر کے درمیان ہونے کا تخمینہ لگایا تھا۔


Comments